“آداب”آج کی ضرورت (حصہ اوّل)۔۔مرزا مدثر نواز

کسی زمانے میں استاد‘ اتالیق‘ پیر و مرشد کی دو ذمہ داریاں ہوتی تھیں‘ ایک تعلیم اور دوسری تربیت۔ پھر زمانے کے انداز بدلنے لگے‘ درس و تدریس نے کاروبار کی صورت اختیار کر لی‘ معاشرے میں اونچی کوٹھی اور بڑی کار کی دوڑ نے مصروفیت میں اضافہ کر دیا‘ بڑا اور مہنگا سکول مرتبے کی نشانی بن گیا‘ زیادہ سے زیادہ نمبرز حاصل کرنے کی خواہش نے استاد کو کتاب تک محدود کر دیا‘ پہلی درسگاہ ٹی وی اور موبائل و انٹرنیٹ کی دنیا میں گم ہو گئی اور تربیت نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ نتیجتاً  آج ہماری نئی نسل تعلیم یافتہ اور بڑی بڑی ڈگریوں و سرٹیفکیٹس کی حامل تو ہے لیکن تربیت سے عاری، جس کو اپنے سے چھوٹوں سے پیار ہے‘ بڑوں کا احترام ہے نہ آداب ِ مجلس و گفتگو و ملاقات سے آشنائی۔ سڑک پہ دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ جیسے ہر کوئی دوسرے کے خون کا پیاسا ہے اور موجودہ نسل صرف اور صرف اپنے نفس کی غلام و پجاری بن کر رہ گئی ہے۔

آج سات ارب سے زائد انسان ایک عام انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والے جرثومے سے پیدا ہونے والی عالمی وباء سے پریشان ہیں، جس کا واحد حل احتیاط ہے، جو کہ طہارت اور دوسرے آداب سے متعلق ہے۔ بے لگام و مادر پدر آزاد میڈیا جو اپنی تمام حدود پار کر چکا ہے‘ آج تربیت کی درسگاہ نظر آتا ہے جہاں بنیادی احتیاطی تدابیر  کے ساتھ ساتھ دعاؤں اور کئی چینلز پر پانچ وقت کی اذان کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کئی صدیاں پہلے انہی کھانے پینے‘ مجلس‘ طہارت و پاکیزگی اور دوسرے متفرق آداب کی تربیت پر عرب کے ریگستانوں میں اس حد تک زور دیا گیا کہ صفائی کو نصف ایمان تک کہہ دیا گیا۔ کاش تربیت کا یہ سلسلہ نہ رکتا۔ اسلام دین فطرت ہے اس لیے اس کے آداب کا بڑا حصہ بھی فطری ہے یعنی فطرتاً وہ پسندیدہ ہیں‘ یہ ایسے آداب ہیں جو انسانوں کو جانوروں سے ممتاز کرتے ہیں۔

انسانی زندگی کے رات دن کے ضروری مشاغل رہنے سہنے‘ اٹھنے بیٹھنے‘ چلنے پھرنے‘ بولنے چالنے‘ کھانے پینے‘ سونے جاگنے‘ نہانے دھونے کے وہ تمام عمدہ قواعد جو ایک متمدن زندگی کے ضروری جزو  ہیں‘ آداب کہلاتے ہیں۔ ان ہی آداب کی پابندی و عدم پابندی کی بدولت وحشی اور متمدن لوگوں میں امتیاز ہوتا ہے۔ ان آداب میں خوبی و لطافت ملحوظ رکھنا حسن ِ ادب ہے، اس کی پابندی سے اجتماع اور معاشرتی امور میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے اور انسان مہذب،شائستہ اور باوقار بن جاتا ہے۔ یہ آداب در حقیقت اس اصول پر مبنی ہیں کہ ان روزانہ کے کاموں کے بجا لانے میں ایسی خوبی ملحوظ رکھی جائے جس سے زیادہ سے زیادہ آدمیوں کو آرام مل سکے اور ایک کے کام کا طریقہ دوسرے کی تکلیف یا ناگواری کا باعث نہ ہو جائے اور یا یہ کہ وہ کام خوبی‘ خوبصورتی اور عمدگی کے ساتھ انجام پائے‘ پیغمبر اسلامﷺ نے اپنی عملی و قولی ہدایات سے مسلمانوں کے لیے اس کا بہترین نمونہ قائم کر دیا ہے۔

تہذیب و شائستگی کی باتوں میں سب سے اہم چیز طہارت اور پاکی ہے۔ اسی طہارت کی پابندی اور دلوں میں طہارت کا خیال پیدا کرنے کے لیے مختلف سنن اور طریقے سکھائے گئے ،مثلاً  آپﷺ نے فرمایا ”جب کوئی شخص سو کر اٹھے تو جب تک تین بار ہاتھ نہ دھو لے اس کو پانی کے برتن میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے‘ کیوں کہ سونے میں معلوم نہیں کہ اس کا ہاتھ کہاں کہاں پڑا ہے“۔ اس حدیث سے معلوم ہو کہ ہمیں  اپنے جسم کے ہر عضو کی طہارت کا سوتے جاگتے ہر حالت میں خیال رکھنا چاہیے۔ سونے میں کسی خواب کی وجہ سے بھی اگر انسان ناپاک ہو جائے تو نہانا ضروری قرار دیا گیا۔ ہاتھ کی صفائی پر اس لئے زور دیا گیا کہ برتن سے پانی نکالنے میں ناپاک ہاتھ پانی میں بھیگ کر پانی کو ناپاک نہ کر دے۔ اس لئے خیال رکھنا چاہیے کہ ہاتھ پانی کے برتن میں اس وقت تک نہ ڈبوئے جائیں جب تک ہاتھوں کی طہارت کا یقین نہ ہو۔ دانتوں کی صفائی جو بہت سی گندگیوں اور بیماریوں کی جڑ ہے ضروری بتلائی‘ مسواک کرنا سنت ٹھہرایا۔ فرمایااگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ ایک دفعہ کچھ مسلمان حاضر ہوئے جن کے دانت صاف نہ ہونے کی وجہ سے زرد تھے تو فرمایا کہ تمہارے دانت زرد کیوں دیکھ رہا ہوں‘ مسواک کیا کرو۔ (جاری ہےٗ حوالہ جات: سیرت النبی از شبلی و ندویؒ)

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *