• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ٹرمپ کی حماقتوں کا نتیجہ! کورونا وائرس کے سب سے زیادہ شکار امریکہ میں۔غیور شاہ ترمذی

ٹرمپ کی حماقتوں کا نتیجہ! کورونا وائرس کے سب سے زیادہ شکار امریکہ میں۔غیور شاہ ترمذی

پورن سٹارز کو پیمنٹ کر کے اپنا وقت رنگین بنانے کے عادی امریکی صدر ٹرمپ خود کو مذہبی آدمی کہتے ہیں اور وہ اپریل کے آغاز میں ایسٹر کے تہوار یعنی 12 اپریل سے پہلے وہ امریکہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ اسے انجوائے کریں۔ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ایسٹر ایک اہم دن ہے لیکن میں اسے مزید اہم دن بنا دیتا ہوں۔ ہم ایسٹر سے پہلے لاک ڈاؤن کھول دیں گے۔ اس فلو کی وجہ سے ہم لوگوں کی ایک بڑی تعداد کھونے جا رہے ہیں لیکن گھروں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایک بڑے پیمانے پر کساد بازاری یا ڈپریشن کی وجہ سے ہم مزید لوگوں سے محروم ہو جائیں گے۔ ہزاروں خودکشی کرلیں گے اور اس طرح کی خوفناک چیزیں ہو سکتی ہیں۔ ہم عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں”- لاک ڈاؤن ختم کرنے کے اس ارادہ اور ٹرمپ کے ان فقرات نے لوگوں کے مشتعل جذبات میں جلتی پر تیل جیسا کام کیا ہے اور ماہرین کے علاوہ عام امریکی لوگوں نے انہیں باور کروانا شروع کر دیا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 2.2 ملین یعنی 22 لاکھ امریکیوں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسٹر کا تہوار یسوع مسیح کے جی اٹھنے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چند مذہبی لوگوں کے اس تہوار کو منانے کے لئے آبادی کے بڑے حصہ کو ہلاکت میں ڈالنے کا رسک وہائٹ ہاؤس کی احمق ٹیم ہی سوچ سکتی ہے۔ یسوع مسیح تو مردوں میں سے جی اٹھے تھے مگر ٹرمپ انتظامیہ زندوں کو مردوں کا دن بنانے پر تلی ہوئی ہے۔

اس لاک داؤن کو ختم کرنے کا ارادہ رکھنے والے ٹرمپ شاید ابھی بھی اُن خیالوں میں کھوئے ہوئے ہیں کہ 21.44 ٹریلین ڈالر کی زوردار امریکی معیشت اپنے حریف چین کی جی ڈی پی 14.4 ٹریلین ڈالر سے اوپر جا رہی تھی۔ واضح رہے کہ اس وقت ، انڈیا کی معیشت دو اعشاریہ آٹھ ٹریلین جبکہ پاکستان کی صرف 320 بلین ڈالر کے برابر ہے۔یہ وہ وقت تھا جب امریکی حصص بازار میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا تھا اور ڈو جونز پہلی مرتبہ 29 ہزار سے اوپر کی سطح تک گیا تھا۔ بے روزگاری کی شرح تقریباً تین اعشاریہ چھ فیصد کے لگ بھگ رہی تھی جو کہ 50 سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ اس وقت امریکہ نے چین کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا جس میں 200 بلین ڈالر کی خریداری اور کاپی رائٹ کے قواعد کو مستحکم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔پھر یوں ہوا کہ کورونا وائرس امریکہ میں بھی پہنچ گیا۔ امریکہ میں گزشتہ بروز ہفتہ کی رات 11 بجے تک ایک لاکھ 13 ہزار کورونا سے متاثرہ مریضوں میں اب تک اگرچہ اموات تو ایک ہزار 9 سو تک ہی ہوئی ہیں مگر امریکہ نے جان لیوا کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں ٹاپ پوزیشن حاصل کر لی ہے جبکہ امریکہ کے پیچھے پیچھے ہی اٹلی ہے جہاں 92 ہزار سے زیادہ متاثرہ کیسوں میں اموات کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے جن میں صرف آج کی تاریخ میں مرنے والے 889 لوگ بھی شامل ہیں۔ ایک محتاط اندازہ کے مطابق کورونا وائرس جس تیز رفتاری سے امریکہ میں اپنے پنجے پھیلا رہا ہے، اُس کے حساب سے امریکہ دنیا میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات میں دنیا بھر میں سرفہرست ہو جائے گا۔

کالم نگار:غیور شاہ ترمذی

اس وقت امریکہ میں کاروبار، سکول، کھیلوں کے مقابلے سمیت سب کام بند ہیں اور تمام معاشی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔ ویران سڑکیں، مال، خالی پروازیں اور ٹرینیں تیزی سے خوفناک حقیقت کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ ’معیشت ڈوب رہی ہے‘یا ’معیشت کا پرسان حال نہیں‘ جیسے جملے گردش میں ہیں۔ اس وقت امریکہ میں جو کچھ ہو رہا ہے ویسا زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ماہرین معاشیات نے امریکہ میں شدید مندی کی پشین گوئی کی ہے جس میں پہلی سہ ماہی میں چوبیس فیصد جبکہ دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی چھ فیصد نیچے کی جانب جائے گی۔ جبکہ تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں آٹھ اور چار فیصد تک جانے کے انتباہ کئے جا رہے ہیں۔ ا ب تو ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مستقبل میں امریکہ سے نوکریاں، دولت اوراعتماد سب ختم ہو جائے گا۔ اگرچہ ماہرین معاشیات سخت دور کے بعد ایک بہتر صورتحال کی امید لگائے ہوئے ہیں مگر پھر بھی یقینی طور پر کچھ بھی کہنا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ دور کب تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔ اقتصادیات کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ امریکہ میں بے روز گاری کا تناسب دو گنا بڑھ جائے گا، جس کے بعد تقریباً ہر مہینے 10لاکھ نوکریاں ختم ہو جایئں گی۔

امریکی میڈیا میں اب یہ بات بھی کھل کر لکھی جا رہی ہے کہ امریکہ کو کورونا وائرس سے ہونے والے نقصانات کی بڑی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقتیں بھی ہیں۔ معروف کالم نگار رچرڈ وولف سمیت کئی لکھاریوں نے امریکہ میں کورونا وائرس کے نقصانات کو ٹرمپ کی اُن قائدانہ صلاحیتوں سے تشبیہ دی ہے جن کی وجہ سے اُن کی اکثر کمپنیاں کئی بار دیوالیہ ہو گئیں۔ امریکہ کے اس ممکنہ شدید بحران کو بھی امریکی صدر ٹرمپ کی حماقتوں کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر اور اُن کی ٹیم سر توڑ کوشش کر رہے ہیں کہ ری پبلیکنز اور ڈیموکریٹس اراکین پارلیمنٹ سے سات لاکھ پچاس ہزار نوکریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک فنانشل پیکج منظور کروایا جائے تاکہ اس شدید بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والی بڑی بےروزگاری سے معاشرہ میں کوئی بڑی پچیدہ صورتحال ہی پیدا نہ ہو جائے۔ واضح بات یہ ہے کہ غریب، بے گھر، کم آمدنی والے افراد کے کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہیں انشورنس کا تحفظ بھی حاصل نہیں۔ ان افراد کے لئے علاج معالجے کی سہولیات ان کی پہنچ سے دور ہیں۔ ٹرمپ سے پہلے صدر اوبامہ نے کم آمدنی والے ایسے افراد کے لئے ہی ’’اوبامہ کئیر‘‘ کے نام سے پروگرام لانچ کیا تھا جس کی مدد سے کم آمدنی والے لوگوں کی انشورنس کے لئے حکومت ادائیگی کرتی تھی اور اس طرح وہ بھی علاج و معالجہ کی سہولتیں حاصل کر لیتے تھے۔ صدر ٹرمپ اس پروگرام کے شدید ناقد تھے اور اپنے وعدہ کے مطابق انہوں نے برسراقتدار آتے ہی اس پروگرام کو منسوخ کر دیا جس کے نتیجہ میں کم آمدنی والے تمام لوگ اب کورونا وائرس کے نقصانات سے علاج کروانے کی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ستائس اعشاریہ پانچ ملین (2 کروڑ 75 لاکھ) لوگ جو کہ کل آبادی کا آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد بنتے ہیں، اس وقت ہیلتھ انشورنس سے محروم ہیں۔اور امریکی آبادی کا یہ وہ حصہ ہیں جو کورونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق امریکہ میں اس وقت تقریباً اکیس فیصد سیاہ فارم اور اٹھارہ فیصد لاطینی نسل کے لوگ آٹھ فیصد گورے لوگوں کے مقابلے میں غربت کی لکیر کےنیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

امریکی صحافی ڈیوڈ ویلاس ویلس نے اپنے ایک کالم America is broken میں صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی خوب خبر لی۔ انھوں نہ لکھا کہ یہ کتنا افسوسناک ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں کا نظام نجی کمپنیوں اور مخیر افراد کے ہاتھوں یرغمال ہو کر رہ گیا ہے جو امریکہ کو بھی ضرورت کے اس وقت میں اس وباء سے متعلق ضروری طبی امداد فراہم کریں گے۔ ہمارے موجودہ نظام کی خرابی کی اس سے زیادہ بھیانک مثال کیا ہوگی کہ صفِ اول کے طبی اداروں اور انشورنس کمپنیوں کو ٹیسٹ کرنے کے لیے فیس معاف کرنے یا مشترکہ ادائیگی پر زبردستی مجبور کرنا پڑا۔ اگر ٹیسٹ دستیاب بھی ہوں تو بہت سارے اسے برداشت ہی نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں اگر آپ کی انشورنس نہیں ہے تو آپ انتہائی خطرے میں ہیں۔ یاد رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد شدید عوامی احتجاج کے بعد دباؤ میں آکر امریکی حکومت نے کورونا وائرس کے جلد اور مفت ٹیسٹ کی سہولت کا قانون بنایا ۔ صدر ٹرمپ اگرچہ وائٹ ہاؤس کے صحن میں کھڑے ہو کر دعویٰ  کرتے ہیں کہ ملینز کے حساب سے نئے ماسک تیار کئے جارہے ہیں لیکن اُن کے دعوؤں کے برعکس زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں۔ ایسی افسوسناک اطلاعات بھی ہیں کہ امریکی ریاست سیٹل میں ڈاکٹر پلاسٹک شیٹ سے اپنے لئے ماسک خود تیار کر رہے ہیں۔ صحت اور ہسپتال سے متعلق ایسوسی ایشنز نے کنسٹرکشن کمپنیوں، دانتوں اور جانوروں کے ڈاکٹرز سمیت دیگر گروپس جن کے پاس ماسک ہو سکتے ہیں سے ماسک عطیہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ امریکہ میں بہت سے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ انھیں محض صرف ایک ماسک ہی دیا جا رہا ہے جسے وہ لامتناہی وقت کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اسے صاف کر کے دوبارہ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ کتنا مؤثر ہو سکتا ہے۔ صورتحال اتنی خراب ہے کہ امریکی محکمہ صحت (سی ڈی ایس) نے یہ اعلان کرنے کی بھی کوشش کی کہ ماسک کی کمی کی وجہ سے اگر ضروری ہو تو منہ کو ڈھانپنے کے لئے کپڑے اور سکارف کا استعمال کیا جائے۔ سی ڈی ایس کے مطابق جہاں اگر ماسک دستیاب نہ ہوں تو پھر آخری آپشن کے طور پر گھر کے بنائے ماسک بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں تاکہ کووڈ-19 کے متاثرہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کی جا سکے۔ ہیلتھ کیئر کے محکمے میں کام کرنے والے اس صورتحال پر سخت غصے میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سی ڈی ایس کے یہ اقدامات انھیں اور ان کے خاندانوں کو خطرے میں ڈالیں گے۔

امریکہ میں کچھ حلقوں کی طرف سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ جس وقت چین میں کورونا وائرس کے شدید حملے جاری تھے اُس وقت بھی اس جان لیوا وائرس سے بچاؤ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر تیاری کرنے کی بجائے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ اُس وقت ٹرمپ اور اُن کی ساری انتظامیہ کا زور اس سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنے میں تھا کہ کورونا وائرس پیدا کرنے اور اسے اپنے حریف ممالک میں پھیلانے کے لئے چین کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ مگر کورونا وائرس کی چین اور یورپ میں اتنی زیادہ تباہ کاریوں کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے بیان کی ہوئی یہ سازشی تھیوری بھی اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے کہ یہ دراصل چین ہی ہے جس نے یہ وائرس تخلیق کیا۔ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کورونا وائرس قدرت کا ایک خوفناک انتقام ہے جو انسان کی اس کرہ ارض کی فطرت کا ساتھ چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ کورونا وائرس کو بائیولوجیکل ہتھیار کا نام دیتے رہے تو وہ اب جان چکے ہوں گے کہ اگر یہ بائیولوجیکل ہتھیار ہی ہوتا تو ہر ملک کو تباہ نہ کرتا اور پوری دنیا میں کوئی تو ایسا ہوتا جو اس سے بچ سکتا۔ یاد رہے کہ بائیولوجیکل وار میں مواقع اور ہتھیار سب کے پاس برابر ہوتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں کم از کم بیس ممالک کے پاس ایسے جان لیوا ہتھیار موجود ہیں۔ جب دونوں متحارب گروہوں کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہو تو ان کا استعمال کیا جانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ امریکہ نے ایٹم بم محض اس دور میں استعمال کیا جب اسے کامل یقین تھا کہ جاپان کے پاس ایسا ہتھیار موجود نہیں ہے۔ جونہی ایٹم بم ایک سے زیادہ ممالک کے ہاتھ میں آیا تو ایٹم بم کا استعمال ناممکن ہوگیا۔ اسی طرح ایک دوسری سازشی تھیوری یہ پیش کی گئی کہ کورونا وائرس اس لئے جان بوجھ کر پھیلایا گیا تاکہ اس کی پہلے سے تیار کی ہوئی ویکسین کو مارکیٹ کر کے بہت پیسہ بنایا جائے۔ یہ تھیوری بھی ناقابل عمل ہے کیونکہ کورونا وائرس کا مکمل حل اور کامیاب ترین علاج مکمل آئسولیشن ہے جس پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔ جو بھی اس وائرس کے حملہ کا نشانہ بنے ہیں، اُن میں سے وہی بچ سکے گا جس کا مدافعاتی نظام مضبوط ہے۔ویکسین بنانے والوں میں دنیا میں کے سب سے بڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ انویسٹر پاگل ہی ہوگا جو کورونا میں انویسٹمنٹ کرے گا کیونکہ جس بیماری کو دو مہینے کے لاک ڈاؤن یا کرفیو کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دنیا سے ختم کیا جا سکتا ہے اس کی ویکسین بنانے پر کروڑوں یا اربوں ڈالر کیسے خرچ کئے جا سکتے ہیں ۔ ویکسین صرف اس بیماری کی ہی بنائی جاتی ہے جسے ہمیشہ رہنا ہو یا جسے بہت لمبے عرصہ بعد ختم ہونا ہو۔

ایک اور بھیانک الزام یہ بھی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ہدایت کردہ طریقہ کار کے مطاق امریکی سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول (Center for Diseases Control) نے جرمنی میں بننے والی عالمی کرونا وائرس ٹیسٹنگ کٹ استعمال کرنے سے انکار کر کے اپنی الگ کٹ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے امریکہ کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور بہت زیادہ وقت بھی ضائع ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس بات کا اندازہ ہی نہ ہو سکا کہ امریکہ میں مریضوں کی حقیقی تعداد کتنی ہے۔ اس دوران عام لوگوں کو صحت اور معیشت کے بحران سے بچانے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ نے کوئی اقدامات نہیں کئے لیکن بحران کے بڑھتے ہی امریکی سنٹرل ریزرو نے بڑے سرمایہ داروں کو بچانے کے لئے منڈی میں 15 کھرب ڈالر پھینک دئیے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی اس حماقت کی وجہ سے کورونا وائرس نے امریکہ میں اپنے پنجے بہت مضبوطی سے گاڑ لئے ہیں اور وہ کورونا وائرس جسے ٹرمپ نے شروع میں صرف ایک افواہ قرار دیا تھا، اِس وقت امریکی معاشرہ میں ایک خوفناک اور جان لیوا عفریت بن کر ناچ رہا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *