• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بھوک اور ہجرت کی صعوبتیں یا کورونا وائرس ۔ انڈیا میں بڑی تباہی کے شدید خطرات ۔۔ غیور شاہ ترمذی

بھوک اور ہجرت کی صعوبتیں یا کورونا وائرس ۔ انڈیا میں بڑی تباہی کے شدید خطرات ۔۔ غیور شاہ ترمذی

ایک ارب 30 کروڑ لوگوں کے انڈیا میں اب تک کورونا وائرس سے 58 اموات ہو چکی ہیں، جبکہ 2 ہزار سے زیادہ متاثرین موجود ہیں لیکن انڈیا میں پھیلی سراسمیگی، خوف کی فضاء میں ہونے والی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت نے زیادہ بڑے انسانی المیہ کو جنم دے دیا ہے۔ انڈین وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی نے 24 مارچ کو اُس وقت پورے ملک میں 21 دن طویل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا جب انڈیا میں 17 لوگوں کی کورونا سے ہلاکت اور 700 سے زیادہ افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی خبریں منظر عام پر آئیں۔ افراتفری میں کیے اس اعلان اور لاک ڈاؤن کی شروعات میں ایک ارب 30 کروڑ لوگوں کو صرف 4 گھنٹے کا وقت دیا گیا۔ اس قلیل وقت والے نوٹس کے بعد انڈیا کے بڑے شہروں میں مقیم اُن ساڑھے 4 کروڑ سے زیادہ مزدوروں نے اپنے آبائی علاقوں کی طرف رخ کر لیا جن کے پاس رہنے کو کوئی گھر نہیں تھے۔ مجموعی طور پر انڈیا میں لیبر یعنی مزدور کے طور پر کام کرنے والوں کی کل تعداد 47 کروڑ ہے مگر اِن میں ساڑھے 4 کروڑ ایسے مزدور بھی شامل ہیں جو گاؤں، دیہاتوں اور چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں میں مزدوری کرنے آتے ہیں۔ ان کے پاس رہنے کے لئے جگہ نہیں ہوتی اس لئے یا تو یہ فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں یا پھر زیرتعمیر عمارات میں مزدوری کرتے ہیں اور وہیں سو جاتے ہیں۔ لاک داؤن کی وجہ سے جب انہیں رہنے کی یہ جگہیں خالی کرنی پڑیں اور انہیں کھانے کی تنگی ہوئی تو انہوں نے اپنے آبائی علاقوں کی طرف واپسی کا رُخ کر لیا۔

کالم نگار:غیور شاہ ترمذی

اس موقع پر کورونا وائرس کے خوف کے علاوہ ایک اور بڑی مصیبت ان کی منتظر تھی۔ بیک وقت ساڑھے 4 کروڑ لوگ جب اپنے گاؤں دیہاتوں کی طرف جانے کے لئے ٹرانسپورٹ لینے نکلے تو یہ خوفناک انکشاف ہوا کہ اب واپسی کے لئے انہیں ٹرین، بس، گاڑی وغیرہ نہیں مل سکتی یا اگر کہیں کوئی ایک آدھ مل بھی رہی ہو تو اُن کے کرائے اتنے ہوش رُبا ہیں کہ وہ انہیں ادا ہی نہیں کر سکتے۔ شہروں میں رہتے ہوئے ان مزدروں میں کورونا وائرس کی دہشت سرایت کر چکی تھی اور اِن سب کا خیال تھا کہ وہ اپنے گاؤں، دیہاتوں میں کورونا وائرس کے جان لیوا حملوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ شہروں میں تو اِن کے پاس رہنے کی کوئی جگہ ہی نہیں تھی تو ٹرانسپورٹ نہ ملنے کا حل انہوں نے یوں نکالا کہ ان کی بہت بڑی اکثریت پیدل ہی اپنے گاؤں کی طرف چل نکلی۔ اس موقع پر معروف انڈین اخبار انڈین ایکسپریس نے سرخی لگائی کہ ’’ ٹرانسپورٹ غائب ۔ انڈیا پیدل گھر کو جا رہا ہے‘‘۔ صرف یہ سوچنا ہی آسان ہے کہ ساڑھے 4 کروڑ لوگوں  میں سے کم از کم 4 کروڑ لوگ بیک وقت ہائی وے سڑکوں پر پیدل چلے جا رہے ہوں مگر ذرا تصور کیجیے، کہ بھوکے پیاسے اور راستہ میں آرام کے لئے کوئی ٹھکانہ نہ ہونے کے دشوار ترین مرحلہ میں یہ لوگ کیسے اپنے گھروں تک پہنچیں گے۔ ان لوگوں میں کئی ایک ایسے بھی ہیں جن کے گاؤں، دیہات ان کے کام کرنے والے شہروں سے ایک ہزار کلومیٹر یا اس سے بھی زیادہ فاصلوں پر واقع ہیں۔

یہ انڈین مزدور ویسے بھی اُن کے یہاں بہت پسا ہوا طبقہ ہیں۔ انہیں بہت معمولی اجرت ملتی ہے اور اُن کی اکثریت کو فٹ پاتھوں سمیت ایسی جگہوں پر سونا پڑتا ہے جہاں حفظان صحت کی صورتحال انتہائی خراب ہوتی ہے۔ نارمل حالات میں انڈیا میں ایک ہنر مند مزدور یعنی مستری وغیرہ دن میں 400 انڈین روپے (5.34 ڈالر) تک کما لیتے ہیں مگر اس کمائی کا بڑا حصہ وہ گھر بھیج دیتے ہیں۔یہ مزدور بڑے شہروں کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گھروں کی تعمیر کرنا، کھانا بنانا، ریستوران میں کام کرنا، تیار کھانے ادھر اُدھرپہنچانا، بال کاٹنا اور سیلون کی خدمات سر انجام دینا، آٹو موبائل کی صنعت میں کام سے لے کر ٹوائلٹ کی صفائی اور دوسرے کاموں کے علاوہ اخبارات کی ترسیلات کو یقینی بناتے ہیں۔اپنے گاؤں کی غربت سے بھاگ کر آئے ہوئے ان کروڑوں مزدوروں کی بڑی تعداد تنگ علاقوں میں گندے گھروں میں رہتی ہے اور زندگی میں آگے بڑھنے کے خواب دیکھتی ہے۔اس لاک ڈاؤن نے انھیں راتوں رات پناہ گزین بنا کر رکھ دیا۔ان کے کام کی جگہیں بند ہوگئیں اور زیادہ تر ملازمین اورٹھیکیدار جو انھیں ادائیگی کرتے تھے، وہ پہلے ہی فرار ہو گئے تاکہ انہیں غریب پردیسی مزدوروں کو اُن کی واجب الادا رقوم نہ دینی پڑیں۔

اپنے پاس نہایت کم پیسے موجود ہونے کی وجہ سے کروڑوں مزدوروں پر مشتمل مرد، خواتین اور بچوں نے اپنے سفر کا آغاز کیا تو وہ اپنے ضروری سامان کو عام تھیلوں میں سمیٹ کر لے آئے۔ ان میں خوراک، پانی اور کپڑے بھی شامل تھے۔ نوجوان مردوں نے ان تھیلوں کو اٹھا رکھا تھا۔ جب بچے چلتے چلتے تھک جاتے تو ان کے والدین انھیں کاندھوں پر اٹھا لیتے۔ انھوں نے دن کو  تپتی  دھوپ اور رات کو چمکتے ستاروں کی چاندنی میں اپنا سفر طے کیا اور کئی ایک تو ابھی تک حالتِ سفر میں ہیں۔ ان میں سے اکثر کے پاس پیسے ختم ہو رہے تھے اور انھیں یہ ڈر تھا کہ وہ کہیں فاقوں پرمجبور نہ ہو جائیں۔مسلسل بڑھتی گرمی میں یہ لوگ جوتے پہنے مگر کچھ ایک ننگے پاؤں بھی پکی سڑک اور ملحق کچے راستوں پر چل رہے ہیں اور اُن کی اکثریت خوراک کے لئے پانی بسکٹ اور سگریٹ نوشی کے طو رپر استعمال ہونے والی بیڑی کھا کر گزارا کر رہی ہے۔راستے میں بھوک اور مشکلات کے باوجود یہ سب مزدور اپنے آبائی علاقوں تک پہنچنے کے لئے بہت زیادہ بے تاب ہیں۔ ان کے مطابق گاؤں ان کے لئے خوراک اور آرام کا ذریعہ ہے۔ان پیدل سفر کرنے والوں کی اکثریت جب سورج غروب ہوتا ہے تو پیدل سفر روک کر سو جاتے ہیں مگر کئی ایک ایسے بھی ہیں جو دن میں آرام کرتے ہیں اور رات میں سفر کرتے ہیں۔ سڑکوں اور مرکزی شاہراہوں پر رواں دواں لاکھوں، کروڑوں مزدوروں کی اتنی بڑی تعداد کے موجود ہونے سے اس موذی وباء کے پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔پیدل چل کر سینکڑوں ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ عبور کرتے ان مزدوروں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ اس دوران کورونا وائرس اُن پر حملہ آور ہوا تو وہ لوگ چلتے چلتے ہی مر جائیں گے۔ کچھ بدقسمت ایسے بھی تھے کہ وہ 7/8 دن مسلسل پیدل چل کر جب 300 سے 400 کلومیٹر فاصلہ طے کر کے اپنے گاؤں پہنچے تو تھکاوٹ اور ہارٹ اٹیک سے ہی مر گئے۔ کچھ ایسے بدقسمت بھی تھے کہ مرکزی شاہراہوں پر پیدل چلتے یا سڑک کے کنارے سوتے ہوئے کوئی ٹرک اُن پر چڑھ گیا۔

انڈیا میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ہجرت پہلی دفعہ کا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے سنہ 1896 ء میں ایسی ہی ایک وبا کے پھوٹنے سے بمبئی کا آدھا شہر خالی ہو کر صحرا کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اسی طرح سنہ 1918ء میں اسپینش فلو کے پیش نظر بمبئی کی آدھی آبادی وہاں سے ہجرت کر گئی تھی۔ برطانوی راج کی طرف سے سخت ظالمانہ قوانین کے تحت بڑے پیمانے پر ڈنڈے کے استعمال سے اس صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی گئی تھی مگر اس کے باوجود بھی ہزاروں لوگ بمبئی چھوڑ کر نکل گئے۔ انگریز سرکار کی طرف سے لاک ڈاؤن کی سختی کی وجہ سے وباء پر قابو پانے میں مدد ملی لیکن شہر چھوڑ کر جانے والے اس وباء کو اپنےساتھ لے گئے جس سے یہ ہر طرف پھیل گئی تھی۔ سنہ 1947ء میں انگریزوں سے انڈیا کو ملنے والی آزادی میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو ہجرت کرنا پڑی تھی جس کے دوران خونی تصادم اور جھڑپوں میں لاکھوں لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ اسی طرح سنہ 1994 ء میں بھی انڈیا کے صنعتی شہر سورت میں جب وبا پھوٹی تو بڑے پیمانے پر لوگوں نے ہجرت کی تھی۔ سنہ 2005ء میں بمبئی میں آنے والے سیلاب کے بعد بہت سے مزدور شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ان تمام ہجرتوں کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ ثابت ہوتا ہے کہ شہر لوگوں کو معاشی سکیورٹی تو دے سکتے ہیں مگر غریب مزدور لوگوں کی معاشرتی سکیورٹی ان کے اپنے گاؤں سے ہی جڑی ہوتی ہے، جہاں انھیں خوراک اور رہائش کی ضمانت ہوتی ہے۔ اب جبکہ کام رک گئے ہیں اور ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں تو یہ مزدور لوگ اُسی معاشرتی سکیورٹی کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ واپس گاؤں جا رہے ہیں۔ یہ لاکھوں کروڑوں لوگ پیدل یا بھری بسوں میں اپنے گھروں کو پہنچ جائیں گے۔ وہاں وہ مشترکہ خاندان والے گھروں میں منتقل ہو جائیں گے، جہاں اکثر ان کے بوڑھے والدین بھی رہ رہے ہوتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انڈیا کی 9 ریاستوں کے 56 ضلعوں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے ہجرت کی ہے۔ جوں جوں یہ ہزاروں لوگ اپنے گھروں کو پہنچیں گے یہ مقامات بھی اس وباء سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ وبائی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کرنے والے اداروں سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان 56 اضلاع میں 35 ہزار ویلج کونسل کو حساس قرار دے کر وہاں وائرس کے ٹیسٹ کیے جانے لازمی ہیں۔ ان ٹیسٹوں کے بعد جن لوگوں میں اس وائرس کی تشخیص ہو انھیں مقامی ہسپتالوں اور سہولیات میں علیحدہ رکھا جائے۔اس وقت تک انڈیا میں صرف 2 ہزار کے لگ بھگ لوگوں کے کورونا متاثر ہونے کا ڈیٹا ملا ہے مگر ڈاکٹر اور وبائی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا اس وجہ سے ہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کے لیے بہت کم ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ انڈیا میں اب تک صرف ان لوگوں کا ہی ٹیسٹ کروایا گیا ہے جو بیرون ملک سے آئے تھے یا ایسے کسی شخص کے رابطے میں رہے ہوں۔ لیکن اگر کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کے رابطے میں آ رہا ہے اور اس کے ذریعہ کورونا وائرس دوسروں تک بھی پھیل گیا ہے تو صورتحال اور خراب ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اگر انڈیا میں زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کیے جاتے تو ممکنہ طور پر اور زیادہ کیسز سامنے آتے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں جب ٹیسٹ بڑھیں گے تو مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا۔ یہ تعداد اگلے ایک ہفتے کے بعد ہزاروں سے نکل کر لاکھوں تک بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ انڈیا میں کورونا جیسے جراثیم کا پھیلنا بہت آسان ہے کیونکہ چین کی طرح انڈیا بھی بہت گنجان آبادی والا ملک ہے۔ کورونا وائرس کی کمیونٹی ٹرانسمیشن اب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہر جانب ایک مریض دو نئے کیسز بڑھا رہا ہے۔کمیونٹی ٹرانسمیشن کسی مرض کے پھیلنے کا تیسرا اور خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔ کمیونٹی ٹرانسمیشن تب ہوتا ہے جب کوئی شخص کسی متاثرہ شخص کے رابطے میں آئے بغیر یا کسی متاثرہ ملک کا سفر کیے بغیر ہی اس مرض میں مبتلا ہو جائے۔ایک محتاط اندازہ کے مطابق اگر انڈیا میں کم از کم 20 فیصد آبادی بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو گئی تو انڈیا کی آبادی کے اعتبار سے یہ تعداد کم نہیں ہے۔ اس 20 فیصد آبادی کا مطلب ہے کہ 30 کروڑ افراد کا کورونا وائرس سے متاثر ہونا۔ اس میں صرف 2 فی صد بھی اگر جانبر نہ ہو سکے تو اموات کی تعداد 5 لاکھ سے 6 لاکھ لوگوں کے درمیان ہو سکتی ہے۔

بڑے شہروں سے نکل کر گاؤں تک پہنچنے کی دھن میں لاکھوں، کروڑوں مزدوروں نے انڈیا کی شاہراہوں پر پہنچ کر کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور انڈیا کے بیشتر علاقوں میں اس کی ترسیل کا بندوبست کر دیا ہے۔ جیسے جیسے یہ بحران مزید سنگین ہو رہا ہے ویسے ہی انڈیا کی صوبائی حکومتیں ٹرانسپورٹ، رہائش اور خوراک کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔نریندر سنگھ مودی کی وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والوں کے لئے 22 ارب ڈالرز کے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی پورے انڈیا کی مرکزی شاہراہوں پر پیدل رواں دواں غریب مزدوروں کو اُن کے گاؤں تک پہنچانا انڈین صوبائی حکومتوں کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ جیسے ہی کسی شہر کے بس ٹرمینل پر بسیں آتی ہیں تو ہزاروں مسافروں کو ان پر سوار کرا دیاجاتا ہے۔ اپوزیشن راہنما بیانات دے رہے ہیں کہ مودی سرکار نے بیرون ملک پھنسے شہریوں کو خصوصی پروازوں سے واپس لانے کے لئے تو خاصی تیزی دکھائی لیکن انہوں نے انڈیا کے اندر شہریوں کو مشکلات میں ہی چھوڑ دیا۔ بحران کے دوران گھروں کو واپس جانا ایک فطری عمل ہے۔ جس طرح بیرون ملک پھنسے طلبا، سیاح اور زائرین واپس آنا چاہتے ہیں بالکل اسی طرح ملک کے اندر بڑے شہروں میں کام کرنے والے لوگ گاؤں میں اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔ راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے کچھ لوگوں کو گھر واپس لانے کے لئے تو طیارے بھیج دئیے مگر غریب مزدوروں کی بڑی اکثریت کو گھر جانے کے لئے پیدل ہی چھوڑ دیا۔ انڈین حکمران اور سیاستدان سڑکوں پر چلنے والے ان لوگوں سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ جہاں ہیں، ادھر ہی ٹھہرے رہیں، کیونکہ زیادہ بڑے اجتماعات سے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔حکومتیں ان مزدوروں کو اُن کے گھروں تک پہنچانے کے لئے کرایہ ادا کرنے کے اعلانات بھی کر رہی ہیں اور مختلف جگہوں پر فوڈ سینٹرز بھی قائم کر رہی ہیں۔ مگر دیر سے کیے جانے والے ان اقدامات اب زیادہ مفید نظر نہیں آ رہے۔ لگ یہ رہا ہے کہ وزیر اعظم مودی اور دوسرے انڈین صوبے شہروں سے مزدوروں کے اس بڑے پیمانے پر انخلاء کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ آنے والے چند دنوں میں اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا ریاستیں شہروں سے لوگوں کو واپس لانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا انھیں شہروں میں کھانے پینے، خوراک کی سہولیات اور پیسے دے کر ٹھہرا سکتی ہیں یا نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *