ایسا دیس تھا میرا۔۔۔عارف خٹک

1995 میں یاشیکا کیمرے میں 150 روپے اگفا کی فلم ڈال کر سرسوں کے  کھیت میں اکڑوں بیٹھ کر تصویریں بنوانے  کا بھی اپنا ایک مزہ تھا۔ جس شام ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چلتی تو سرسوں کے پھول دائیں بائیں کانوں میں ٹانگ کر اٹینشن کھڑے ہوکر تصویر بنوا لیتے۔ یا زیادہ ٹشن دکھانے ہوتے تو پچیس تیس بزرگوں کو قطار میں کھڑا کرکے ایک گروپ فوٹو بنوا لیتے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں انہی بزرگوں کو قسمیں کھا کھا کر بتانا پڑتا کہ “متو ابا” یہ آپ ہی ہو۔

زیادہ  تر کلاشنکوف کندھے پر رکھ کر، کھوتی کے دونوں کان پکڑ کر یا گاؤں میں آئی ہوئی پرائی کار کے بونٹ پر بیٹھ کر ہم ٹشن سے اپنی تصویریں کھینچوا لیتے۔ ہمارے ایک دور کے “بدرمنیر” ٹائپ رشتہ دار نے تو سو فٹ اونچی پہاڑی سے نیچے ندی کے تالاب نما سوئمنگ پول میں چھلانگ مارتے ہوئے ایک تصویر کھینچوائی۔ یہ الگ بات کہ کیمرے کا شٹر اس کےگرنے کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر پایا نہ اس زمانے میں ہائی ریزولیشن سپورٹس کیمرے کرک پہنچے تھے۔ البتہ رشتہ دار بدرمنیر کی  دونوں ٹانگیں ضرور ٹوٹ گئیں۔ چارپائی پر ڈال کر چار کلومیٹر دور ہسپتال لیکر گئے مگر حسب روایت انھیں بنوں ریفر کردیا گیا۔آج بھی لنگڑا کر مجھے گالیاں دیتا ہوا پایا جاسکتا ہے۔

اماں کی صندوق سے مبلغ 470 روپے چرا کر فلم کی رنگین کاپیاں بنا کر البم میں رکھنا گویا ایک عیاشی سمجھی جاتی تھی۔ یہی تصاویر بعد میں دادی اماں کے صندوق میں رکھ کر حنوط کردیئے جاتے تھے۔
ایسے ہی ایک سہانی شام گاؤں کے کھیتوں میں فوٹو گرافی میں مشغول تھے۔ دوسرے کھیت میں کام کرتی ہوئی چچا زرغون گل کی بھی بھینگی آنکھوں اور توے جیسے منہ والی بیٹی پشمین گلہ نے شور مچا دیا کہ ہم نے ان کی تصویر کھینچی ہے۔ ہم قسمیں کھانے لگے کہ للہ  آج تک پشمین گلہ کو اپنی سگی بہن سے کم سمجھا ہی نہیں،ایسی رزیل حرکت ہم نہیں کرسکتے۔ شام تک گاؤں میں آگ کی طرح خبر پھیل گئی۔ رات کو جرگہ بٹھا۔ ہمارے گاؤں میں یہ رواج تھا کہ اگر کسی خاتون کی تصویر کھینچتے ہوئے ثابت ہوجاتا کہ اس لڑکی کی تصویر کھینچی گئی ہے تو دو اندوہناک سزاؤں میں سے ایک سزا ضرور دی جاتی تھی۔ یا تو گولی سے اڑا دیا جاتا تھا۔ یا پھر اس لڑکی کو آپ کی منکوحہ بنا دیا جاتا تھا۔ مجھے اعتراض دوسری سزا پر تھا۔ جرگے میں میرے فلم کو معززین جرگہ کے سامنے کیمرے سے نکال لیا گیا۔ اور 470 روپے سکہ رائج الوقت ابا نے جرگہ کے معززین کو سونپ دیئے کہ کل تصویریں صاف کرکے جرگے کو دیکھائی جائے۔ اگر میرا بیٹا قصوروار ثابت ہوا تو سب کے سامنے گولی سے اڑا دیا جائے یا زرغون گل کا داماد بنا دیا جائے۔

اگلی شام جرگہ بیٹھا اور لفافے سے ساری تصاویر نکال دی گئی۔ جرگے کو باجماعت تصویریں دکھائی گیئں۔ سب استغفار کرتے ہوئے آٹھ گئے۔ ان میں سے کچھ تصاویر زرغون گل چچا کی کھوتی کیساتھ رنگین لمحوں کی تھی۔ زرغون گل چچا نے اپنی پگ سر سے اتار کر پھینکی کہ “کیا ہوا اگر میری بیٹی کی تصویریں نہیں کھینچی گئیں۔ مگر میری عزت کی دھجیاں تو   اُڑ گئی ہیں”۔ ابا نے اس کا پگ اس کے سر پر واپس رکھتے ہوئے جوابا کہا “زرغون گل اب میں تیری کھوتی کو بہو بنانے سے تو رہا۔ تم نے بھی پندرہ سال پہلے ہماری کھوتی کیساتھ کچھ ایسا ہی کیا تھا۔ سمجھو بدلہ پورا ہوگیا”

وقت بدلا۔ یاشیکا کی جگہ ڈیجیٹل کیمرے اگئے۔مگر بہت مہنگے ہوا کرتے تھے اور کمپیوٹر کے بغیر ان تصاویر کو دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ آج بچے کے ٹیب میں 26 میگا پکسل کیمرے تک آگئے ہیں۔
آج  کچھ پرانی تصاویر نکال کر دیکھ رہا تھا۔ پیچھے بچے کی نظر پڑ گئی۔ پاپا؟۔ میں نے اداسی سے اثبات میں سر ہلاکر اقرار کرلیا کہ جی پاپا ہی ہے۔ بچے نے تصویر غور سے دیکھی اور تاسف سے کہنے لگا “پاپا گندی بات پوٹی باتھ روم میں کرتے ہیں۔ کھلم کھلا کھیتوں میں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *