• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سپر سٹور کُھلا ہے تو مسجد کیوں بند ہو؟۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

سپر سٹور کُھلا ہے تو مسجد کیوں بند ہو؟۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

ساری دنیا ایک طرف اور ارض پاک کے مفتیوں کی راگنی ایک طرف۔ نیشنل ٹی وی پروگرام میں بیٹھ کر مفتی  اعظم صاحب پاکستان فرماتے ہیں کہ انہوں نے گزرتے ہوئے سپر سٹور کُھلا دیکھا اور لوگ وہاں جمع تھے۔ سارا زور مسجد بند کرنے پر کیوں ہے۔ یہ سازش ہے کہ مذہب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مفتی صاحب نےبات تو کر دی لیکن  اس میں تدبر مفقود تھا۔ ضروریا ت زندگی بہم پہنچانے  کے لئےکھلاہوا سٹور  ان کو کھٹک رہا ہے ۔ تھوڑا سا بھی غو رکریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مفتی صاحب کا  سپر  سٹور کو مسجد کھولنے پر دلیل بنانا کسی طور درست موقف نہیں ۔ آئیے اس کا ہلکا سا جائزہ لیتے ہیں:

نمبر۱۔ مسجد سے حسب ضرورت بارش ، سردی ، بیماری کی صورت میں رخصت مل سکتی ہے۔ اور یہ رخصت خود نبی کریم ﷺ نے عطا فرمائی۔ مفتی صاحب بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔

جبکہ   سٹور ضروریات  زندگی بہم پہچانے کے لئے کھولاجاتا ہے۔ اشیائے خودر و نوش کی سپلائی کتنی ضروری ہے اس سے کون ذی عقل انکار کر سکتا ہے۔کھانے پینے کی ضرورت بیمار کو بھی ہے اور  زندہ رہنے کے لئے ہر  تندرست کو بھی ۔ ان کو بھی ہے جن پر نماز فرض نہیں ۔ اور ان کو بھی جو مسلمان نہیں۔  ان بیماروں کو بھی ہے جو صاحب فراش ہیں اور ان عورتوں کو بھی   جن پر مسجد میں جا کر نماز پڑھنا فرض نہیں ۔ان غیر مسلموں کو بھی ہے جو معاشرے کا حصہ ہیں ۔مفتی صاحب کے اس ارشاد کا  مطلب  ہے کہ   مسلمانوں کی مسجد بند کرنی ہے تو ساتھ  غیر مسلموں کی روٹی  بھی  بندکرو۔ اس کے ساتھ معصوم بچوں کا دودھ بھی بند کرو۔ بیماروں ، لاچاروں کا راشن بھی بند کرو۔  حائضہ عورتوں کا  کھانا اور ان کی ضروریات بھی بندکرو  جن پر مخصوص ایام میں  گھر میں بھی نماز معاف ہے۔

نمبر ۲۔ مسجد میں بد بو دار اشیاء کھا کر آنے سے منع کیا ہے کیونکہ ساتھ کھڑا ہوانے والا  شخص  دوران نماز جگہ نہیں بدل سکتا اور تکلیف میں رہتا ہے۔

جبکہ  سٹور میں یا بازار میں آپ  ناپسندیدہ جگہ  سے بآسانی ادھر ادُھر ہو سکتے ہیں ۔ ناپسندیدہ فرد سے دوری اختیا رکر سکتے ہیں ۔بیمار شخص سے دور ہٹ سکتے ہیں ۔

نمبر ۳۔مسجد میں ایک  بالغ آدمی کو دن میں  پانچ دفعہ مخصوص اوقات میں  جانا ہے ۔

جبکہ  سٹور میں گھر کا کوئی ایک فرد ( عورت  بچہ بوڑھا )ہفتے بعد بھی جا کر ضروریات زندگی خرید سکتا ہے۔ ہر بالغ مرد روزانہ پانچ دفعہ  سٹور پر نہیں جاتا ۔  او روبا کے دنوں میں اپنی سہولت کے مطابق لوگ اپنا  وقت منتخب کر سکتے ہیں ۔

نمبر۴ ۔ مسجد میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا  لازمی ہے اور ا س سے بیماری پھیلنے  کا خدشہ ہے۔

جبکہ  سٹور میں فاصلہ رکھ کر شاپنگ کی جاسکتی ہے۔ دوسرے کی پہنچ سے دور رہا جا سکتا ہے ۔

نمبر۵۔ آپ ﷺ نے فرمایا    جُعِلَت لِیَ الاَرضُ مَسجِداً  یعنی میرے لئے ساری زمین مسجد بنا دی گئی ہے۔ تمام انبیا ء کرام میں سے  یہ امتیازی خصوصیت ہے جو صرف  آپ ﷺ کو عطا ہوئی ۔

آپ ﷺ کے بعد آج پندرہوی صدی تک یہ پہلا موقع ہے کہ  ا س طرح  مساجد کے باہر  ہر گھر اور ہر جگہ  پہلے سے بڑھ کر نمازیں ادا کرنے کی اجتماعی ضرورت پیش آگئی ہو ۔اور  آپ ﷺ کو عطا کی جانے والی اس خصوصیت کا پہلے سے بڑھ کر  اجتماعی اظہار ہو۔ مسلمان گھر میں بھی فیملی ممبرز کے ساتھ باجماعت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ میاں بیوی با جماعت  نماز  پڑھ سکتے ہیں۔ اس لئے مسجد کی عارضی بندش کوئی خرابی پیدا نہیں کرتی بلکہ  آپ ﷺ کی امتیازی شان کے  پوری دنیا میں بیک وقت اظہار کا  موقع ہے۔

مفتیوں کو تو خوشی کے ساتھ اس بات کو بیان کرنا چاہیے تھا کہ دیکھیں ہمارے پیارے بنی ﷺ کی ایک امتیازی  خصوصیت  کے اظہار کا  اجتماعی موقع آگیا۔ اس لئے ہر گھر کو مسجد بنا دو۔ ہر گھر میں با جماعت  نمازیں ادا کرواور ا س بات کا اعلان کرو کہ اسلام آسانیاں  پیدا کرنے  والا مذہب ہے۔  جس نے  پہلے سے ہی  انسانوں کی خاطر اور فطرت کے مطابق احکام دے رکھے ہیں ۔ اس وبا کی وجہ سے  جہاں باقی مذاہب کی عبادات میں خلل پیدا ہوا ہے ہمارا صرف  انداز بدلا ہے لیکن عبادات جاری  و ساری ہیں ۔  اگر پہلے ایک محلے میں ایک مسجد میں لوگ جمع ہو کر نماز ادا کرتے تھے تو اب ہر گھر مسجد بن گیا ہے۔ پہلے  زیادہ تر مرد  با جماعت نماز سے مستفید ہوتے تھے۔ اب ہر گھر میں عورتیں ، بچے بوڑھے، مریض ، بیمار سب شامل ہو سکتے ہیں ۔  اسلام کی شان کا ایک امتیازی پہلو ظاہر ہوا ہے ۔ لیکن افسوس اس موقع کو احسن رنگ میں  اسلام کی شان میں استعمال کرنے کے بجائےمولوی اور مفتی نے اسے بھی متنازع بنا دیا ۔ اپنی دوکان چمکانے کی خاطر سب کو مشکل میں دھکیل رہے ہیں۔ واقعی  وہ مولوی ہی کیا جو مذہب سے اپنی اجارہ داری ختم ہونے دے۔

Avatar
Ch. Naeem Ahmad Bajwa
محبت کے قبیلہ سے تعلق رکھنے والا راہ حق کا اایک فقیر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *