ان حالات میں آپ کیا کرسکتے ہیں ؟۔۔۔ارشد قریشی

دنیا میں جاری  کورونا وائرس کی وبا سے  سب ہی  پریشان ہیں،   سوچیں  ان حالات میں آپ کیا کرسکتے ہیں ، کس طرح آپ ملک و قوم کی خدمت کر سکتے ہیں ۔ماضی میں بھی ملک ایسے  حالات سے  گزر چکا ہے لیکن اس وقت  لوگوں کے پاس وہ سہولیات موجود نہیں تھیں جو آج آپ  کی دسترس میں ہیں۔ جو سہولیات آپ کی دسترس میں ہیں ان  کا بھرپور استعمال کریں ۔ سوشل  میڈیا پر اس وبا  کا  یا لاک ڈاؤن کا مذاق بنانے، لطیفے بنانے ، عجیب  طرح کی وڈیو بنا  کر پوسٹ کرنے  سے کہیں بہتر ہے  ان  میسر سہولیات  کا بہترین تعمیری استعمال کرتے ہوئے لوگوں میں شعور بیدار کریں ، اگر آپ اس وبا سے اپنے آپ کو  اور اپنے پیاروں کو نکالنے میں کامیاب ہوگئے تو  پھر  کرلیجیے گا تمام شغل  ۔

آپ  کو جو کچھ میسر ہے آپ اس سے اس وبا  کا  مقابلہ کریں  میں یہاں کسی بھی ملک کی اس حوالے سے مثال نہیں دوں گا   بلکہ فیدل کاسترو   کی ایک بات کا حوالہ دوں گا  وہ کہتے تھے  کبھی کبھی جنگ کے دوران نہتے لوگ بھی  ہوائی جہازوں کو دیکھ کر ان پر پتھر پھینکتے تھے ۔  ہمیں بھی واضح سوچ  اور جامع حکمتِ عملی  سے حاصل وسائل کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا ہے ۔ ڈھلمل  پن ہمیں صرف تباہی کی طرف لے جائے گا۔

یہ مت سوچیں کے بہت سے دوسرے لوگ اس وقت کئی  کام کر رہے  ہیں یہ سوچیں کہ میں کیوں نہیں  کرر ہا۔ میری ایک درخواست ہے کہ اگر آپ کچھ بھی نہیں کرسکتے تو کم از کم اتنا تو کرلیں کہ عوام میں مایوسی پیدا کرنے والی باتیں نہ پھیلائیں ، کسی بھی خبر کو   بغیر تصدیق کے آگے نہ بڑھائیں یہ اللہ نے بھی قرآن میں حکم دیا ہے کہ خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے تصدیق کرلیا کرو ۔   لاک ڈاؤن کی وجہ سے  خاصا  وقت فراغت کا ہے ، یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر کام سوشل میڈیا پر ہی کریں ، محلے میں دیکھیں بچے نوجوان بلاضرورت باہر بیٹھے ہیں انہیں سمجھائیں ، جہاں دکانوں میں لوگوں کو قریب قریب کھڑا دیکھیں، انہیں سمجھائیں کہ   ایک دوسرے سے کتنے فاصلے پر کھڑے ہوں،لوگوں میں ہاتھ  بار بار دھونے اور ماسک پہننے کا شعور پیدا کریں ،  بہت سے ایسے بھی لوگ آپ کے اردگرد ہوں گے جو روزانہ  کماتے کھاتے ہوں گے ابھی انہیں آپ کی مدد کی ضرورت ہوگی شاید وہ آپ سے نہ کہہ سکیں ۔ آپ خود انہیں تلاش کریں  ان کی مدد کریں ۔ مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ لوگ سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے علاقے میں فلاں گھر ہے اس میں دو دن سے راشن نہیں  کوئی مدد کو نہیں آرہا ۔ ارے بھئی آپ خود کیوں نہیں مدد کر رہے ہیں ،آپ لوگوں کو کیا بتارہے ہیں کیا یہ آپ کا فرض نہیں  !

خدارا  ہم سب بڑےکٹھن وقت سے گزر رہے ہیں اسے سنجیدگی سے لیں جتنی دیر ہوتی جائے گی معاملات سنگین ہوتے جائیں گےہم سب کہ بہتری اسی میں ہے کہ احتیاط کریں حکومتی  اور طبی اداروں کے احکامات پر سختی سے عمل کریں ۔ یہ نہ ضروری ہے نہ  ہی ممکن کہ  ایک ایک فرد کو قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حوالے سے سمجھائیں ۔ یاد رکھیں ہم جتنی جلدی اس وبا سے نکلیں گے اتنی جلدی اپنا نقصان پورا کرلیں اور اس سے نکلنے میں جتنی دیر ہوئی تو معمولات زندگی دوبارہ بحال ہونے میں بھی  بہت وقت لگ جائے گا۔

ارشد قریشی
ارشد قریشی
محمد ارشد قریشی کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعری کا شغف بھی رکھتے اورم الف ارشیؔ کے تخلص کے ساتھ اشعار کہتے ہیں ، پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے انفارمیشن سیکریٹری ہونے کے ساتھ انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز آرگنائیزیشن پاکستان کےصدر اور چائینا ریڈیو انٹرنیشنل کے پروگرام مانیٹر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک اچھا سچا اور مخلص صحافی دنیا کو پرامن اور خوبصورت بنا سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *