• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(دسواں دن)۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(دسواں دن)۔۔گوتم حیات

یہ نوّے کی دہائی کے ابتدائی تین سالوں کے بعد کی باتیں ہیں جب ابھی شہر میں کیبل ٹی وی کی شروعات نہیں ہوئی تھی۔ ہمارے گھر کی چھت پر ایک سادہ سا اینٹینا لگا ہوتا تھا۔ اُن دنوں ہم روزانہ رات کو پرائم ٹائم نشریات میں دکھائے جانے والے سارے ہفتہ وار ڈرامے ذوق و شوق سے دیکھتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جس وقت ڈرامہ نشر ہوتا عین اُسی وقت محلّے بھر کی بجلی چلی جاتی۔ ہم افسردہ شکلیں بنائے، روتے ہوئے، اللہ سے دعائیں مانگنے لگتے کہ
یا اللہ بحلی جلدی سے آجائے اور ہماری یہ دعائیں کبھی قبول نہ ہوتیں۔۔۔ (ویسے وقت بے وقت بجلی جانے کی تو ابھی بھی وہی پرانی ریت برقرار ہے۔ آج دوہزار بیس کا چوتھا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور ہم ابھی بھی نوّے کی دہائی کی طرح گھڑی گھڑی بجلی جانے کی مصیبت سے دوچار ہیں) اب ہم واپس حال سے ماضی کا رخ کرتے ہیں تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ گئی ہوئی بجلی عموماً رات گئے واپس آتی جب ٹی وی نشریات کا اختتام ہو چکا ہوتا۔ بجلی جانے کی وجہ سے میں اُس وقت نشر ہونے والے بہت سے مایہ ناز ڈرامے دیکھنے سے محروم رہا اور مجھے ابھی بھی اس بات کا قلق ہے کہ میں وہ ڈرامے کاش اُس وقت دیکھ سکتا۔
اس وقت بھی مجھے اُن ڈراموں میں سے کچھ کے نام ازبر ہیں۔ ان دیکھے نہ جانے والے ڈراموں میں قابلِ ذکر نام تھے؛
“ریڈ کارڈ”، “اجنبی”، “سلمٰی پاگل ہے” اور “مسٹری تھیٹر” نامی سیریز کے چند کھیل۔
اس زمانے میں صرف “دو” ہی ٹی وی چینلز تھے۔ ڈش اینٹینا ابھی گھر گھر عام نہیں ہوا تھا۔ نواز شریف کا پہلا دورِ حکومت بھی ختم ہو چکا تھا یا عجلت میں ختم کروا دیا گیا تھا؟؟ اس بات کا فیصلہ میں پڑھنے والوں کی مرضی و منشا پر چھوڑتا ہوا آگے بڑھتا ہوں۔ تو نوازشریف کے بعد محترمہ “شہید بینظیر بھٹو” دوسری بار وزیراعظم کا منصب سنبھال چکی تھیں۔ ٹھیک ان ہی دنوں بچوں کے لیے پی ٹی وی سے ایک نہایت ہی عمدہ ڈرامہ سیریل “عینک والا جن” کے نام سے شروع ہوا۔ تیس منٹ دورانیے کا یہ ڈرامہ عصر کے وقت نشر ہوتا اور بدقسمتی سے بالکل اسی وقت ہمیں “قرآن” پڑھنے کے لے “حافظ عامر بھائی” کے گھر پر جانا ہوتا۔ “حافظ عامر بھائی” محلے بھر کے بچوں کو روزانہ عصر سے مغرب تک اپنے گھر میں قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ اور یوں ہم “عینک والا جن” دیکھنے سے محروم رہتے۔ اگر کسی دن ہم یہ ڈرامہ دیکھنے کی وجہ سے اُن کے گھر دیر سے پہنچتے یا چھٹی کرتے تو اگلے دن ہمیں خوب مار پڑتی۔ اس لیے ہم محض “عینک والا جن” دیکھنے کی وجہ سے چھٹی نہیں کر سکتے تھے(یہ میری خوش قسمتی تھی کہ کچھ سالوں بعد جب “عینک والا جن” رِی ٹیلی کاسٹ ہوا تو میں نے اس کی ساری اقساط شوق سے دیکھیں۔)
یہ ڈرامہ ہر گزرتے ہفتے مقبول سے مقبول تر ہوتا جا رہا تھا۔بچوں کے علاوہ بڑے بھی دلچسپی سے اس کو دیکھتے تھے۔ شروع میں اس کی تیرہ سے پندرہ قسطیں ریکارڈ ہو کر “پی ٹی وی” سے نشر ہوئیں، پھر اچانک ہی اس کی قسطیں بڑھنے لگیں اور مہینوں یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اس مشہور ڈرامے کی قسطیں بڑھنے کے تناظر میں ایک پروپیگنڈہ مِتھ بھی تیار کر لی گئی تھی اور اخبارات کے ذریعے اس کو خوب پھیلایا گیا۔ اخبار تو میں اس وقت نہیں پڑھا کرتا تھا مگر میری سب سے بڑی بہن “نعیمہ” جس کو ہم سب اَپّی کہتے تھے وہ اخبارات و رسائل کے مطالعے کی روشنی میں ہمیں بڑے فخر سے بتایا کرتی تھیں کہ “یہ (عینک والا جن) صرف تیرہ قسطوں کا ڈرامہ تھا اور بس ختم ہونے کے قریب تھا لیکن “بلاول” اور “آصفہ” کی وجہ سے یہ ڈرامہ اب کبھی بند نہیں ہو گا اور اس ڈرامے کی نئی نئی قسطیں بنتی رہیں گی۔ کیونکہ یہ ڈرامہ ان دونوں کو بہت پسند ہے۔”، جب ہم اَپّی سے پوچھتے کہ یہ “بلاول” اور “آصفہ” کون ہیں؟؟؟ تو وہ ہمیں آگاہ کرتیں کہ “یہ دونوں “وزیراعظم بینظیر” کے بچّے ہیں۔”س وقت میں اپنے دل میں یہ خواہش کرتا کہ “کاش میں بھی بلاول اور آصفہ کی طرح “وزیراعظم بینظیر” کا بچّہ ہوتا تو روز “عینک والا جن” دیکھتا اور حافظ عامر بھائی کے گھر جا کر قران پڑھنے اور سیکھنے کی زحمت سے بھی محفوظ رہتا۔

سکول کے زمانے میں دیکھے گئے اکثر ڈراموں کو میں سچ سمجھا کرتا تھا۔ مجھے این ٹی ایم پر نشر ہونے والا ڈرامہ سیریل “کشکول” کا چھوٹا سا بچّہ “روشُو” بہت عزیز تھا اور میں اکثر اس کے بارے میں سوچا کرتا تھا کہ یہ چھوٹا بچہ “روشو” اتنا غریب کیوں ہے۔۔۔ کاش یہ امیر ہوتا۔
ڈرامہ سیریل “دھواں” میں جب “داؤد” گولی لگنے سے مر جاتا ہے تو میں اس کی موت کو بھی سچ ہی سمجھا تھا۔

کچھ سالوں بعد جب مجھے ڈرامہ انڈسٹری کے رموز سے واقفیت ہوئی تو میں بس مظلوم کرداروں کے لیے افسردہ ہوتا لیکن ڈراموں کو سچ سمجھنے والا خیال میرے دل سے نکل چکا تھا۔ ٹی وی پر مختلف ڈرامے دیکھ دیکھ کر میری ایک خاص قسم کی کریٹیکل رائے بھی بن گئی تھی اور میری خواہش ہوتی تھی کہ کاش فلاں ڈرامے میں اُس فنکار کو ایسا کردار نہ دیا جاتا یا فلاں ڈرامے کی کہانی میں جھول ہے۔

مجھے ابھی بھی کچھ ڈرامے یاد ہیں جن کو دیکھ کر میں رنجیدہ ہو جاتا تھا۔ ڈرامہ سیریل “الزام” میں “شبیر جان” اسمگلنگ کے ایک کیس میں ہالینڈ میں سزائے موت کا حقدار ٹھہرتا ہے تو میں اس کے لیے افسردہ ہو جاتا ہوں، ڈرامہ سیریل “نجات” میں “عتیقہ اوڈھو” پر ہونے والے ظلم سے مجھے بیحد تکلیف پہنچتی تھی، ڈرامہ سیریل “ہوائیں” میں جب “طلعت حسین” کو پھانسی گھاٹ لے جایا جا رہا ہوتا ہے تو میرا دل بےچین ہونے لگتا تھا۔

اسی طرح مُنّو بھائی کے معروف ڈرامہ سیریل “آشیانہ” کی “سیمی زیدی” کو ہر قسط میں روتا ہوا دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی آنسو رواں ہو جاتے تھے۔ “آشیانہ” کا ٹائٹل سانگ بھی بہت عمدہ تھا۔ گانے کے بول تھے؛
آشیانہ، یہ سہانا بن جائے گا، آرزو کو مُسکرانا جب آئے گا
یار اپنا یہ زمانہ بن جائے گا، پیار دینا، پیار پانا جب آئے گا
یہ دل جھوم جائے گا، ہر پل گُنگنائے گا۔۔۔
یہ جیون تو آس ہے، پھر کیوں تُو اداس ہے۔۔۔
کبھی رنگین، کبھی غمگین، یہ ہے زندگی!
شمع دل میں رہے جلتی، ملے روشنی!

نوّے کی دہائی کے آخری سالوں کا ذکر ہے۔ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں پہلی بار پوری سو اقساط پر مبنی ایک ڈرامہ “جال” کے نام سے بنایا گیا۔ یہ ڈرامہ نجی نشریاتی ادارے “ایس ٹی این/این ٹی ایم” پر نشر ہوا۔ ڈرامہ نشر ہونے سے پہلے اس کی خوب پبلسٹی کی گئی۔ ہم سب بہن بھائی بہت حیران کہ ضرور اس ڈرامے میں کچھ انوکھا پن ہو گا اس لیے بھرپور طریقے سے اس کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ خیر پوری سو اقساط پر مبی ڈرامہ “جال” نشر ہونے لگا، شروع میں ہم سب اس کو دلچسپی سے دیکھتے رہے لیکن کچھ ہی مہینوں بعد اس “جال” نامی ڈرامے سے ہمیں کوفت ہونے لگی۔ “جال” کی کہانی بھی کافی گھمبیر اور اُلجھی ہوئی تھی، جس کو سمجھنے سے ہمارا دماغ قاصر تھا۔ لیکن پھر ہم نے یہ ڈرامہ تفریح کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا اور اس کی بنیادی وجہ “علینہ” تھی۔
جی ہاں۔۔۔ علینہ!
علینہ “جال” کا ایک اہم کردار تھی اور نشر ہونے والی ہر نئی قسط میں اس کو “جال” کے مصنف اور ڈاریکٹر نے محض ایک ہی مکالمہ ادا کرنے کے لیے رکھا ہوا تھا۔ “جال” میں “علینہ” کا جب بھی کوئی سین دکھایا جاتا تو وہ گہرے تفکر اور غوروفکر میں کھوئی ہوئی ہوتی۔ اس سے ملنے والے دوست احباب جب پوچھتے کہ۔۔
علینہ کیسی ہو۔۔۔؟ کیا ہو رہا ہے؟ تو وہ انتہائی مُدبّرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اُنہیں پوری سنجیدگی اور متانت سے آگاہ کرتی کہ “کچھ خاص نہیں۔۔۔۔ بس اس ہفتے ایک نیا ناول لکھنے کا آغاز کیا ہے۔”
بہت سی قسطوں میں “علینہ” کا یہی ایک مکالمہ دیکھ دیکھ کر ہم بہن، بھائی خُوب ہنستے اور ایک دوسرے سے کہتے کہ یہ “علینہ” آخر چیز کیا ہے۔۔۔۔ خود کو سمجھتی کیا ہے۔ ہر ہفتے ایک نیا ناول لکھ رہی ہوتی ہے۔۔۔۔ کوئی بندہ ہر ہفتے ایک نیا ناول کیسے اور کیونکر لکھ سکتا ہے بھلا۔۔۔

ہم بہن بھائی یہ ڈرامہ دیکھنے کے دوران آپس کی گفتگو میں علینہ پر خوب جُملے کستے۔۔۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر اُس وقت علینہ نے ہمارے جملے سُنے ہوتے تو وہ فوراً “جال” سے کنارہ کشی اختیار کرلیتی۔
برسوں بعد بھی میں “علینہ” کو نہیں بھول سکا۔ اور اب میں سمجھتا ہوں کہ “جال” ڈرامے کی “علینہ” نہایت ہی ذہین لڑکی تھی اسی لیے وہ ہر ہفتے ایک نیا ناول لکھنے کا آغاز باآسانی کر لیتی تھی۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ علینہ کے ڈھیر سارے ناولز جو وہ ہر ہفتے لکھتی تھی وہ کہاں گئے۔۔۔ میرے خیال میں پبلیشرز کی نا اہلی اور کوتاہی کی وجہ سے وہ تمام شاہکار ناولز شائع ہونے سے پہلے ہی کہیں گُم ہو گئے۔ اس لمحے مجھے ایک مصرعہ یاد آرہا ہے۔۔۔
اب انہیں ڈھونڈ چَراغِ رُخِ زیبا لے کر!

آج یکم اپریل 2020 کا دن ہے۔ میں اس گھڑی علینہ کو یاد کر رہا ہوں۔۔۔۔ جانے کیوں مجھے اب “جال” میں “علینہ” کے ہر ہفتے لکھے جانے والے نئے نئے ناولوں پر مکمل اور اندھا یقین ہو چلا ہے اور یہ اندھا یقین مجھے کیونکر نہ ہو کہ۔۔
جب “گوتم حیات” ہر روز لاک ڈاؤن کے ان کٹھن دنوں میں “کرونا ڈائریز” کی نئی نئی قسطیں لکھ رہا ہے تو “علینہ” بھی اُس راحت سے بھرپور زمانے میں ہر ہفتے “جال” ڈرامے میں ایک نیا ناول لکھنے کی صلاحیت سے مالامال تھی۔

سوری علینہ مجھے معاف کر دو۔۔۔ میں تمہارے لکھے ہوئے ڈھیر سارے ناولوں پر اُس وقت اعتبار نہیں کر سکا۔ اب میں بڑا ہو چکا ہوں اور خود بھی لکھنے کا آغاز کر لیا ہے۔ اسی لیے مجھے اب اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے۔۔۔
علینہ تم ابھی کہاں ہو؟؟؟ تم جہاں کہیں بھی ہو بس مجھے معاف کر دو۔ یہ میری التجا ہے۔ کیونکہ ایک لکھاری ہی دوسرے لکھاری کا کرب محسوس کر سکتا ہے۔۔۔ علینہ تمہیں میری آواز آرہی ہے؟؟ میں دوبارہ سے اُس راحت بھرے بچپن کے زمانے میں جانے کے لیے بےچین ہوں۔۔۔۔ کیا تم مجھے وہاں لے کر جاؤ گی۔۔۔۔؟؟؟ جواب دو علینہ۔۔؟؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *