• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • آزادی اظہار رائے کی سزا ۔جان لیوا کرونا اور مذہبی طبقات۔۔راؤ شاہدمحمود

آزادی اظہار رائے کی سزا ۔جان لیوا کرونا اور مذہبی طبقات۔۔راؤ شاہدمحمود

کرونا کی وجہ سے گھر میں مقید ہوئے کافی دن بھی بیت چکے ہیں ۔ کتابیں پڑھ کر اور موویز دیکھ کر دماغ کو مصروف کرنے کی بڑی کوششیں کی لیکن موجودہ حالات نے جیسے دل و دماغ میں ایک انتشار برپا کیا ہوا ہے ایک طرف کرونا کی منحوس وبا کی وجہ سے دنیا بھر سے دکھی خبروں پر دل اداس ہے تو دوسری طرف پاکستانیوں کی بے احتیاطی پر دل کڑتا ہے۔ لاپرواہی اگر ان پڑھ طبقہ یا پیٹ کی آگ سے مجبور مزدور سڑک پر کھڑا ہو کر روزی کمانے کی تلاش میں کرے تو اس کی وجہ سمجھ آتی ہے لیکن بےاحتیاطی وہ لوگ کریں جو لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں لے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ان کی نا  سمجھی پر حیرت ہوتی ہے، تیسرے اپنے ملک کے سیاسی اور معاشی حالات اور اس پر ارباب اختیار کا غیر سنجیدہ رویہ اس دماغی انتشار کو ہوا دے کر آگ لگانے کی پوری سعی کرتا ہے پاکستان اور دنیا بھر میں ہونے والے کل کے واقعات اور خبروں نے دماغ میں ایک تہلکہ  سمجھ  رکھا ہے کبھی سوچتا ہوں کرونا کی بے احتیاطی پر مذہبی طبقے کے بارے میں لکھوں اور کبھی سوچتا ہوں ارباب اختیار کے غیر سنجیدہ رویے پر لکھوں کیونکہ یہ وہی طبقہ ہے جو ڈیڑھ دو سال پہلے پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا چیمپئن سمجھا جاتا تھا اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس موضوع پر تقاریر کرتے نظر آیا کرتا تھا لیکن وہ کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ کردار کا پتا اسی وقت چلتا ہے جب اختیار ہاتھ میں ہوتا ہے ورنہ بغیر اختیار کے تو آپ مظلومیت کا رونا رو کر ہمدردیاں سمیٹ ہی لیتے ہیں۔ اور معصوم طبقہ غلط فہمی میں آپ کو اپنی آواز سمجھنے لگتا ہے۔

شروع کرتے ہیں 2006 سے جب میں نے جیو جوائن کیا میں تین سال تک اس ادارے سے وابستہ رہا جیو کے علاوہ میں نے ہم ٹی وی دنیا نیوز اور سماء میں کام کرنے کا تجربہ حاصل کیا ایسا نہیں کہ یہ ادارے اچھے نہیں، ہر لحاظ سے انٹرنیشنل سٹینڈرڈ پر کام کرتے ہیں لیکن جو پروفیشنلزم اور اظہار رائے کی آزادی جیو جنگ اور اس کے اخبارات اور چینلز سکھاتے ہیں میں نے کہیں اور نہیں دیکھے ی،ہ وہ واحد ادارہ ہے جس پرمالکان کے خلاف بھی خبر چل سکتی ہے اور چلتی رہی ہے ان کے اداروں میں کام کرنے والے لوگ ادارے کے مالکان کے خلاف آرٹیکل لکھ سکتے ہیں اور خبریں دے سکتے ہیں اور دیتے رہے، ایسے بہت سے لوگوں کو میں جانتا ہوں جو اپنے آرٹیکل کے اختتام پر یہ لکھتے رہے ہیں کہ اتنا سب کچھ لکھنے کے بعد پتہ نہیں میں کل آفس جا سکوں گا یا نہیں لیکن آج کئی سال گزرنے جانے کے باوجود بھی وہ اسی طرح مکمل آزادی کے ساتھ اس ادارے میں نوکری کر رہے ہیں۔

میر شکیل الرحمان پابند سلاسل  ہیں 34 سال پرانا کیس جس میں زمین کے لین دین کا مسئلہ ہے جس کو بنیاد بنا کر میر صاحب کو گرفتار کیا گیا ہے ،کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔ بہت اچھی بات ہے ہونی چاہیے۔ مجھے یاد ہے میر صاحب پر انڈیا اسرائیل امریکہ اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے فنڈنگ لینے کے الزامات لگتے رہے ہیں اور بہت سے لوگ تو کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ثبوت بھی موجود ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں سالہا سال گزر جانے کے باوجود ثبوت ان کے ڈرائنگ رومز اور جلسہ گاہوں سے کمرہ عدالت تک نہیں آ رہے اگر ایک آدمی پاکستان کے خلاف کوئی کام کر رہا  ہے اور آپ کے پاس ثبوت موجود ہیں اور آپ وہ ثبوت لے کر عدالت میں نہیں جاتے تو میرے خیال میں اس سے زیادہ آپ گنہگار ہیں ، اور اگر آپ کے پاس صرف الزامات ہیں اور ثبوت نہیں تو آپ قوم کو جھوٹ بول کر بیوقوف بنا رہے ہیں یہ پہلی حکومت نہیں جس میں میر شکیل الرحمان کے خلاف اس طرح کا قدم اٹھایا گیا ہے اس سے زیادہ سخت پابندیاں یہ ادارہ پہلے بھی برداشت کر چکا ہے اپنی طالب علمی کے زمانے میں مجھے یاد ہے جب اسی طرح کی ایک سیاسی حکومت نے جنگ گروپ کے پیپر روک لیے تھے اور یہ اخبار چند صفحات تک محدود ہوگیا تھااور جنرل مشرف کے دور حکومت میں بھی یہ ادارہ کی قید و بند کی سعوبتیں برداشت کرتا رہا ہے۔

کل سے دل دکھی اس لیے ہے ،کہ صبح صبح میر جاوید رحمان کی وفات کی خبر سن لی، جیو میں تین سال کام کے دوران جاوید صاحب سے ایک مرتبہ کراچی میں ملاقات ہوئی تھی، نہایت نفیس دھیما مزاج ،عاجزی پسند اور وسیع نظریات کی مالک شخصیت کے حامل تھے۔ اللہ تعالی ان کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ،جب مجھے پتہ چلا کہ وہ کافی عرصہ سے پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا تھے اور اپنے چھوٹے بھائی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری پر بہت دل گرفتا ہو گئے تھے ،اور میر شکیل الرحمان بھی اس حالت میں ان سے ملنا چاہتے تھے ،لیکن ان کو ضمانت نہیں دی گئی اور دونوں بھائیوں کی آخری ملاقات نہیں ہوسکی ، بس یہی سوچ سوچ کر اور اپنے ملک کے حالات دیکھ کر انکی بے بسی اپنی بے بسی لگنے لگی تھی، ایسا بھی کیا سزائے موت کے مجرم کو بھی اس کی آخری خواہش پوچھ کر پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کی بھی اس کے اہل خانہ سے آخری ملاقات کروائی جاتی ہے یہ تو قانون بھی اجازت دیتا ہے اور معاشرہ بھی ہمارا قانون اور معاشرہ کس کے ہاتھ میں آگیا ہے۔

اگر سزا دینی ہی ہے تو بد نام زمانہ ایڈن ہاؤسنگ سکینڈل میں ڈاکٹر امجد اور اس کے بیٹے مرتضی امجد جو بالترتیب سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے سمدھی اور داماد ہیں ا،ن کو دے جنہوں نے پاکستان بھر میں ہزاروں پاکستانیوں کا مال کھایا ہے میں ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنی زندگی کی جمع پونجی ایڈن کے ہاتھوں اجڑوا کر اسی دکھ میں اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ بیسیوں میڈیا ورکرز کے پیسے ایڈن کے مالکان کھا چکے ہیں لیکن ان کو پکڑا جاتا ہے اور باہر ہی باہرضمانت پرچھوڑ دیا جاتا ہے۔

جیو کو میں نے اس وقت جوائن کیا جب میرا صحافت کا تجربہ فقط چند سال کا تھا جنرنلزم اور آزادی اظہار رائے کی اصل روح مجھے اسی ادارے نے سکھائی ہے، میر شکیل الرحمان ہومیرابراہیم یا میرجاوید رحمن یہ وہ لوگ ہیں ،جنہوں نے میڈیا ورکرز کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں ان کو ایک بہترین لائف سٹائل دیا ہے، یہی لوگ صحافت کو جدید اصولوں پر استوار کرنے کے طریقے بھی متعارف کرواتے رہے ہیں ،میڈیا ورکرز اور ٹی وی اینکرز کی تنخواہیں ہزاروں سے لاکھوں اور ملینز تک پہنچانے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے، ایک مرتبہ ایک سینئر جرنلسٹ (احمد ولید کنٹرولر سماء ٹی وی) نے مجھے ایک واقعہ سنایا انھوں نے کہا جب کمپیوٹر نیا نیا آیا تو سب سے پہلے اس ادارے نے اپنے نیوز روم کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر شفٹ کیا ٹیکنیکل ٹیم نے بتایا کہ کمپیوٹر کے لیے ایئر کنڈیشنڈ بہت ضروری ہے ،اس وقت کا ایک اور بڑا اخبار نوائے وقت بھی کمپیوٹر متعارف کروا چکا تھا، انہوں نے اے سی صرف اسی کمرے میں لگوایا تھا جس کمرے میں کمپیوٹر تھے، جبکہ میر شکیل الرحمان نے ائیرکنڈیشنڈ کمپیوٹر روم کے علاوہ پورے آفس میں لگوائے اور کہا کہ کمپیوٹر کے ساتھ ساتھ میراسٹاف بھی بہت اہم ہے ا،گر کمپیوٹر کے لیے اے سی لگے گا تو ورکرز کے لیے بھی لگے گا۔ آج وہ پابند سلاسل ہیں، اپنے بھائی کو زندگی سے رخصت ہوتے خدا حافظ نہیں کہہ سکے۔


جب میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی خبر آئی تو اسی شام سلاخوں کے پیچھے سے ان کی ایک تصویر لیک ہوئی تو میں سوچ رہا تھا شاید وہ ایسا ہی منظر ہوگا اور خبر ہوگئی جب حبیب جالب اور فیض احمد فیض کو حوالات میں بند کیا گیا ہوگا اس وقت بھی ایک خاص طبقہ ان کو غدار اور وطن فروش کہہ رہا ہوگا لیکن پھر تاریخ نے ثابت کیا کہ وہ ہی اصل ہیروز تھے جو معاشرے کو تاریکی سے نکالنا چاہتے تھے کہاں گئے فاطمہ جناح کو غدار اور فیض احمد فیض کو دہریا کہنے والے ۔ پاکستان کی بقا اور ترقی کے لئے ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات اور معاشی مضبوطی بہت ضروری ہے میڈیا کی آزادی کے بغیر یہ خواب نہ مکمل ہے اور میر شکیل الرحمان جیسے لوگ دہائیوں سے اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور شاید کرتے رہیں گے

اب بات کرتے ہیں کرونا کی بے احتیاطی کی ،آج کی خبروں نے بہت اداس کیا ،میں کیوں کہ خود پروگریسو مذہبی سوچ کا آدمی ہوں اس لیے اگر مذہبی طبقے کی طرف سے کوئی ناامیدی کی خبر آئے تو دل بہت دکھتا ہے ایران سے آنے والے زائرین ہوں یا رجب کے مہینے میں حضرت امام موسی کاظم کی شہادت کا جلوس نکالنے والے کسی نے حکومت کی طرف سے احتیاطی تدابیر کا بار بار بتائے جانے کے باوجود اثر نہیں لیا ،دوسری طرف حکومت نے بھی بارڈر پر زائرین کو بھیڑ بکریوں کی طرح رکھا اور یہ لوگ ابتدائی دنوں میں پاکستان میں وائرس کو لانے کا باعث بن گئے اس کو حکومت کی نااہلی و بد انتظامی کہیں یا زائرین کی بے احتیاطی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مذہبی لوگ مہلک جان لیوا وبا کو پاکستان میں لانے کا باعث بن گئے۔

دوسری طرف تبلیغی مرکز رائیونڈ کا اجتماع تھا۔ 70 ہزار لوگ جمع ہوگئے اگرچہ حکومت کی درخواست پر یہ مجمع واپس چلا گیا ،لیکن ہزاروں لوگ تبلیغی مرکز میں ہی رہے جماعتیں تشکیل دی گئیں اور لوگ کراچی سے خیبر تک مختلف مساجد میں چلے گئے، جب ان پر زور دے کر کہا گیا کہ حالات بہت خراب ہونے والے ہی فاصلہ رکھنا بہت ضروری ہے، تو ان لوگوں نے توجیہہ  پیش کی کہ مساجد میں کرونا نہیں آ سکتا اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا تھا ،کہیں سے 94 تبلیغی پازیٹو آ رہے ہیں تو کہیں سے 50 کہیں سے 36 تو کہیں سے 20۔ پاکستان کے کونے کونے سے جہاں یہ جماعتیں گئی تھیں کرونا ان کے ساتھ ٹریول کرگیا حتی کہ ملائیشیا تک یہ جماعتیں کرونا اپنے ساتھ لے جانے کا باعث بن گئیں۔

میری اور آپ کی بھلائی اللہ نے دین میں رکھی ہے اسی پر آج بقیہ نماز کے بعد بات ہوگی یہ وہ اعلان ہے جو تبلیغی عموما نماز عصر اور عشاء کے فرض با جماعت ادا کرنے کے بعد مسجد میں کرتے ہیں اور لوگ سنتیں اور نوافل ادا کرنے کے بعد بیٹھ کر ان کی بات سنتے ہیں۔ مذہبی طبقے اور علمائے کرام سے درخواست ہے کہ آپ سے لوگوں کو زیادہ توقعات وابستہ ہیں مشکل کی اس گھڑی میں اگر ہم چند دنوں کے لیے ہر طرح کے استعمال سے احتیاط برت لیں گے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے آپ سے مشورہ کرکے اصل میں حکومت نے آپ کو عزت دی ہے کیونکہ آپ لوگ عزت کے قابل ہیں خدارا اس عزت کو ضائع نہ کریں ورنہ شادی ہال اسکولز کالجز یونیورسٹیز مارکیٹس کسی سے مشاورت نہیں کی گئی ان کو صرف آرڈر کیا گیا ہے اور قانون کی حکمرانی آرڈر سے ہی ہوتی ہے اور ترقی بھی وہی قومیں کرتی ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔ جب کہ قانون کے سامنے کھڑا ہونے والا باغی کہلاتا ہے آگے آپ کی مرضی دیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *