اوزون کی تہہ میں شگاف بھرنا شروع

عالمی برادری کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے تاہم ماحولیات سے متعلق ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اوزون کی تہہ میں شگاف بھرنا شروع ہو گیا ہے۔

ماہرین نے مونٹریال پروٹوکول کو اوزون کی تہہ میں بحالی کا نتیجہ قرار دیا ہے جس میں اوزون کو بری طرح نقصان پہنچانے والی زہریلی گیسز کے کم استعمال کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ دنیا کے ممالک کو ابھی مزید موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

خیال رہے کہ اوزون کی تہہ سورج سے نکلنے والی تابکار شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے بلکہ زمین پر اس کے نقصان دہ اثرات کا خاتمہ بھی کرتی ہے۔ اوزون کی تہہ کا 90 فیصد حصہ زمین کی سطح سے 15 تا 55 کلومیٹر اوپر بالائی فضا میں پایا جاتا ہے۔

فیکٹریوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیس کاربن مونو آکسائیڈ فضا میں موجود آکسیجن کے ساتھ مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ کاربن کا اخراج ہماری اور ہماری زمین کی صحت کے لیے نہایت مضر ہے اور یہ اوزون پر بھی منفی طور سے اثر انداز ہوتا ہے۔

اوزون تہہ کی تباہی سے مراد اس کی موٹائی میں کمی ہونا یا اس میں شگاف پڑنا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر برف سے ڈھکے انٹار کٹیکا کے علاقے میں ہوا جہاں اوزون کی تہہ میں گہرا شگاف پیدا ہوگیا۔

اوزون کو نقصان کی وجہ سے اس علاقے میں سورج کی روشنی پہلے کے مقابلے میں زیادہ آنے لگی جس سےعلاقہ کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا اور برف کے تیزی سے پگھلنے کے باعث سمندروں میں پانی کی سطح بلند ہوئی جس سے دنیا بھر میں شدید سیلاب آنے کے خدشات بڑھ گئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *