“آداب”آج کی ضرورت (دوسرا ، آخری حصہ)۔۔مرزا مدثر نواز

ہفتہ میں ایک روز ہر مسلمان پر غسل کرنا‘ کپڑے بدلنا عطر اور تیل لگانا مستحسن ہے۔ بلکہ بعض فقہا اور محدثین کے نزدیک حدیث کے الفاظ کی بنا پر غسل واجب ہے۔ اسلام نے اس کے لئے جمعہ کا دن مقرر کیا ہے‘ جو مسلمانوں کے عام اجتماع کا دن ہوتا ہے اور اس کی وجہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے یہ بیان کی ہے کہ عرب کے لوگ تنگدست اور سر پر اونی کپڑا رکھتے تھے اور محنت مزدوری کرتے تھے۔ ان کی مسجد نہایت تنگ اور اس کی چھت نہایت پست تھی جو چھپر کی تھی۔ ایک بار گرم دن میں آپﷺ جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے آئے تو لوگوں کو سر پر رکھنے والے کپڑے میں پسینہ آیا اور اس کی بو کے پھیلنے سے ہر شخص کو تکلیف ہوئی‘ آپ نے یہ بد بو محسوس کی تو فرمایا کہ لوگو! جب یہ دن آئے تو غسل کر لیا کرو اور ہر شخص کو جو بہترین تیل اور خوشبو میسر ہو سکے لگائے۔ جمعہ کے علاوہ معمول کے مطابق کسی کو بودار چیز مثلاََ لہسن یا پیاز کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت بھی فرمائی۔جمعہ کے علاوہ عام حالات میں بھی انسان کو صاف ستھرا رہنا چاہیے۔ چنانچہ ایک بار آپ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں تو فرمایا کہ اس کے پاس بال کے ہموار کرنے کا سامان نہ تھا؟ ایک دوسرے شخص کو میلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ اس کو پانی نہیں ملتا تھا جس سے وہ اپنے کپڑے کو دھو لیتا۔

“آداب”آج کی ضرورت (حصہ اوّل)۔۔مرزا مدثر نواز

کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھو لینا چاہیے۔ مسلمانوں کا ہر کام اللہ کے نام سے شروع ہونا چاہیے جیسا کہ حدیثوں میں مذکور ہے اور دنیا کے سب کاموں میں کھانا جو زندگی کی بقاء اور جسم کے قیام کا اصلی ذریعہ ہے کتنا بڑا کام ہے۔ یہ کام اللہ کے نام کے بغیر شروع نہ ہونا چاہیے۔ اس لئے کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ جب ہم کو رسول اللہ کے ساتھ کھانا کھانے کا اتفاق ہوتا تھا تو جب تک آپ کھانا نہ شروع کرتے ہم لوگ کھانے میں ہاتھ نہیں ڈالتے تھے۔ لیکن ایک بار ایک بدو دوڑا ہوا آیا اور کھانے میں ہاتھ ڈالنا چاہا۔ آپ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ پھر اسی طرح ایک لونڈی آئی اور کھانے میں ہاتھ ڈالنا چاہا۔ آپ نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور فرمایا کہ جس کھانے پر اللہ کا نام نہیں لیا جاتا شیطان اس کو اپنے لئے جائز کر لیتا ہے اور اگر کوئی شروع میں بسم اللہ کہنا بھول جائے تو بسم اللہ اولہ و آخرہ کہہ لے۔

انسان کی بعض جسمانی حالتیں ادب، تہذیب اور وقار کے خلاف ہوتی ہیں‘ ان کو دیکھ کر ناگواری پیدا ہوتی ہے‘ مثلاً جمائی لینے میں انسان کا منہ کھل جاتا ہے آہ آہ یا ہاہ ہاہ کی ناگوار آواز منہ سے نکلتی ہے اور چہرے کی قدرتی ہیئت بدل کر مضحکہ انگیز شکل پیدا ہو جاتی ہے‘ اسی مفہوم کو آپ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ”جمائی شیطان کی جانب سے ہے اور جب کوئی اس حالت میں آہ آہ کہتا ہے تو شیطان اس کے پیٹ کے اندر سے اس پر ہنستا ہے“۔ بعض حدیثوں میں ہے کہ جب تم میں کوئی جمائی لے تو اپنے منہ کو بند کر لے‘ کیونکہ شیطان اس کے منہ کے اندر گھس جاتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اس میں حقیقت و مجاز کی اس طرح تطبیق دیتے ہیں کہ شیطان مکھی یا مچھر کو اڑا کر اس کے منہ کے اندر داخل کر دیتا ہے‘ اس لئے اسلام نے مختلف طریقوں سے اس بد نمائی کو دور کیا ہے۔ پہلا حکم تو یہ ہے کہ جمائی روکنے کی چیز ہے اس لئے جہاں تک ممکن ہو اس کو روکنا چاہیے اور ہاہ ہاہ نہیں کہنا چاہئے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو منہ پر ہاتھ رکھ لینا چاہیے۔ جمائی کے بر خلاف آپﷺ نے چھینک کے روکنے کی کوئی ہدایت نہیں کی ہے بلکہ اس کو اللہ کی جانب سے بتلایا ہے، ہمارے شراح حدیث اس کی وجہ یہ لکھتے ہیں کہ چھینک بدن کے ہلکے پھلکے ہونے، مسامات کے کھلنے اور بہت زیادہ نہ کھانے سے آتی ہے‘ لیکن جمائی بدن کے ثقل اور کسل و سستی کا نتیجہ ہے‘ اس لئے چھینک عمل کے لئے نشاط اور جمائی اس کے لئے کسل پیدا کرتی ہے۔ شریعت نے چھینکنے والے کو حکم دیا ہے کہ وہ اس پر اللہ کا شکر کرے اور ”الحمد للہ“ کہے، دوسرے لوگ اس کے جواب میں ”یرحمک اللہ“ کہیں۔ تا ہم وہ ایک بد نما چیز ہے‘ بعض اوقات اس حالت میں ناک سے بلغم نکل آتا ہے اس لئے چھینکتے وقت منہ کو ہاتھ یا کپڑے سے ڈھانک لینا چاہئے اور اس طریقہ سے چھینک کی آواز کو پست کرنا چاہیے۔آپ کا یہی طریقہ تھا۔ ڈکار کے متعلق صحیح ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے آپ کے سامنے ڈکار لی تو آپ نے فرمایا کہ اپنی ڈکار کو روکو کیونکہ جو لوگ دنیا میں بہت زیادہ پیٹ بھر لیتے ہیں وہ آخرت میں سب سے زیادہ بھوکے رہیں گے، اس حدیث سے پر خوری کی ممانعت کے ساتھ ضمناََ ڈکار کی کراہت بھی ثابت ہوتی ہے۔ (حوالہ جات: سیرت النبی از شبلی و ندویؒ)

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *