عالمی وباء اور ہمارا طرزِ معاشرت۔۔محمد اسد شاہ

کرونا وائرس کی دریافت گزشتہ سال کے اواخر میں ہمارے پڑوسی ملک چین کے شہر ووہان میں ہوئی – ابتداء میں لوگوں نے اس کو صرف وہیں کا کوئی مقامی مسئلہ سمجھا – بلکہ ہمارے ہاں اس حوالے سے چینیوں کی خوراک وغیرہ پر بہت باتیں ہوتی رہیں اور لوگ اسی بات پر مطمئن رہے کہ ، شکر ہے ، ہم چمگادڑ اور چوہے نہیں کھاتے – یہ کسی نے نہیں سوچا کہ ہم خود کیا کیا کھاتے ہیں – چینی جو کچھ کھاتے ہیں وہ انھیں بھی معلوم ہے اور ہمارے بہت سے لوگوں کو بھی معلوم ہے – لیکن جو کچھ ہم کھاتے ہیں ، اگر مسلم لیگ (نواز) کی گزشتہ حکومت فوڈ اتھارٹی جیسا ادارہ نہ بناتی تو بے شمار لوگوں کو کبھی معلوم نہ ہو سکتا – ہمیں تو تب پتہ چلا کہ کراچی تا پشاور ، بے شمار لوگ ہوٹلوں پہ جا کے مٹن کڑاہی اور بیف کڑاہی کے نام پر گدھوں اور کتوں کا گوشت بھی کھاتے ہیں – مچھلی فرائی کر کے کھلانے والے ، ملک گیر شہرت کے حامل ایک ہوٹل پر چھاپہ مارا گیا تو اس کے عقبی صحن میں زمین پر ، فرش پر اور لکڑی کے بڑے بڑے تختوں پر سمندری اور فارمی مچھلیوں کا ڈھیر جانے کب سے رکھا تھا – ان کے مردہ جسموں میں چھپکلیاں اور چوہے رہائش پذیر تھے – چوہوں کے نومولود بچے ان مچھلیوں کے کٹے ہوئے جسموں کے اندر پل رہے تھے اور چھپکلیوں کے انڈوں اور باریک باریک بچوں کا جم غفیر بھی وہیں موجود تھا – ہوٹل کے ملازمین کسی ایک مچھلی کو اٹھاتے ، اسے جھٹکے سے جھاڑتے – نامطلوب جانور علیحدہ ہو کر گر جاتے اور باقی مچھلی پر بیسن مل کر کھولتے ہوئے گھی میں ڈال دیا جاتا – کھانے والوں کو کیا معلوم کہ مچھلیاں کن کن حالات سے گزر کر ان کے معدوں میں پہنچتی رہیں – ہوٹلوں میں گھی کون سا استعمال ہوتا ہے ؟ اگر میں اس پر بات کروں تو بہت سے قارئین کو ابکائیاں آنے لگیں گی اور شاید بعض حساس لوگوں کے دل ہی بند ہو جائیں – انڈے کن جانوروں کے کھلائے جاتے ہیں ، گلی گلی بنی ہوئی شوارموں کی دکانوں پر گوشت کہاں سے آتا ہے ، مرچوں میں کیا ڈالا جاتا ہے ، کیچپ نامی چیز کیسے بنتی ہے ، مایونیز کیسے گاڑھا ہوتا ہے ، دودھ کس کس جانور کا بکتا ہے ؟ دودھ کو خالص ظاہر کرنے کے لیے اس میں کون سا سفوف (پاؤڈر) ڈالا جاتا ہے ، بتا دوں ؟ نہیں ، اخلاقیات اور شرم آڑے آ رہی ہے – ایسا سائنس دان معاشرہ ، کہ ان پڑھ یا تین تین جماعتیں پڑھے ہوئے دکان دار اور  ان کے کم عمر ملازمین ، جنھیں صفائی ستھرائی کے عمومی یا شرعی تقاضوں کا کچھ پتہ نہیں ہوتا ، ایسا “دودھ” ایجاد کر چکے ہیں کہ جس میں سرے سے دودھ ہوتا ہی نہیں –

2019 کے اعداد و شمار کے مطابق ایک بڑے شہر (نام نہیں لکھ رہا) میں دودھ کی دکانوں کے لیے روزانہ بیرون شہر اور دوسرے اضلاع سے تقریباً 35 لاکھ لٹر دودھ آتا ہے ، لیکن اس شہر کے باسی انھی دکانوں سے روزانہ تقریباً 72 لاکھ لٹر دودھ خریدتے ہیں – اب خود ہی غور کر لیجیے ، وہ کون سی سائنس اور ٹیکنالوجی ہے کہ جو 35 لاکھ لٹر کو 72 لاکھ لیٹر میں تبدیل کر سکتی ہے ، اور دودھ بھی پتلا نہیں ، بلکہ گاڑھا ، جس کے ابالنے پر اس میں کچھ نہ کچھ بالائی بھی بنتی ہے – اس “دودھ” سے لسی ، دہی اور چائے بھی بن جاتی ہے – ہم کیا کیا کھاتے اور کھلاتے ہیں ، اس پر تفصیلی بات کروں تو بہت طویل ہو جائے گی – لیکن پرنالہ وہیں بہتا رہے گا – چنانچہ میں دوبارہ اس موضوع پر آتا ہوں جس سے کالم کا آغاز کیا ، یعنی کرونا وائرس – چین سے لوگوں کی ہلاکتوں کی خبریں آنا شروع ہوئیں – ہم اللّٰہ تعالیٰ کے آخری نبی سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان رکھنے والے امتی ہیں – اس بات پر ہم سب اللّٰہ رب العزت کے شکر گزار ہیں – اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اگر کسی علاقے میں وباء پھیل جائے تو وہاں سے نکلنے یا وہاں جانے ، دونو باتوں سے ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے منع فرمایا ہے – لیکن ہمارے ہاں لوگ شاید اس حدیث کی حکمت پر غور ہی نہیں کرنا چاہتے – سب نے شور مچا دیا کہ چین میں مقیم پاکستانیوں کو واپس لایا جائے – سرکاری حکام اس وجہ سے متأمل تھے کہ جہاں وباء ہے ، وہاں سے لوگ ہمارے شہروں میں آئے تو وائرس یہاں منتقل کرنے کا باعث بن سکتے ہیں – پھر پڑوسی ملک ایران میں بھی اسی وباء نے تباہی کا آغاز کر دیا – ہلاکتوں کی خبریں آنے لگیں – وہاں موجود پاکستانیوں کو بھی فوراً وطن کی محبت ستانے لگی – ہمارے سرحدی محافظوں نے سرحدیں بند کر رکھی تھیں – لیکن ایک وفاقی وزیر اور ان کی سیاسی جماعت کے ایک اور سرکردہ راہنما کے دباؤ پر غیر اعلانیہ طور پر تفتان بارڈر کھول کر رات ہی رات میں ہزاروں لوگوں کو پاکستان میں داخلے کی کھلی اجازت دے دی گئی – اس دوران خبریں آنا شروع ہوئیں کہ اٹلی ، سپین ، فرانس ، برطانیہ اور امریکہ وغیرہ سے بھی پاکستانیوں کی بڑی تعداد وطن واپسی کی خواہش مند ہے – فلائٹ آپریشنز بند ہونے تک ہزاروں تارکین وطن واپس تشریف لے آئے – جن ممالک میں علاج معالجے کی سہولیات نسبتاً زیادہ ہیں ، لوگ وہاں سے یہاں آ گئے – سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں – چنانچہ وہی ہوا جو ، حدیث کی نافرمانی پر ہونا چاہیے تھا ، یعنی ان ممالک سے یہ وباء ، ہمارے اپنے پاکستانی ، اپنے ساتھ لے آئے – نتیجہ یہ کہ اب سینکڑوں پاکستانی اس وباء کے علاج کے لیے قرنطینہ مراکز میں ہیں – کیا ان پاکستانیوں میں سے کسی ایک کو بھی نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث معلوم نہیں تھی یا انھیں کسی نے کبھی یاد ہی نہیں دلائی ؟

اب بھی حالت یہ ہے کہ جب آدھی سے زیادہ دنیا میں لاک ڈاؤن چل رہا ہے اور ماہرینِ صحت چیخ رہے ہیں کہ خدارا اپنے گھروں میں رہیے ، محفوظ رہیے اور دوسروں کو بھی محفوظ رہنے دیجیے ، مجال ہے جو لوگوں کے کان پر جوں بھی رینگے – سندھ کی صوبائی حکومت نے تو اس معاملے میں بہت عمدہ اور بروقت اقدامات کیے اور لوگوں کو زبردستی محفوظ رہنے کے آداب سکھانا شروع کر دیئے – اس پر عالمی ادارۂ صحت بھی وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی تعریف کر رہا ہے – گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن بھی اپنے تئیں عوام کی حفاظت کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں – آزاد کشمیر میں وزیراعظم سردار فاروق حیدر خان کی کوششیں بھی قابلِ تعریف ہیں – بلکہ انھوں نے تو نئے تعمیر شدہ وزیراعظم ہاؤس کو بھی قرنطینہ مرکز میں تبدیل کر دیا ہے – ریاستی وزیر مشتاق منہاس بھی ان معاملات میں پیش پیش ہیں – اللّٰہ بھلا کرے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا ، کہ انھوں نے اپنی علالت کے باوجود شہباز شریف کو لندن سے لاہور بھیجا – شریف خاندان کی ذاتی جیب سے چلنے والے فلاحی ہسپتالوں سمیت ان کے باقی ہسپتالوں اور رائے ونڈ میں ان کی 300 کنال زرعی زمین کو بھی قرنطینہ مراکز بنانے کے لیے حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا گیا – مسلم لیگ (نواز) کی طرف سے پاکستانی ڈاکٹرز اور طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان کے عطیات بھی دیئے جا رہے ہیں – شہباز شریف کے آنے اور شور مچانے سے پنجاب ، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں اور خود وفاقی حکومت کی بھی نیند ٹوٹ گئی – لیکن اصل مسئلہ پھر وہیں ہے کہ جب تک عوام خود پوری سنجیدگی کے ساتھ اس وباء سے بچنے کی کوشش نہیں کریں گے ، تب تک حکومتوں کی محنت فائدہ مند نہیں ہو سکتی – تو بھائیو ! خدارا ، اپنے طرزِ معاشرت کو تھوڑا تبدیل کر لیجیے اور ماہرینِ صحت کے مشوروں پر عمل کیجیے – اللّٰہ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے –

محمد اسد شاہ
محمد اسد شاہ
محمد اسد شاہ کالم نگاری اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں - پاکستانی سیاست ، انگریزی و اردو ادب ، تقابل ادیان اور سماجی مسائل ان کے موضوعات ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *