• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کرونائی وبا اور تبلیغی جماعت کا ڈھلمل موقف ۔۔۔ حافظ صفوان محمد

کرونائی وبا اور تبلیغی جماعت کا ڈھلمل موقف ۔۔۔ حافظ صفوان محمد

میں اخباری قسم کے موضوعات پر عموماً نہیں لکھا کرتا لیکن آج ایک ایسے موضوع پر لکھنا مقدر ہوا ہے جو میڈیا کی وجہ سے الجھایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تبلیغ والے لوگ کرونائی وبا کے ایام میں تبلیغ کے لیے کیوں پھر رہے ہیں اور گھروں میں کیوں نہیں بیٹھ رہے ہیں۔ اس کا جواب سمجھنے کے تین پہلو ہیں۔ آئیے ان پر مختصر اور براہِ راست بات کرلیں۔

تبلیغی جماعت کا باقاعدہ آغاز 28 اپریل 1930 کو مدرسہ مظاہر علوم سہانپور سے ہوا۔ تب سے اب تک اس نے دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں، کبھی اور کسی حال میں مقتدرہ کی اجازت اور اس کے دیے گیے مینڈیٹ سے باہر قدم نہیں رکھا۔ تبلیغ کا کام ظاہر بظاہر امت کے سب طبقات اور فرقوں کو جوڑنا، بے طلبوں میں دین کی طلب پیدا کرنا، لوگوں میں ماجاء بہ النبی کے حصول کا ذوق پیدا کرنا، مثبت ذہن سازی اور انسانی سازی سے مملو ہے، گو اس کی آڑ میں اہلِ غرض اپنی اپنی اغراض بھی پوری کرتے رہتے ہیں۔ جو بھی تبلیغی اجتماع کہیں ہوتا ہے یا جو بھی جماعتیں کہیں تشریف لے جاتی ہیں، یہ سب کی سب نقل و حرکت متعلقہ ملک یا ملکوں کی حکومت و انتظامیہ کے براہِ راست علم میں لانے کے بعد اور ان کی منشا کے ساتھ ہوتی ہے۔ تبلیغی جماعت مقتدرہ کے لیے مشکلات پیدا کرکے یا مقتدرہ کو ساتھ لیے بغیر اصلاحِ امت کے کام اور سماج سدھار کی کسی صورت کو درست نہیں سمجھتی۔

آج جب کہ پاکستان میں حکومت و ریاست کی منشا ہی معلوم نہیں کہ لاک ڈاؤن ہے یا بندش، یا کرفیو ہے یا نہیں، تو مرکزِ تبلیغ والے دنیا بھر میں پھیلی جماعتوں کو کیا ہدایات دیں؟ کیا پاکستان کی مرکزی حکومت یہ دعویٰ کرسکتی ہے کہ تبلیغی مرکز رائے ونڈ والے ہمارے احکامات کی یا ہماری منشا کی خلاف ورزی کر رہے ہیں؟

مرکزی حکومت کی گومگو کی اس صورتِ حال جسے آج کوئی دو ماہ ہونے کو آئے ہیں، کے باوجود مولانا نذر الرحمٰن صاحب امیرِ تبلیغی جماعت نے 26 مارچ کو تمام مراکز میں خط بھیجا جس میں لکھا ہے کہ “انتظامیہ کے ساتھ باہمی مشاورت سے یہ فیصلہ ہوا ہے کہ جماعتیں جہاں ہیں وہاں ہی رہیں۔ اگر کسی ادارے کو اس بارے میں اشکال ہو تو اپنے افسرانِ بالا سے تسلی کرلیں۔ جماعتیں فی الحال گشت، بیان اور مجمع جمع نہ کریں اور انتظامیہ سے تعاون کریں۔”

دوبارہ عرض ہے کہ امیرِ تبلیغی جماعت نے تو چلیے بہت دیر سے یعنی 26 مارچ 2020 کو خط لکھ دیا جب کہ مقتدرہ کی اپنی پالیسی آج 2 اپریل تک بھی واضح نہیں ہے۔ بالکل سامنے کے الفاظ میں سوال ہے کہ 90 سال سے مقتدرہ کی منشا اور ماتھا پڑھ کر چلنے والی تبلیغی جماعت سے جو چاہا جا رہا ہے مرکزی حکومت اسے ابھی بتا دے تاکہ یہ حکم کے بندے ترنت اطاعتِ اولی الامر کرلیں۔

رہی بات لوگوں کی نقل و حرکت کو بنام لاک ڈاؤن محدود کرنے کی، تو یہ بھی صرف اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے ممکن ہو سکا ہے ورنہ صوبے شدید بے بس ہوتے اور اب تک ناگفتہ بہ صورتِ حال پیدا ہوچکی ہوتی۔

ریاست و حکومت کی منشا واضح نہ ہونے کے باوجود امیرِ تبلیغی جماعت نے جماعتوں کو “انتظامیہ سے تعاون” کرنے کا کہہ کر واضح بتا دیا ہے کہ جہاں کی انتظامیہ جو کہے اس کی مانی جائے اور یوں امنِ عامہ کا مسئلہ کھڑا ہونے کے ہر امکان کو رد کر دیا ہے۔ اسی طرح “جماعتیں جہاں ہیں وہاں ہی رہیں” والی ہدایت دے کر ہر مسجد اور تبلیغی مرکز کو قرنطینہ بنا دیا گیا ہے اور اگر کوئی تبلیغی ساتھی خدانخواستہ کرونائی وبا کے زیرِ اثر ہے بھی تو اسے ایک جگہ پر محدود کرنے کا انتہائی واضح اور جرات مندانہ فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ نیز اس ہدایت میں یہ بات بھی واضح ہے کہ اہلِ محلہ بھی مسجد نہ جائیں بلکہ گھر پر ہی اعمال کا اہتمام کریں۔ چنانچہ اس خط میں ان شدید جذباتی بیانیوں کا دفعیہ بھی کر دیا گیا ہے جن میں لوگوں کو مساجد میں جمگھٹ کرنے کی صدائیں لگائی گئی تھیں۔ کیا یہ ہدایات عین مین وہی نہیں ہیں جو کرونائی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ساری دنیا کی ہر حکومت اور عالمی ادارۂ صحت وغیرہ دے رہے ہیں؟

رہی یہ بات کہ ساری دنیا سے اور سارے پاکستان سے اللہ کے راستے میں نکلے سارے لوگ جن کی تعداد بلاشبہہ کئی لاکھ ہے، اگر فوری طور پر گھروں کو چلے جائیں اور تبلیغی مراکز کو قرنطینہ نہ بنایا جائے، تو ان میں سے جو لوگ خدانخواستہ کرونا کا شکار ہیں کیا وہ کرونائی وبا کو اپنے اپنے گھروں اور شہروں تک لے جانے کا سبب نہ ہوں گے؟

تیسری اور اہم ترین بات یہ ہے کہ کرونائی وبا کے پاکستان میں آنے کی ابتدا تبلیغی جماعتوں کی نقل و حرکت سے نہیں ہوئی بلکہ سعودیہ سے عمرہ کرکے آنے والے معتمرین اور تافتان کے راستے آنے والے زائرین سے ہوئی ہے۔ اگر ان معتمرین اور زائرین میں سے کرونا کے کچھ مریض کہیں روپوش ہیں تو بھی یہ ہماری فعال ایجنسیوں کی نگاہ سے بچے ہوئے نہیں ہیں اس لیے اہلِ وطن کو پریشان ہونے کی یا اسٹیبلشمنٹ اور طارق جمیل کا غصہ تبلیغی جماعت پر نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔

واضح رہنا چاہیے کہ جیسے تبلیغی جماعت پر کرونائی وبا کے پھیلاؤ کا الزام دھرنا انصاف سے بعید ہے ویسے ہی عمرے سے واپس آنے والے معتمرین اور ایران سے آنے والے زائرین پر اس کا ملبہ ڈالنا غیر منصفانہ بات ہے۔ یہ لوگ معمول کے حالات میں گئے تھے اور پھر ناگہانی طور پر وبا کا شکار ہوگئے۔ ان کے لیے مناسب انتظامات سعودی، ایرانی اور پاکستانی حکومتوں کی ذمہ داری بنتی تھی۔ اب جب کہ حکومت صورتِ حال سے بروقت اور صحیح طریقے سے نہ نمٹ سکنے کا اعتراف کر رہی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ تاہم اسے شیعہ سنی تفریق کی عینک پہن کر دیکھنا بہت ہی تنگ نظر سوچ کا اظہار ہے۔ اصل مرض یہ ہے کہ جب حکومت و ریاست کو لوگوں کی دنیا ٹھیک کرنے کے لیے ان کی آخرت ٹھیک کرنے کا جواز ڈھونڈنے کی عادت پڑ جائے اور حکمران خود کو منتظم سے زیادہ مصلح سمجھنے لگیں تو ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ موجودہ صورتِ حال میں ہو رہا ہے۔ ہمیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہییں نہ کہ ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے مصروف نظر آنے کی ادا کاری کرنا۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *