• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نان پشتون فارسی بان پر ظلم کی داستان(دوسرا،آخری حصہ )۔۔۔عمیر فاروق

نان پشتون فارسی بان پر ظلم کی داستان(دوسرا،آخری حصہ )۔۔۔عمیر فاروق

جب تک امریکی موجود تھے انکی چھتری تلے پشتون اشرافیہ اور شمال متحد رہے اس کی ایک وجہ طالبان مخالفت بھی تھی لیکن اب امریکی واپس جارہے ہیں افغان اشرافیہ کی بھرپور کوششوں اور احتجاج کے باوجود انکے رکنے کا کوئی ارادہ نہیں تو دبے ہوئے اندیشے اور باہمی بداعتمادیاں پھر سے سر اٹھا رہی ہیں۔ عبداللہ عبداللہ کے رویے کو اسی نظر سے دیکھنے سے اصل صورت حال سمجھ آسکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ پشتون اشرافیہ اور عبداللہ عبداللہ وغیرہ کے درمیان طالبان مخالفت مشترک ہے لیکن نان پشتون اہل شمال کو جہاں طالبان کی شکل میں امیرعبدالرحمن کی یاد آتی ہے وہاں سیکولر پشتون اشرافیہ میں انکو امیر امان اللہ کی تصویر نظر آتی ہے پشتون نسلی جبر ان دونوں میں یکساں طور سے موجود تھا۔

نان پشتون فارسی بان پر ظلم کی داستان(حصّہ اوّل)۔۔۔عمیر فاروق

ایسا باور کرنے میں وہ کچھ غلط بھی نہیں عبداللہ عبداللہ جہاں ایک طرف آزاد خراسان کی شکل میں علیحدگی کی دھمکی دیتا ہے دوسری طرف افغانستان کو فیڈریشن بنائے جانے کی صورت میں علیحدگی سے دستبرداری کا بھی عندیہ دیتا لیکن اشرف غنی اور پشتون اشرافیہ افغانستان کو فیڈریشن تسلیم کرنے پہ بھی آمادہ نہیں۔ یاد رہے کہ اشرف غنی کے جنگجو ازبک قبائل کو ساتھ ملانے کے لئے جنرل رشیددوستم کو آرمی چیف کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی جو اس نے ٹھکرا دی اس طرح شمال کی مجموعی سوچ اور اندیشوں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
جو دوست افغانستان کی اندرونی سیاست پہ نظر رکھتے رہے ہیں انکو خوب یاد ہوگا کہ امریکی دور میں ہی پچھلے کئی سالوں سے شمال کی سیاسی قیادت بشمول احمد شاہ مسعود کے بھائی کے، افغانستان کو فیڈریشن بنانے کا مطالبہ کرتی آئی جسے پشتون قیادت ہمیشہ سے مسترد کرتی رہی۔
اب ہمارے سامنے ایک بالکل مختلف اور پیچیدہ صورت حال ہے سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسکی پیچیدگی کو سمجھ کر کوئی مبنی بر ذہانت پالیسی اپنانے کو تیار ہیں یا پہلے کی طرح اندھیرے میں ہی لٹھ گھمائیں گے ؟

دیکھا جائے تو افغانستان میں اس وقت تین بڑے سیاسی دھارے یا قوتیں موجود ہیں
طالبان جنکی پشتون دیہی معاشرے میں بھاری طاقت اور حمایت موجود ہے
شمال کی لیڈر شپ جسے اہل شمال میں کابل شہر تک وسیع البنیاد حمایت حاصل ہے
اور پشتون اشرافیہ جسکی افغان اسٹیبلشمنٹ اور شہری پشتون آبادی میں بھاری حمایت حاصل ہے۔
لیکن تینوں فریق ایک دوسرے پہ اعتماد کرنے کو تیار نہیں،
صورتحال کی پیچیدگی میں مزید اضافہ ہمسایہ ممالک اور انکے مفادات بھی کرتے ہیں۔ جہاں پاکستان ، چین ، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کا مفاد افغانستان میں امن وامان اور نظم ونسق کی بحالی میں ہے تاکہ یہاں سے تجارتی راستے گزارے جاسکیں وہاں انڈیا کو اس میں فائدہ نظر آتا ہے کہ افغانستان میں مسلسل بدامنی اور خانہ جنگی جاری رہے تاکہ پاکستان اور چین یہاں سے تجارتی گزرگاہیں نہ بنا سکیں اور یہاں کی بدامنی پاکستان کو غیر مستحکم کرتی رہے۔
ایران کے بارے میں اغلب گمان یہی ہے کہ وہ بھی پہلے گروپ میں ہی شامل ہوگا کیونکہ اسکا مفاد بھی پرامن افغانستان میں ہے تاکہ وہ یہاں سے چین تک تجارتی راہداری بنا سکے۔
اگلا سوال یہ ہے کہ انڈیا، جو اب تک بیک وقت شمال اور پشتون اشرافیہ کا اتحادی تھا ، انکی راہیں جدا ہونے کے بعد کس کی طرف جھکاؤ اختیار کرے گا؟
کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ اب انکے راستے الگ ہیں پشتون اشرافیہ شمال کا فیڈریشن کا مطالبہ ماننے کو ہی تیار نہیں۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ انڈیا کا بالاخر جھکاؤ پشتون اشرافیہ کی جانب ہی ہوگا کیونکہ شمال اور پاکستان میں وجہ نزاع ماضی کی پالیسیاں رہی ہیں اگر وہ ماضی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو انکے درمیان کوئی اصولی بنیادی سیاسی تنازع نہیں ہے۔ اور شمالی قیادت کی طرف سے اس کے کچھ اشارے مل بھی رہے ہیں۔ ماضی میں جب ڈیورنڈ لائن کی بات ہوتی تھی تو شمال کی قیادت پشتون اشرافیہ کی لائن لیتی تھی لیکن اب برف پگھل رہی ہے ماسکو کے انٹرا افغان ڈائیلاگ میں شامل تاجک رہنما عبداللطیف پدرام نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ انکی نیشنل کانگریس پارٹی ڈیورنڈلائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرتی ہے۔ اس سے قبل انکے برعکس موقف رکھنے کی وجہ صرف پشتون قیادت کی دلجوئی تھا لیکن ان سے اب وہ مایوس ہوچکے ہیں تو انہیں پاکستانی موقف کی تائید میں کوئی امر مانع نہیں۔
شاید یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنا پہ اس طالب علم کی رائے میں انڈیا بالآخر افغان پشتون قیادت کی پشت پناہی کرنا پسند کرے گا اور اس کی گوناگوں وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ تو وہی ڈیورنڈلائن کو تسلیم نہ کرنا اور پشتونستان سٹنٹ ہے جو افغان پشتون اشرافیہ کا پرانا سیاسی کھیل اور موقف ہے اس سے راتوں رات دستبردار ہوجانا ان کے لئے ممکن نہیں اور یہی سیاست انکی انڈیا کے ساتھ دوستی کی پرانی بنیاد بھی چلی آئی جبکہ شمال کا اس کھیل سے کچھ لینا دینا نہیں۔
دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ افغانستان کے اندر موجود اس سیاسی تکون میں پشتون سیکولر اشرافیہ کمزور ترین پوزیشن میں ہے شمال کی قیادت کو وہاں کے عوام کی بھرپور تائید حاصل ہے جبکہ طالبان کو پشتون دیہی معاشرہ میں پوری حمایت اور طاقت حاصل ہے جبکہ پشتون اشرافیہ کا پاور بیس افغانستان کی پشتون شہری آبادی تک محدود ہے جو تعداد میں بہت کم ہے۔ یوں کمزور وکٹ پہ ہونے کی وجہ سے انڈیا کے لئے انکو استعمال کرنا نسبتاً زیادہ آسان ہوگا۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اسکی طالبان سے پرانی یاری مشہور ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ دونوں میں قریبی تعاون موجود ہے اس طرح پاکستان کو ایک محتاط اور مبنی برذہانت پالیسی سے کام لینا ہوگا کہ طالبان سے بھی تعلقات خراب کئے بغیر شمال کا اعتماد حاصل کرسکے اور دونوں کے درمیان نازک توازن قائم کرتے ہوئے امن کے بروکر کا کردار ادا کرسکے اور اس امر کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان شمالی افغانستان کے خدشات اور حالات کی پیچیدگیوں سے پوری طرح واقف ہو۔

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *