• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(چوتھا دن)۔۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(چوتھا دن)۔۔۔گوتم حیات

آج ملیر کا آسمان کوہِ مری جیسا لگ رہا تھا۔ سارا وقت گہرے سفید بادل سورج کی روشنی کو زمین پر پڑنے سے روکے رہے۔ چار سُو سفید بادلوں نے آسمان کو دلکش بنا دیا تھا۔ فضا میں خنکی نمایاں تھی۔
میں دن کے ایک بجے اپنے کمرے سے نکل کر صحن کی طرف گیا اور منہ ہاتھ دھویا، نلکے سے نکلتا ہوا پانی موسم کی وجہ سے بیحد ٹھنڈا تھا، اتنا ٹھنڈا کے مجھے مری کے پہاڑی آبشاروں میں بہتا ہوا پانی یاد آنے لگا۔ شاید کچھ لوگوں کو مبالغہ لگے کہ کہاں مری اور کہاں ملیر۔۔۔ لیکن جو لوگ ملیر کے ندی نالوں اور کھیت کھلیانوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں ان کو میری اس بات پر ضرور یقین آئے گا کہ آج نلکوں سے نکلنے والا پانی معمول کی نسبت ٹھنڈا تھا، اتنا ٹھنڈا کہ ہم اس پانی کو کوہِ مری کے پانی سے تشبیع دے سکتے ہیں۔
یہ ڈائری لکھتے ہوئے اس وقت مجھے دریائے ملیر یاد آرہا ہے۔ میں نے آخری بار دریائے ملیر کا نظارا دو ہفتے پہلے کیا تھا۔ بڑھتی ہوئی آلودگی اور آئے روز نکلتی ہوئی نئی نئی رہائشی ہاوسنگ اسکیموں نے دریائے ملیر کی فطری خوبصورتی کو داغدار کر دیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اس دریا میں موج در موج لہریں مارتا ہوا صاف چمکتا ہوا پانی اپنی پوری قوت سے آگے بہتا ہوا گزرتا تھا، پھر وہ خُونی زمانہ بھی اس کے کناروں نے دیکھا جب بوری بند تشدد زدہ شہریوں کی لاشیں اس کے پانیوں میں انتہائی سنگ دلی سے پھینک دی جاتی تھیں۔۔۔ اور اب دوہزار بیس کا دریائے ملیر اپنے وجود کی بقاء کا بوجھ اُٹھائے، انتہائی سُست رفتاری سے گدلے اور گندے پانی کو اپنے اندر سمیٹے سُست روی سے سسک رہا ہے۔۔۔۔ کس کی جانب؟؟؟ زندگی کی جانب۔۔۔۔ نہیں، شاید موت کی جانب گامزن۔ اس لمحے میں اپنے آپ کو روک کر خود سے سوال پوچھ رہا ہوں کہ کیا آنے والے زمانے میں دریائے ملیر اپنا وجود بر قرار رکھ سکے گا؟؟؟۔۔۔ اس سوال کا میرے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں۔
شہر میں لاک ڈاؤن جاری ہے لوگ اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں۔ مجھے آج پورے آٹھ روز گزر چکے ہیں گھر سے باہر قدم نکالے۔
دو ڈھائی کروڑ کی آبادی سے تجاوز کرتے اس شہر میں حاکم وقت کی طرف سے لاک ڈاؤن کے دوہرے معیار اپنی پوری قوت سے باشعور شہریوں کو یہ باور کروا رہے ہیں کہ تمام شہری برابر نہیں ہیں اور نہ ہی تمام شہریوں کی صحت حاکمِ وقت کو عزیز ہے۔
شہر بھر میں لاک ڈاؤن ہونے کے باوجود بہت سی فیکٹریاں چیف منسٹر کے احکامات کی نفی کرتے ہوئے معمول کے مطابق کُھل رہی ہیں۔ مل مالکان اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مزدوروں سے فیکٹریوں میں کام کروا رہے ہیں۔ ان کرونا کے خطرناک مہلک دنوں میں بھی مل مالکان کو صرف اپنے کاروبار سے غرض ہے۔ بہت سے مزدوروں کو فیکڑیوں کی طرف سے کوئی ایسا ڈاکیومینٹ مہّیا نہیں کیا گیا جس کے سبب وہ اپنی نوکری کو محفوظ بنا سکیں۔ اگر یہ مزدور کام سے چُھٹی کرتے ہیں تو ان کو نوکری سے
بے دخل کیے جانے کا قوی امکان ہے، اسی سبب یہ لوگ
لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی محض اپنی نوکریوں کو بچانے کے چکر میں باقاعدگی سے کام پر جا رہے ہیں۔
مجھے خدشہ ہے کہ اس طرح ان مزدوروں کے روز کام پر جانے سے کرونا کی وباء بہت سے نئے لوگوں کو اپنا شکار بنا سکتی ہے۔ فیکٹریوں میں پہلے ہی ورکروں سے بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے کام لیا جاتا ہے۔ کام کی جگہوں پر انہیں اضافی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جاتیں اور جو سہولیات انہیں دورانِ کام دی جاتی ہیں وہ ناکافی ہیں۔
ٹی وی اور ریڈیو پر کرونا کے بارے میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد چلتے اشتہارات جب یہ مزدور لوگ اور ان کے
اہل و عیال دیکھتے ہوں گے تو وہ اپنے دل میں کیا محسوس کرتے ہوں گے؟ کرونا کے بارے میں ہر گھڑی چلنے والے یہ اشتہارات ان لوگوں میں ایک نئی طرح کی احساسِ محرومیِ کو جنم دے رہے ہیں۔ ہمارے ملک اور خصوصاٰ کراچی شہر کے مزدور پیشہ افراد کا پہلے ہی برا حال ہے۔ ریاست کی طرف سے بنیادی انسانی ضروریات بھی ان کو احسن طریقے سے فراہم نہیں کی جاتیں۔ اب کرونا کے سبب یہ غریب لوگ گھمبیر صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ پچھلے چند دنوں سے حکومت کی طرف سے اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ دیہاڑی دار مزدوروں کو تین ہزار روپے ماہانہ اخراجات سے نوازا جائے گا۔ کیا یہ حکومتی اہلکار اس بڑھتی ہوئی مہنگائی میں تین ہزار کا مطلب بھی جانتے ہیں؟ یہ تین ہزار روپے کی رقم ان خستہ حال مزدوروں کے گھر کو سہارا دینے کے لیے مختص کی گئی ہے یا یہ رقم ان کے سماجی رتبے کو مزید کمتر کرنے کے لیے دی جارہی ہے۔۔۔۔ خدارا مزدوروں کے ساتھ یہ گھناؤنا مذاق نہ کیا جائے۔ یہ لوگ تو عام دنوں میں بھی کم سے کم دیہاڑی لے کر بھی چھ، سات سو روپے محنت سے کما لیتے ہیں۔ کرونا جیسی وبائی ایمرجنسی کے ان دنوں میں حکومتی ارکان سے میری گزارش ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں تو مہربانی ہو گی۔
آج شام میرے دوست ثمر کا مجھے بذریعہ وٹس ایپ پیغام موصول ہوا۔ ثمر نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ
“عاطف میں تمہاری کرونا ڈائری کی نئی قسط کا انتظار کر رہا ہوں اور گزشتہ رات تمہاری ڈائری کی تیسری قسط نے مجھے بہت متاثر کیا اور میں نے یہ قسط اپنی امّی کو بھی پڑھ کر سنائی، انہوں نے بھی تمہاری تحریر کی تعریف کی ہے۔”
یہ پیغام پڑھتے ہوئے میرا دل باغ باغ ہو گیا۔ ثمر گذشتہ ماہ نیپال سے تین ماہ کی کامیاب فیلو شِپ کر کے واپس کراچی لوٹا ہے، قرنطینہ کے ان عزاب ناک دنوں میں وہ بھی اپنے گھر میں قید ہے۔ ہم سب دوست معمول کے دنوں میں دن بھر کے کاموں سے فراغت کے بعد تقریباً روز ہی شام کو ملا کرتے تھے۔ جب سے کرونا کی یہ وبا پیھیلی ہے تو ہمارا روز کا ملنا مسدود ہو گیا ہے۔ جانے کب ہم سب دوست ایک دوسرے سے مل سکیں گے۔۔۔
ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے کرونا نے ہمیں چھوٹی چھوٹی سرحدوں میں تقسیم کر کے دور کر دیا ہے۔ حکومت کی طرف سے ہمیں وہ پاسپورٹ کب مہّیا کیا جائے گا جس کو لے کر ہم ایک دوسرے سے ملیں گے؟؟؟ یا اس پاسپورٹ کے انتظار میں کرونا ہمیں اس زندگی سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دے گا؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *