زندگی سفر میں ہے۔۔سلمیٰ سیّد

زندگی سفر میں ہے اور اس کے پاؤں میں
آبلے پڑے ہیں جو ان سے رس رہا پانی
دشتِ نارسائی کو دے رہا ہے سیلا پن

قہقہوں میں سسکی ہے اور جینا رسکی ہے
پھر بھی لب ہنسیں گے اورآنکھ کے کناروں سے
دل کی راہ گزاروں تک بڑھ گیا ہے گیلا پن

تشنگی میں زندہ تھا تھر کا وہ پرندہ تھا
قید سے نکل کر بھی پھڑ پھڑا کے گرتا ہے
شام ہونے والی ہے گھل رہا ہے نیلا پن

قتل عام جاری ہے جگنوؤں کا جنگل میں
اور ہوائیں پیاسی ہیں خون چوس لینے سے
اس گلابی تتلی میں ڈھل رہا ہے پیلا پن!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”زندگی سفر میں ہے۔۔سلمیٰ سیّد

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *