اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر۔۔محمد اسامہ عالم

بعض کا خیال ہے کہ کرونا وائرس ایک قدرتی وبا ہے جب کہ بعض کا خیال ہے کہ یہ وائرس امریکی لیبارٹریوں سے بے احتیاطی کے باعث باہر نکل آیا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے جو چین کے خلاف استعمال کیا گیا جب کہ بعض کا خیال ہے کہ یہ خود چینی لیبارٹریوں سے بے احتیاطی کے باعث باہر نکل آیا ۔ وجہ ان میں سے کوئی بھی ہو یہ در حقیقت اللہ کا امر ہے۔اللہ اپنے حکموں کو سر انجام دینے کیلئے  اسباب کا محتاج نہیں لیکن اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ عام طور پر دینا میں اسباب کے ذریعے اپنے احکامات نافذ کرو اتا ہے۔ اللہ کی تدبیریں بہت لطیف ہیں۔ یہ وائرس ایک ہی وقت میں بعض لوگوں کے لئے عذاب ہوسکتا ہے جبکہ بعض لوگوں  کے لیے آزمائش ۔

اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے گزشتہ چند دہائیوں میں اللہ کی زمین کو خوب گندا کیا ہے ۔ماضی قریب میں شیطانی قوتوں نے افغانستان، عراق، شام، برما، فلسطین، کشمیر اور دیگر علاقوں میں قتل و غارت گری کا بازار خوب گرم کیا۔اجتماعی قتل اور عفت دری کی وہ مثالیں قائم کی گئیں کہ انسانی روح بھی کانپ اٹھے۔ شیطان کے لشکر ایک جھنڈے تلے  متحد ہو کر مسلمانوں کو روندتے رہے اور مسلمان نہ صرف مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کرتے رہے بلکہ ان قوتوں کے آلہ کار اور مددگار بھی بنے رہے۔ اس کے ساتھ مسلمان ریاستوں میں کبیرہ گنا ہ کھلم کھلا ہونا شروع ہوئے۔ پوری معیشت کا نظام سود پر رکھا گیا۔ میڈیا کے ذریعے بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دیا گیا اور آئٹم سانگ کے نام پر بے ہودگی کی مثالیں قائم کی گئیں۔ ڈراموں اور فلموں کے بے حیائی کے ایک نئے دو ر میں داخل کیا گیا اور بے شرم عورتوں کو اعلیٰ ترین ایوارڈ ز سے نوازا گیا ۔ مسلمان بہنوں اور بیٹیوں نے اللہ کی زمین پر “میرا جسم میری مرضی ” کے نعرے لگائے۔لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا گیا یہاں تک کہ لوگوں کی جان، مال اور عزتیں  غیر محفوظ ہوئیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل کردینا ایک عام سی بات رہ گئی۔ ناپ تول میں کمی اور بے ایمانی گویا ایک قومی عادت قرار پائی۔ قوم کا اکثر طبقہ اہم ترین عبادات جیسے کہ نماز کو چھوڑ کر راگ و رنگ کی محفلیں منعقد کرنے میں لگ گیا۔ رشتوں کا تقدس تقریباً ختم ہوگیا اور قوم گالم گلوچ میں لگ گئی۔

ایسے میں ایک اللہ کا امر آیا اور مشرق سے مغرب تک سب اس کی لپیٹ میں آگئے۔ کرونا وائرس چین سے شروع ہوکر ایشیا اور پھر یورپ پہنچا۔ چین اور ایران میں تباہی مچانے کے بعد وائرس نے یورپ اور امریکہ کو اپنا ہدف بنایا اور اب وائرس کا اگلاہدف پاکستان ہے۔ حکومتِ پاکستان سمیت تمام طبقے اس وائرس سے نمٹنے میں صدق دل سے مشغول ہیں ۔ ہمیں میڈیا پر درجل زیر جملے تواترکےساتھ سننے کو مل رہے ہیں ؛

“کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے”۔
“ہم نے مل کر کرونا کو شکست دینی ہے”۔
“آج تک مسلک کیلئے لڑتے رہے، آئیں آج کرونا سے لڑیں”۔
“کرونا سے لڑنے کا منصوبہ تیار”

سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا یہ اللہ کا اَمر ہے،اگر ہاں تو ہم اس سے لڑ کیسے سکتے ہیں؟  بظاہر یہی محسوس ہورہا ہے کہ اللہ اپنی زمین کو صاف کرنا چاہ رہا ہے۔ دنیا بھر میں جزوی یا کلی لاک ڈاؤن انسان کو سادگی کی طرف واپس لارہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کرونا کے مریضوں کوتعداد میں ہو شربا اضافہ اور اموات نے جہاں نہ صرف حکام کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کیا ہے وہاں عوام میں بھی موت اور مفلسی کا خوف پیدا کردیا ہے۔ اقبال مرحوم کا شعر ہے۔

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی

ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہورہا ہے کہ ہم اپنے حالات کو مغرب کی عینک سے دیکھ رہے ہیں، جبکہ ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ کا قانون غیر مسلموں کے لئے اور ہے اور مسلمانوں کے لئے اور ۔ سخت  لاک ڈاؤن ، بار بار ہاتھ دھونا ، سینیٹائزر کا استعمال، مصافحہ سے پرہیز، اجتماعات پر پابندی اور دیگر طبی اور حکومتی قوانین یقیناً اہمیت کے حامل ہیں، ہمیں ان پر نہ صرف عمل کرنا چاہیے  بلکہ دوسروں کو سکھانا بھی چاہیے لیکن ساتھ ساتھ اس بات کو بھی سمجھنا چاہیے کہ ان تمام احتیاطوں کی حیثیت ثانوی ہے۔ یورپ اور امریکہ وسائل میں ہم سے کہیں آگے ہیں اور ان تراکیب کے ہوتے ہوئے بھی وہ کرونا پر قابو پانے میں ناکام نظر آتے ہیں اور اگر وہ کامیاب ہو بھی جائیں تب بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا نقطۂ نظر مختلف ہے۔ ہمیں اس مسئلہ کو نیچے سے نہیں بلکہ اوپر سے حل کرانا ہے۔ اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم اس کرونا وائرس کو غنیمت سمجھتے ہوئے اپنے اعمال اور اخلاق کو بہتر کریں۔ مسجدوں کا بند ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ سخت ناراض ہے۔

میری وزیرِ اعظم عمران خان صاحب سے درخواست ہے کہ وہ قومی سطح پر یومِ توبہ کا اعلان کریں جس میں پوری قوم صدق دل سے اپنے تمام گناہوں ، بالخصوص اعلانیہ گناہوں سے گڑ گڑا کر اللہ سے معافی مانگے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر جب عذاب کے باد ل منڈلانے لگے تو ان کی قوم نے عقل مندی کا کام کیا اور توبہ کرلی اور اللہ نے عذاب کو ٹال دیا . اگر آج ہم بھی تمام انفرادی اور اجتماعی گناہوں سے توبہ کرلیں گے تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ ہمیں اس وبا سے نجات عطافرمادیں گے اور اگر اس کے باوجود ہم اس وبا سے مرگئے تو توبہ کے ساتھ مریں گے۔فائدہ دونوں صورتوں میں ہمارا ہی ہے۔

اللہ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ وہ تمام انسانیت پر خصوصی رحم و کرم کا معاملہ فرماتے ہوئے جلد از جلد ہمیں اس وبا سے نجات عطا فرمائے. آمین.

 

Avatar
محمد اسامہ عالم
محمد اسامہ عالم ایک بامقصد زندگی کی جستجو میں مگن ہیں اور دوسروں کو اس کے حصول میں مددبھی فراہم کرتے ہیں. اسامہ عالم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور قطر کی وزارت داخلہ میں فرائض سرانجام دیتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *