گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(17)۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

کافروں کا نور بھرا تہوار “ویلنٹائنز ڈے” آن پہنچا تھا۔ حنان کی رگ پھڑکنا شروع ہو چکی تھی۔ عثمان بھائی اچھی خاصی سرمایہ کاری کر چکے تھے۔ وہ منجھے ہوئے سرمایہ کار تھے۔۔۔ ناپ تول اور بھاؤ کے ماہر۔ حنان دل والا تھا۔ جب سے ننھی منی پری طیبہ اس کی زندگی میں آئی تھی، وہ ویلنٹائینز ڈے بڑے ذاتی جوش وخروش اور بھرپور اہتمام کے ساتھ مناتا۔ لیکن اس بار اس کا ارادہ تھا کہ طیبہ کے ساتھ اس دن کو یادگار بنائے گا۔ مہینوں سے وہ منصوبہ بندی کر رہا تھا۔وہ بہت پُر امید تھا ۔مگر اس دن کے قریب آتے ہی طیبہ اور حنان کے باہمی تعلقات میں دراڑیں پڑ چکی تھیں۔ حنان نے ایک نمبر زیادہ لے کر اپنی ہی لٹیا ڈبو تھی۔ Bonfire پہ حنان نے بہتیرے ہاتھ پیر  مارے ،پر مداوا نہ ہوا۔ طیبہ نے اسے جھنڈی کرا دی تھی۔

چودہ فروری آنے والا تھا۔ اتنے کم وقت میں حنان کوئی اور مینج نہیں کر سکتا تھا۔دوبارہ کوشش کرنے کےعلاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔ اس نے چھے سات سو الفاظ پر مشتمل ‘ہیپی ویلنٹائنز ڈے’ والا ایک ٹیکسٹ اپنے دوست سے لکھوایا، بار بار پڑھا۔ اس ٹیکسٹ کو پڑھ کر حنان کو طیبہ والی فیلنگز آتیں۔اس کا دل کرتا خود اپنے آپ کو یہ ٹیکسٹ بھیجے اور پھر فوراً ہی طیبہ بن کر “قبول ہے، قبول ہے” کے جادوئی کلمات دہرائے۔ بڑا رسیلا ٹیکسٹ تھا۔

12 بجتے ہی حنان نے فوراً طیبہ کو وہی ٹیکسٹ کیا۔ “پگھل جائے گی۔” اس نے سوچا۔ اور خود ہی ساتھ ساتھ پڑھنا شروع کیا۔
“پگھل جائے گی۔۔۔۔۔بس ہاں ۔۔۔یہ تو شروع میں ہی پگھل جائے گی۔۔۔۔۔۔” وہ یہ سوچتے ہوئے مسکرانے لگا۔ “ابھی پگھ۔۔۔”

“شیم آن یو۔” تیس سیکنڈ کے اندر طیبہ کا ریپلائی آچکا تھا۔ وہ بھڑک اٹھی تھی۔ حنان نے دوبارہ اس کا ریپلائی دوبار پڑھا۔ پھر سےآنکھیں دوڑائیں۔’شیم آن یو’ ہی لکھا تھا۔ اس نے اپنے کیے گئے ٹیکسٹ کو دوبارہ پڑھا۔ سستے ڈائیلاگز اور پیار محبت کے چھچھورے اور وافر مقدار میں اظہار کے علاوہ کوئی اور واہیات بات نہ تھی۔

“کیا ہوا؟” حنان نے طیبہ سے پو چھا۔

“کیا ہوا۔۔کیا مطلب!شرم آنی چاہیے تمہیں۔۔”

“کیوں۔۔کیا مطلب؟” حنان نے وضاحت چاہی۔

“اتنا بے ہودہ میسج کرتے ہوئے شرم نہیں آئی آپ کو۔۔۔یہ کافروں کا دن ہے۔ وہی مناتے ہیں۔ بے حیائی پھیلاتے ہیں۔” طیبہ پگھلنے کی بجائے تپ چکی تھی۔ “ویلنٹائنز ڈے کا آغاز یہودیوں نے کیا تھا۔ اب وہ فحاشی اور عریانی پھیلانے کے لیے اسے مسلمانوں میں عام کر رہے ہیں۔”

“اچھا۔۔” حنان بس اتنا کہہ سکا۔ اسے لگا کہ وہ معلومات کی کمی کا شکار تھا۔ طیبہ ایک نیک صفت اور سخت گیر استانی کی طرح اسے سمجھاتی رہی۔۔۔ حنان کےچودہ طبق روشن کرتی رہی۔
“اس کی بجائے ہم یومِ حیا مناتے ہیں۔ تاکہ یہودونصاری کی سازشوں کا توڑ کیا جاسکے۔” طیبہ کفار کے سامنے ایک سیسہ پلائی دیوار بن چکی تھی اور حنان کو ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے وہ اس دیوار میں سوراخ کرنے کا سوچ کے عظیم جرم کا مرتکب ہورہا ہے۔

“تم مجھے ایسا سمجھتے ہو؟ ایسی لگتی ہوں میں  تمہیں؟” طیبہ اس سے سوال کرنے لگی۔

” سوری۔”حنان کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا۔ اس نے ہیپی ویلنٹائنز ڈے والےمیسج کو “This message was deleted” کرکے سکھ کا سانس لیا۔ طیبہ نے دس بیس درجن میسجز کرکے اس کی آنکھیں کھول دیں۔ ننھی منی طیبہ نے کمال سمجھ داری سے حنان کے کانسپٹس کلئیر کردیئے۔حنان کو معلوم ہوچکا تھا کہ ویلنٹائنز ڈے کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی اور کیسے یہودونصاریٰ  مسلمانوں کی شرافت برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ حنان اپنے آپ کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگا۔ اسے لگا جیسے وہ بھی کوئی چھوٹا موٹا یہودی ہے جو کفار کا آلہ کار بن کر کام کر رہا ہے۔ کڑکڑاتی سردی کی رات میں وہ شرم کے مارے پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔ طیبہ نے بھٹکے ہوئے حنان کی اصلاح کردی تھی۔ اسے یاد آرہا تھا کہ اس دن Bonfire والے دن بھی طیبہ ایک گنجے شخص کو “١۴” کا نشان بنا کے’اینٹی ویلنٹائنز ڈے’ منانے کا کہہ رہی تھی۔ حنان کو اپنی طیبہ پر فخر محسوس ہو رہا تھا۔

اگلے دن ہر طرف ہلچل تھی۔ اتفاق سے جمعے کا دن تھا۔ کلاس میں کچھ لڑکیاں ایک دوسرے سے اپنے اپنے ‘ویلنٹائن’ ڈسکس کر رہی تھیں۔ جب کہ اکثر کافروں کے اس تہوار کا نام لینے پر کھلم کھلا لعنت و تبریٰ  اور غم وغصے کا اظہار کر رہی تھیں۔ طیبہ کو ان نہتی لڑکیوں پر فخر محسوس ہو رہا تھا جو مذمت میں پیش پیش تھیں۔ ان کے خیال میں اس کی بجائے ‘اینٹی ویلنٹائنز ڈے” منایا جائے تاکہ کافروں کے پتھر کا جواب مسلمانی اینٹ سے دیا جاسکے۔ طیبہ نے بھی بھرپور طریقے سے اینٹی ویلنٹائنز ڈے منانے کا تہیہ کر رکھا تھا۔

شام ہوتے ہی اس نے تیاری شروع کر دی۔ وہ آج کافی غصے اور جوش میں تھی۔ اس نے سرخ اور شوخ کی بجائے سیاہ لباس زیبِ تن کیا تھا۔ اس کے نزدیک مسلمانوں کا کافروں کے تہوار کے قریب پھٹکنا کسی ‘بلیک ڈے’ سے کم نہ تھا۔ اسے بار بار ان پر غصہ آرہا تھا۔ اس نے امی کو بتایا تھا کہ آج  شام اس کی ہسپتال میں وارڈ کلاس ہے کیونکہ پرنسپل صاحب بہت سختی کررہے ہیں۔ اس کی امی کو فخر محسوس ہو رہا تھا کہ ان کی بیٹی بہت پڑھنے والی ہے.

مغرب ہوتے ہی اس نے کریم بک کرائی اور وارڈکلاس لینے سیدھا بندو خان ریسٹورنٹ جا پہنچی۔ باپ جیسے شفیق انسان عثمان بھائی وہاں پہلے سے اس کے منتظر تھے۔ طیبہ مسکرا کر ان کے سامنے بیٹھ گئی۔ طیبہ کو دیکھ کر ان کی باچھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہ حسرت سے اپنی توند پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ان کے منہ میں پانی آرہا تھا۔ ابتدائی سلام دعا ہوئی۔

“اُدھر دیکھو۔۔۔” عثمان بھائی نے اپنی بائیں طرف بالکل سیدھ میں ٹیبل کے گرد بیٹھے لڑکے لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ ” یہ بھی لازمی ویلنٹائنز ڈے منانے آئے ہوئے ہیں۔” طیبہ نے زہر آلود نظروں سے اس ٹیبل کی طرف دیکھا اور فوراً حقارت سے نظریں موڑ دیں۔

“ہر جگہ فحاشی پھیل چکی ہے۔ نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہے۔ ہمارے زمانے میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ ہم بہت شریف تھے۔” عثمان بھائی باپ کا روپ دھار چکے تھے۔طیبہ ان کی باتیں بہت غور سے سن رہی تھی۔

“یہ کافروں کا تہوار ہے۔ ویلنٹائنز ڈے کا آغاز یہودیوں نے کیا تھا۔ اب وہ فحاشی اور عریانی پھیلانے کے لیے اسے مسلمانوں میں عام کر رہے ہیں۔” عثمان بھائی وہی باتیں دہرا رہے تھے جو طیبہ نےرات حنان کو سمجھائی تھیں۔ عثمان بھائی نے ہی طیبہ کو یہ باتیں ذہن نشین کرائی تھیں۔ طیبہ خوش تھی کہ حنان کو راہِ راست پر لانے کا ثواب عثمان بھائی کو بھی جائے گا۔

طیبہ خاموش بیٹھی رہی۔ وہ بس مسکرا رہی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ کتنے اعتماد کے ساتھ عثمان بھائی نے ویٹر کو بلایا اور ویٹر کس طرح بھیگی بلی بن کر بڑے ادب واحترام کے ساتھ ان کا آرڈر نوٹ کر رہا تھا۔

“فحاشی بہت عام ہوگئی ہے۔ لوگ بس وقت گزارتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ۔خاص طور پر یہ نئی نسل۔۔۔۔۔ انتہائی بے حیا ہے۔ خلوص نام کی کوئی چیز نہیں ان میں”

” جی جی بالکل” طیبہ نے فوراً زور زور سے اثبات میں سع ہلایا۔

“کوئی کسی کے ساتھ مخلص نہیں۔۔۔ مجھے آج تک کوئی مخلص دوست نہیں ملی۔ٹرائی بھی نہیں کیا میں نے۔” پاس سے گزرتا والا ویٹر چونک کر گردن موڑتے ان کی طرف دیکھ کر آگے بڑھ گیا۔

” میں چاہتا ہوں کی کوئی ایسی ملے جو مخلص ہو۔ مجھے سمجھنے کی کوشش کرے۔۔۔ بہت خوبصورت ہو۔۔وفادار ہو،بے حیا نہ ہو، اینٹی ویلنٹائنز ڈے مناتی ہو۔۔ کسی کے  ساتھ بات بھی نہ کرتی ہو بالکل، میرے ساتھ زندگی گزارسکے۔۔۔ بہت پیار کروں گا میں اسے۔ ” عثمان بھائی کی رال ٹپک   رہی تھی۔ طیبہ کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ وہ اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کر رہی تھی۔

کھانا لایا گیا۔ عثمان بھائی جی بھر کر ویلنٹائنز ڈے کی مذمت کرتے رہے۔ وہ یہ دن منانے والے لفنگوں پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دو حرف بھیجتے رہے۔ طیبہ زور زور سے سر ہلا کر ان کی تائید کرتی رہی۔ اس کے دل میں عثمان بھائی کی قدر ومنزلت بڑھ  چکی تھی۔ وہ بہت خوش تھی ۔

“چلیں اب چلتے ہیں یہاں سے۔۔۔ ادھر سارے بے حیا آئے بیٹھے ہیں۔” عثمان بھائی اردگرد اچٹتی نگاہ ڈالتے ہوئے کہنے لگے۔ طیبہ نے ہاں میں ہاں ملائی۔

“یہاں سے ‘پاک ہوٹل’ چلتے ہیں۔ وہاں بیٹھ کر سب ویلنٹائنز ڈے منانے والوں پر لعنت بھیجیں گے اور سکون سے’اینٹی ویلنٹائینز ڈے: منائیں گے۔” عثمان بھائی نے پروگرام ترتیب دے رکھا تھا۔ طیبہ تھوڑا کنفیوز ہوئی۔

“پھر میں وہاں سے اپنی گاڑی پہ  آپ کو گھر ڈراپ کردوں گا۔” یہ کہہ کر عثمان بھائی نے ویٹر کو بلایا۔بل ادا کیا اور بقیہ اسے بطور ٹپ رکھ لینے کا کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ طیبہ عثمان بھائی کی فراخ دلی سے بہت متاثر تھی۔ وہ ان کے سحر میں مبتلا تھی۔ ‘ایک انسان اتنا اچھا کیسے ہو سکتا ہے؟’ اس نے سوچا۔

عثمان بھائی کا گزشتہ چند سالوں سے یہی معمول تھا۔ وہ ہر سال کسی نہ کسی کو راہ راست پہ  لا کر  ہوٹل چلے جاتے تھے۔ جب سےانہوں نے گاڑی لی تھی،جونیئرز بہت تیزی سے راہِ راست پر آجاتی تھیں۔ عثمان بھائی کو زیادہ منصوبہ بندی نہیں کرنی پڑتی تھی۔سالوں سے یہی فکسڈ پروگرام تھا۔ جس میں بس کھانے کا وینیو ہی ایک دو بار تبدیل ہوا حالانکہ مینیو وہی رہتا تھا۔ عثمان بھائی ہنستے، مسکراتے، کھانستے طیبہ کے ہمراہ گاڑی کی طرف چل دیئے۔

فرشتہ صفت حنان طیبہ کی تبلیغ سے متاثر ہوکر آئندہ کبھی بھی ویلنٹائنز ڈے منانے کا سوچنے سے بھی توبہ کر چکا تھا۔ وہ طیبہ کا شکر گزار تھا کہ اس نے اسے یہودیوں کا آلہ کار بننے سے بروقت بچا لیا تھا۔ حنان سارا دن لکس سے نہا نہا کر اپنے اوپر سے انجانا بوجھ اتارتا رہا۔

جاری ہے

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *