انسانی جان کے ضیاع کا خون اہل اقتدار کے سر ہے۔۔۔ ذیشان محمود

رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’تم میں سے جو کسی بُرائی کودیکھے اُسے چاہئےکہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دےاگر وہ اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے بدل دے اور اگر اس کی بھی اِسْتِطاعَت نہ ہو تو اپنے دل میں اسے بُرا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔‘‘
(مسلم،کتاب الایمان ،باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان)
ہمارامعاشرہ تدریجاً انحطاط کا شکار ہے چاہے اخلاقی معیار ہوں یا معاشی معیار۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کے اس خطۂ ارض کو عطا کردہ وسائل ہمیں ان کا شکار ہونے سے بچاتے ہیں۔ ان وسائل کو بروئے کار لانا اور عوام الناس کو براہِ راست فائدہ پہنچانا صاحبِ اقتدار احباب کی ذمہ داری بنتی ہے۔ جب وہ خود ہی اخلاقی انحطاط کی اتھاہ گہرائیوں میں پڑے ہوئے ہوں تو ان سے ایسی امیدیں لگانا بعید از عقل ہے۔
اس مملکت خداداد کے آئین اور شریعت اسلام میں بیان شدہ ا حکام کی ذمہ داریوں سے متعلق آگاہ کرنا میرا مقصد نہیں ہے۔ لیکن اگر ہمارے حکمران ان ذمہ داریوں کا ایک بار مطالعہ کر لیں توشاید شرم سے پانی پانی ہو جائیں کہ خدا تعالیٰ نے ان پر کتنی بڑی آزمائش ڈالی ہوئی ہے اور ان سے اس بارے میں آخرت میں سوال کیا جائے گا۔ اس کے برعکس حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریوں سے مبراء مست ملنگ ، اپنی عیاشیوں و جیبیں گرم کر کے بینک اکاؤنٹس بھرنے میں مصروف ہیں جبکہ ان کے اعمال کے اکاؤنٹس میں سوائے شرمساری کےکچھ بھی نہیں۔
پاکستان کے نیوز چینلز روزانہ کئی ایسی خبریں دکھاتے ہیں جنہیں عوامی مسائل کا نام دے کر ایسی درجہ بندی کی جاتی ہے جو سرکاری دفاتر میں پڑی ان فائلوں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں بنایا ہی اس لئے جاتا ہے کہ الماری کے شیلف میں لگایا جا سکے۔ ہمارا میڈیا بھی ایسے مسائل کو اپنے خبرنامہ کو چٹ پٹا بنانے کے علاوہ وقت پورا کرنے اور ریٹنگ کے حصول کے لئے استعمال کرتا ہے۔مثلاً آج فلاں سگے باپ نے اپنے ہی بچے کو مار دیا ، بیوی کو قتل کر دیا، بھائی نے غیرت کے نام پر ونی کر دیا۔ باپ نے غربت کی وجہ سے بچوں کو زہر دے دیا۔

جائیداد کی لالچ میں ماں بھائی بہن دادا یا کوئی فرد خانہ کا قتل۔۔۔ بوری بند لاش ملنا۔ یہیں پر بس نہیں! ہجوم کا انگیخت ہونا دکھا کر ایک نفسیاتی ماحول پیدا کیا جا تا ہے جو عام عوام اور نئی نسل کے دماغوں میں ناسور کی بنیاد ڈال رہا ہے۔ جبکہ میڈیا ہاؤس PG+18 یا بچے نہ دیکھیں کا ٹیگ لگا کر نشریاتی ذمہ داری ادا کرنے والے کے لیبل کے حصول کے لئے ریٹنگ کی بھاگ دوڑ میں مسابقت حاصل کرنی کی قابل مذمت کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہی کوشش عوام کالانعام پر گہرے نفسیاتی اثرات مرتب کر رہی ہوتی ہے۔
بات صاحب اختیار و اقتدار کی ہو رہی ہے تو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ان اخلاقی و معاشرتی گراوٹ کی ذمہ داری اخلاقاً ، شرعاً اور از روئے آئین انہی پر پڑتی ہے۔ ہمیں اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کہلانے والی ریاست کا اپنے آئین کا عین اسلامی شریعت کے مطابق ہونے پر بڑا ناز ہے۔ تو یہی شریعت ہمیں جھنجوڑتی ہے کہ بے گھر، بے کس، غریب، روزانہ بھوکے پیٹ سونے والوں اور کسی بھی قسم کی آسائش میسر نہ آنے پر خود کو ہی نقصان پہنچانے والی انسانی جانوں کے خون ان کے کندھوں پر ہی ہے۔ یہی سچ ہے۔ اسی لئے حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا تھا کہ ’’اگردریائے فرات کے کنارے کتا بھی بھوکا پیاسا مر جائے توخدا کی قسم مجھ سے سوال کیا جائے گا۔‘‘جب ہمارے دین میں اس طرح کی مثالیں موجود ہیں تو کیوں ہم ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ حضرت عمر کے زمانہ میں کیوں مدینہ میں کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا، کیوں مدینہ کی گلیوںمیں ایک عورت اپنی عزت کے تحفظ کی یقین دہانی ہونے کے باعث اکیلی نکل سکتی تھی۔ کیوں اس دورمیں جرائم کی سطح کم ہو کر ختم ہو گئی تھی۔

اس لئے کہ غربت کو ختم کیا گیا تھا۔ ہاں ایک بڑا جزو دینِ اسلام اور رسول مقبول ﷺ کی قوت قدسی کے فیضان سے پیدا ہوئی روحانیت کا تھا۔ لیکن بادیٔ النظر سے یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جب ہرکس وناکس کی ضروریات آسانی سے پوری ہو رہی ہوں،اسٹیٹ یا حکومت کی عوام کی فلاح و بہبود پر نظر ہو تو جرائم کی سطح نیچے آتی ہے۔ لوگوں کو ان کے حقوق مل رہے ہوں تو وہ اپنا حق حاصل کرنے کے لئے دست درازی اور قانون شکنی نہیں کرتے۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئی ہم پھر موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔کیا حکمران تنگ گلیوں میں رہنے والوں، سیلابی علاقوں یا کچے مکانوں میں رہنے والوں، ان کے جینے کے سامان مہیا کرنے کے مسائل حل کر سکے۔ افسوس کے غریب کے ہاں نہ بجلی آتی ہے نہ گیس، ہاں فاقوں کا بسیرا ضرور رہتا ہے۔ ترقیاتی کام اپنی جگہ لیکن جب تن ڈھانکنے کو کپڑا ہی نہ ہو تو بیل بوٹے خریدنے کا کیا فائدہ؟ انسانیت کے ناتے اول ترجیح روزگار کے وسائل پیدا کرنا ہے۔ بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہو تو ان وسائل جدیدہ سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ جیب میں اٹھنی نہ ہوتو روپے کا خرچہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں غربت کا تناسب ہر سال بڑھتا ہے اور کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ حکمرانوں کو اپنی لڑائیوں کو ختم کرنا پڑے گا۔ غریب سے اکٹھا کیا گیا سرمایہ غریب کو واپس کیا جائے تو ہی اس ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت، نفسیاتی دباؤ، چور بازاری اور جرائم کا بڑھتا گراف نیچے آ سکے گا۔
ہم تو صرف ان کے لئے دعاہی کر سکتے ہیں کہ اللہ ہمارے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن دے ۔ کیونکہ جیسا کہ حدیث میں ذکر ہوا ہے کہ اگر برائی کو روک نہیں سکتے تو کمزور ایمان کے درجہ میں تو داخل ہو۔ اور دعا کرو کہ اللہ حاکم کا دل بدل دے یا اُسے ہی بدل دے۔آمین

Avatar
ذیشان محمود
طالب علم اور ایک عام قاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *