آکاس بیل۔۔عمر قدیر اعوان

یہ مارچ کے آخری ایام تھے جب دن خوب کھلے ہوئے ،تمازت بھری دھوپ سے بھرپور اور راتیں خاموشی، سکون اور خُنکی  لیے ہوئے ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک چاند کی چودھویں رات میں کلر کہار جھیل کے قریب ایک چکور جس کی مادہ چند دن پہلے چڑی ماروں کا شکار ہو گئی تھی، چاند کی طرف پرواز کرتے ہوئے پوری قوت سے چلّا رہا تھا۔جوں جوں چاند کی روشنی اور چمک میں اضافہ ہو رہا تھا،ویسے ہی چکور کی دیوانگی میں اضافہ ہو رہا تھا اور وہ اپنی اڑان مزید بلند کرتا جا رہا تھا۔ اس کے پروں میں شاید اب قوتِ پرواز بہت کم تھی لیکن چاند کی کشش اس کو اپنی طرف مائل کر رہی تھی اور وہ کسی معمول کی طرح اس کی اور کھنچا چلا جا رہا تھا۔ جب وہ پرواز کرتا ہوا سخی آہو باہو کے مزار کے اوپر پہنچا تو وہ جاں بلب تھا اور مزید قوتِ پرواز باقی نہ تھی ،اس وقت اس نے چاند کی طرف ایک حسرت بھری نگاہ ڈالی اور مزار کی دہلیز پر گِر گیا۔ ٹھیک اسی وقت میرا جنم برگد کے ایک درخت پر ہوا تھا۔۔۔ اس بات کا احساس جنم کے کُچھ سال بعد ہوا جب میری ننھی ننھی نازک شاخوں نے برگد کے مضبوط و توانا تنے کے گرد اپنا جال بُننا شروع کیا۔۔ لیکن مضبوط تو شاید وہ دوسروں کے لیے تھا، میری ننھی اور نرم و نازک جڑوں کو تو وہ خود اپنے جسم میں پیوست کرتا ،تاکہ میں اس کا لہو چوس کر اپنے رگ و پے میں اتاروں کہ وہ اس بات سے باخبر تھا کہ اس کے دَم میں ہی میرا دمِ زندگی پوشیدہ ہے۔

تب شاید مجھے احساس نہ تھا کہ برگد میری زندگی کی خاطر قطرہ قطرہ اپنا لہو میری رگِ جاں میں اتار رہا ہے یا شاید میں جان بُوجھ کر انجان بن رہا تھا کہ میرے پاس اس کا کوئی متبادل نہیں تھا۔ وہ طوفانوں کو اپنے سینے پر جھیلتا مجھے اپنی پُشت پیچھے چھپا لیتا۔ بجلیاں اپنے سر پر روک لیتا لیکن مجھ تک نہ پہنچنے دیتا۔ یوں اس نے قطرہ قطرہ اپنے رگ و جاں سے زندگی کشید کر کےمجھے سینچا یہاں تک کہ میرے برگ و بار شاداب ہو کر لہلہانے لگے۔ اس عرصےکے دوران برگد کے پاس کچھ اور چھوٹے چھوٹے پودوں کا بھی جنم ہوا۔ ایک دن مجھ پر انکشاف ہوا کہ برگد ان چھوٹے پودوں کی جڑیں چُپکے سے میرے جسم میں پیوست کر چُکا تھا۔ مجھ پر یہ انکشاف بہت گراں گزرا۔۔کیا آبِ حیات بقیمتِ حیات میسر تھا؟ ۔۔کیا یہ پیار خالص نہ تھا؟ ۔۔کیا برگد مجھ سے اپنے لہو کا خراج لے رہا ہے؟۔۔ یہ پودے تو اس کے ہیں پھر میں اپنے لہو سے ان کو کیونکر سینچوں؟ یہ تو خود غرضی ہے!

لیکن پھر میری نظر اس کی جابجا لٹکتی ہوئی جھاڑ جھنکاڑ نما خوفناک داڑھی اور ابھری ہوئی بے جان رگوں پر ٹِک جاتی اور اندر کہیں دور سے آواز آتی کہ ان رگوں سے زندگی تو میں نے نچوڑلی، اس جسم سے آبِ حیات تو میں نے کشید کر لیا اب تو احسان کا بدلہ دینے کا وقت ہے۔ حوصلہ کر بِیبا حوصلہ۔ دیکھ تو تیری رگِ جاں سے کشید کیے لہو سے کیسے خوش رنگ پھُول مہکے ہیں، ان کی مہک میں تیرے لہو کی خوشبو ہے، پیارے  ذرا محسوس تو کر ،کیسا نشہ ہے اس خوشبو میں! ہائے ۔۔۔

اسی خوشبو کے نشے نے تو اتنے تنومند برگد کو اس قدر ناتواں کر دیا ہے کہ وہ اب اپنے کسی پودے کو سینچ نہیں سکتا۔ انہی دِنوں جب میری سوچوں میں یہ طوفان برپا تھا مجھے محسوس ہوا کہ برگد مجھ سے ناراض ہے۔ اس کی آنکھوں میں میرے لیے موجود نفرت کے انگارے میری سانسوں کو بھی جلانے لگے تھے۔ شاید اس نے میری خود کلامی سن لی ہے، لیکن اگر سن بھی لی ہے تو کیا ہوا، سوچ پر تو اختیار نہیں، میں نے کون سا اس کے پودوں کو اپنے لہو سے سینچنا چھوڑا ہے۔ لیکن یہ سب مجھے آکاس بیل کیوں کہہ رہے ہیں؟ آکاس بیل تو وہ ہوتی ہے نا جو دوسرے کا لہو چوس کر اپنی زندگی گزارتی ہے۔ لیکن میں آکاس بیل کیسے ہو سکتا ہوں میرا رنگ تو پیلا ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *