آپ کی بد احتیاطی آپ کو خودکش حملہ آور بنارہی ہے۔۔ارشد قریشی

کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا پریشان ہے  اور بے انتہا احتیاط کر رہی ہے اگر بے فکری ہے تو ہمیں ہی ہے  ۔    احتیاط کے حوالے سے حکومتی  احکامات  اور طبی ماہرین کے مشوروں کو بھی خاطر میں نہیں لایا جارہا ۔ شہر میں گھوم پھر کر  ایک  دوسرے کو تصاویر  ارسال کی جارہی ہیں ، پان سگریٹ ، گٹکے کے لیے پولیس اور  رینجرز کو  چکما  دے کر ان کو حاصل کرکے  جوئے شِیر لایا جارہا ہے۔   آخرش کچھ حکومت  کا ڈھلمل پن  اور کچھ عوام کی   لاپرواہی  ہمیں اس مقام پر لے ہی آئی کہ اب آگے کے حالات اچھے نظر نہیں آرہے ۔ اٹلی جس کے پاس طب و سائنس کی وافر سہولیات  موجود ہیں ، اپنی ذرا  سی کوتاہی پر اب صرف اپنے لوگوں کے تابوت گن رہا ہے وہ بے بس ہوچکا، اس کے ڈاکٹر فیصلہ نہیں کر پارہے کہ ان حالات میں کس کو بچایا جائے، کس کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے، اٹلی کی سسکیاں پوری دنیا سن رہی ہے ۔ دنیا کی وہ سپر طاقتیں جن کے پاس دنیا کی تمام جدید ترین ٹیکنالوجی موجود ہے پاکستان کے مقابلے میں بہترین طبی سہولیات اور آلات موجود ہیں اس کے باوجود  بھی اٹلی کی حالت دیکھ کر   ان کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ اٹلی  حکومت اعتراف کر رہی ہے کہ ہم نے ہر ممکن اقدامات کیے  مگر ہماری گھروں پر رہنے اور احتیاط کرنے کی اپیلوں کو  عوام نے سنجیدہ نہ لیا،  جس کا بھیانک نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔

آخر ہماری  عوام کو کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ  اس طرح کی لاپرواہی اور  حکومت و طبی ماہرین کے احکامات کو نظر انداز کرکے  ہم ملک کو کس آگ میں جھونک رہے ہیں ۔یہ کیوں نہیں سمجھ آرہا ہے کہ اس طرح کی لاپرواہی  سے صرف ایک فرد کا نقصان نہیں، پورے ملک کا نقصان ہے ۔آپ باہر جارہے ہیں لوگوں  کے ساتھ بیٹھ رہے ہیں، مارکیٹ میں ہجوم لگارہے ہیں، آپ کو اندازہ نہیں کہ آپ باہر سے ایک خودکش حملہ آور بن کر اپنے گھروں میں داخل ہورہے ہیں، آپ نہ صرف اپنی زندگی سے کھیل رہے ہیں بلکہ اپنے پیاروں کی جانوں کو بھی داؤ پر لگا رہے ہیں ۔ آپ کب سمجھیں گے ؟جب پانی سر سے  اونچا  ہوجائے گا ، جب آپ کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا ؟۔۔  آپ تو  مذہبی تہواروں میں بھی کہتے ہیں ہم تو سعودی عرب کو فالو کریں گے ، آپ یورپ کی مثالیں دیتے ہیں تو اب ان حالات میں انہیں کیوں فالو نہیں کرتے ،ان سے سبق کیوں نہیں سیکھتے ۔؟

میں نے ان حالات میں پوری دنیا میں کہیں  نہیں دیکھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہاتھ جوڑ کر لوگوں سے درخواست کر رہے ہوں کہ گھروں میں رہیں ، اپنے ہی گھر جانے کے لیے ان پر ڈنڈے برسائے جارہے ہوں  اور پھر بھی لوگ نہ مانیں۔ ہائے افسوس کہ  مسافر کوچ بند کی گئیں ،تو ٹرک پر لوگوں کو چھپا کر ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچایا جانے لگا۔ جہاں ایک ساتھ چار سے زیادہ لوگوں کے اکھٹا ہونے پر پابندی لگائی وہاں بیس بیس افراد اکھٹے ہوتے نظر آتے ہیں ۔ ہماری کسی ملک سے جنگ نہیں ہوری ہے کہ یوں بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے باہر نکلیں ۔یہ جنگ ضرور ہے لیکن  اگر یہ جنگ جیتنی ہے تو گھر میں بیٹھے رہنا ہے ۔

موجودہ حالات میں دوسرے ممالک کے لوگ کیا کررہے ہیں اس حوالے سے کچھ ممالک میں دوستوں سے بات ہوئی ، اگر بھارت  کو دیکھا جائے تو وہاں کی عوام اور ہماری عوام کے رویے میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے مگر حکومت کی جانب سے ہم سے زیادہ سختیاں ہیں۔ امریکہ میں لوگ حکومت کے احکامات پر مکمل عمل کررہے ہیں وہ تو عام حالات میں بھی قانون کی  پابندی کرتے ہی ہیں ۔ جرمنی ، برطانیہ ، کینیڈا، یو اے ای ، سعودی عرب  اور آسٹریلیا  کی عوام کا رجحان بھی امریکہ  کی عوام سے مختلف نہیں یہ ممالک تو وہ ہیں جن میں مقیم احباب سے بات ہوئی  ۔ اٹلی کے عوام میں سوائے مایوسی اور پچھتاوے کے اب کچھ نہیں  ۔ ممکن ہے  دیگر کئی ممالک میں بھی ایسا ہی ہو  جیسا کہ خبروں سے علم ہوتا ہے ۔  اب ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اس قدر احتیاط کئی ممالک میں ہے تو اموات کی تعداد کیوں بڑھ رہی ہے اس کی  بڑی وجہ خوارک ہے امریکہ میں بھی زیادہ تر ایشیائی باشندے اس وائرس سے متاثر نہیں کیوں کہ  ان کی خوراک کا رجحان  جنک فوڈ سے زیادہ سبزیوں ، دال اور  دوسری قدرتی غذا کی طرف ہے جس کی وجہ سے ان میں قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے   اور اس وائرس سے بچ نکلنے میں قوتِ مدافعت ایک اہم جز و ہے ۔

میں سوچ رہا ہوں ہم جب فروٹ مہنگا  ہو تو اس کے خلاف باقاعدہ ایک مہم چلاسکتے ہیں ، وی آئی پی پروٹوکول کے خلاف مہم چلاسکتے ہیں تو آخر ہم لوگوں کو گھر پر بیٹھانے کے لیے منظم مہم کیوں نہیں چلا سکتے ! اس وقت اس وبا کے خلاف پورے ملک میں ایک بھرپور اور یکساں مہم کی شدت سے ضرورت ہے ۔  چھوڑیں سارے کام، اٹھیں  اور بھرپور مہم چلائیں ، بٹھائیں سب کو گھروں میں ،محفوظ کریں اپنے آپ کو اپنے پیاروں کو اپنے شہر کو اپنے ملک کو۔ ہم کچھ دیر کرچکے ہیں اللہ کے واسطے مزید دیر مت کریں ۔

ارشد قریشی
ارشد قریشی
محمد ارشد قریشی کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعری کا شغف بھی رکھتے اورم الف ارشیؔ کے تخلص کے ساتھ اشعار کہتے ہیں ، پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے انفارمیشن سیکریٹری ہونے کے ساتھ انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز آرگنائیزیشن پاکستان کےصدر اور چائینا ریڈیو انٹرنیشنل کے پروگرام مانیٹر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک اچھا سچا اور مخلص صحافی دنیا کو پرامن اور خوبصورت بنا سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *