کرونا : وائرس یا ورلڈ آرڈر؟۔۔آصف محمود

کرونا سے اگر ہم نے احتیاط کی تو یہ محض ایک وائرس ہے جو انشاء اللہ ایک دن ختم ہو جائے گا،ہم اس سے خوفزدہ ہو گئے تو یہ ایک ورلڈ آرڈر ہے جو سب کچھ تہس نہس کر دے گا۔یہ وہ بات ہے جوا فراد کو بھی سمجھ لینی چاہیے اور دنیا بھر کی حکومتوں کو بھی۔ خوف کیا ہوتا ہے؟ معاشی تناظر میں سمجھنا ہو تو جان لیجیے یہ خوف کارپوریٹ دنیا کی مبادیات میں سے ایک ہے۔اس بات کو یوں سمجھیے کہ نلکے کے پانی سے بھلے ہم کبھی بیمار ہوئے ہوں یا نہیں لیکن اس کا خوف ہے جو ہمیں نیسلے کا منرل واٹر پینے پر مجبور کرتا ہے۔ہیجان سے جہاں خلق خدا تباہ حال ہوتی ہے وہیں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے امکانات کے دروازے چوپٹ کھل جاتے ہیں۔معیشت کے آزار کو آج کل ہم پاکستانیوں سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔ اس لیے مکرر عرض ہے احتیاط ضرور کریں ، ہیجان اور خوف کا شکار نہ ہوں۔ہیجان اور خوف اس وائرس کو ورلڈ آرڈر بنا دے گا اور اس کے جو نتائج ہوں گے انہیں برداشت کرنے کی سکت شاید ہم میںنہ ہو۔ کرونا وائرس کو دیکھنے کے دو زاویے ہیں۔ ایک زاویہ یہ ہے ہر چند گھنٹے بعد ہم اعدادوشمار دیکھیں کہ مزید کتنے لوگوں کو کرونا وائرس ہو چکا ہے۔ یہ تعداد بڑھتی جائے گی اور خوف پھیلتا جائے گا۔ دوسرا زاویہ یہ ہے ہم دیکھیں آج اس وائرس سے کتنے لوگ مرے۔ ہمیں تسلی ہو گی کہ یہ تعداد ، اللہ کا شکر ہے ، بہت کم ہے۔ بہت کم نہیں ، بہت ہی کم۔ یہاں ذرا رکیے ، کیا آپ کو معلوم ہے صرف امریکہ میںگذشتہ سال اکتوبر سے اپریل تک انفلوئنزا سے مرنے والے لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟دل تھام لیجیے، 59 ہزارلوگ صرف امریکہ میں صرف ان چند ماہ میں فلو سے مر گئے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال فلو سے پانچ لاکھ لوگ جاں بحق ہو جاتے ہیں۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری توجہ انتہائی کم اموات کی بجائے انتہائی زیادہ مریضوں پر ہو رہی ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو کیا یہ محض اتفاق ہے یا ہم احتیاط کے دائرے سے نکل کر خوف کی دلدل میں دھکیلے جا رہے ہیں؟ بعض دوست اور ماہرین جب یہ کہتے ہیں کہ وسیع پیمانے پر لوگوں کے ٹیسٹ کیے جائیں تو اس مطالبے اور اس پر ان کے اصرار پر حیرت ہوتی ہے۔اس سے کیا حاصل ہو گا؟ سوائے خوف کے؟ اس بات کا امکان موجود ہے کہ بہت سے لوگ اس وائرس کا شکار ہوئے ہوں اور ٹھیک بھی ہو گئے ہوں اور انہیں علم ہی نہ ہوا ہو کہ وہ اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے اس وائرس نے لوگوں کو معمولی سا متاثر کیا ہو اور پھر ان کی صحت بحال ہو رہی ہو۔ جب آپ ایسے کیسز کے اعداد وشمار کا پہاڑ کھڑا کر دیں گے تو اس کا ایک ہی نتیجہ نکلے گا؟ خوف ، خوف اور خوف۔ اس خوف کے نتائج کیا ہوں گے؟ یہ ایک دلچسپ مگر خطرناک مطالعہ ہو سکتا ہے۔ زندگی محدودد ہو جائے گی۔سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی۔ پٹرول کی مانگ کم ہو جائے گی۔پٹرول کی مانگ کم ہو گی تووینزویلا ، روس ، ایران اور سعودی عرب کی معیشت کی بنیادیں لرز جائیں گی۔ یہی حال رہا تو کیا معلوم ایک ڈالر کے دو بیرل مل رہے ہوں۔ چین کی ترقی کا سفر رک جائے گا۔ چین نے حکمت کا مظاہرہ کیا اور احتیاط کی۔اگر اس نے ووہان کے تجربے سے خوفزدہ ہو کر پورے ملک کو بند کیا ہوتا تو اس کی ترقی معکوس کا سفر بھی شروع ہو سکتا تھا۔ یہ خطرہ اب بھی ٹلا نہیں۔ اگر چین کی مصنوعات کا خریدار ہی سکڑ گیا تو چین کی ترقی بھی رک جائے گی۔ سعودی عرب اب کمزور تر شرائط پر امریکہ سے معاملہ کرنے پر مجبور ہو گا۔ عربوں کو مزید کمپرومائز کرنا پڑیں گے۔ ان کی نوعیت بڑی خطرناک ہو سکتی ہے۔ ذرا یورپ کو بھی دیکھ لیجیے۔ یورپ کی دو معیشتیں انڈر پرفارمنگ تھیں۔ اٹلی اور سپین۔ کرونا کی تباہی یہاں زیادہ بیان کی جا رہی ہے۔چین اور روس میں تباہی کم ہوئی۔ روس میں تو صرف ایک موت ہوئی۔اس پر کہا گیا روس اور چین میں کنٹرولڈ میڈیا ہے کیا معلوم اپنی معیشت کو بچانے کے لیے انہوں نے درست خبر چھپا لی ہو۔ اب جواب آں غزل کے طور پر یہ بھی تو کہا جا سکتا ہے کہ کیا معلوم سپین اور اٹلی نے اپنی اموات میں مبالغہ کیا ہو۔کسی کو کیا معلوم اجتماعی گڑھوں میں کون دفن ہو رہا ہے اور اس کی شناخت کیا ہے۔ کون جانے لاشوں کو جلایا جا رہا ہے یا سب اعدادوشمار ہی ہیں۔ہمارے پاس تو محض سرکاری اعدادو شمار ہی ہیں نا۔ان اعدادو شمار میں کسی بیل آئوٹ پیکج کے لیے مبالغہ بھی تو کیا جا سکتاہے۔ آپ کہیں گے کہ ایسے تو امریکہ میں بھی بہت اموات ہو رہی ہیں۔میں عرض کروں گا کہ ان اموات کے ساتھ 2 ٹریلین ڈالر کے بیل آئوٹ پیکج کو بھی نہ بھولیں جس سے ملٹی نیشنلز کے مزے ہو جائیں گے۔ پیسوں کا کیا ہے وہ تو عوام نے ٹیکسوں سے بعد ازاں پورے کرنے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ ڈالر کی گڈ ول اتنی زیادہ ہے کہ اضافی نوٹ چھاپ کر امریکہ اس پیکج کے جھٹکے کو سہہ جائے گا۔ امریکہ میں ہونے والی اموات کے باوجود کے باوجود امریکہ کا ڈالر مستحکم ہوتا جا رہا ہے ۔دنیا نے تدبیر کی بجائے خوف کا مظاہرہ کیا تو کرونا ایک وائرس نہیں رہے گا یہ ایک ورلڈ آرڈ ر بن جائے گا اور دنیا کی معاشی صف بندی ادھیڑ کر رکھ دے گا۔ کیا معلوم کون کہاں جا کھڑا ہو۔فارماسوٹیکل اندسٹری کے معاشی امکانات کو بھی نظر انداز مت کیجیے۔یہ بڑا اہم نکتہ ہے۔ ابھی اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر عبد اللہ حسین ہارون کی رائے سنی تو یوال نوح حریری کی ’’ سیپیئنز ‘‘ اور ’’ہوموڈوئس‘‘ یاد آ گئیں۔ ایک خیال آیا کیا ہم اسی طرف بڑھ رہے ہیں جس منظر نامے کا ذکر ہبریو یونیورسٹی آف یروشلم کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر یوال نوح حریری نے کیا تھا؟ کیا واقعی دنیا میں انسانوں کے کسی گروہ میں یہ زعم پیدا ہو گیا ہے کہ سائنسی ترقی سے اب وہ انسانی نسل کو مٹا کر اس کی جگہ کسی ’’ سپر ہیومن ‘‘ کی حکمرانی کے خواب کی تعبیر کر سکتا ہے اور اس زعم میں وہ خود کو Homo Deus سمجھنے لگ گیا ہے اور( نعوذ باللہ) اس کا خیال ہے کہ وہ انسان کے روپ میں خدائی قوت کا مالک بن گیا ہے؟ اتفاق دیکھیے ہبریو یونیورسٹی کے پروفیسر نوال حریری کے بڑے مداحین میں بھی بل گیٹس کا نام آتا ہے اور عبد اللہ حسین ہارون کی گفتگو میں بھی انگلی جن اطراف میں اٹھتی ہے ان میں امریکہ اسرائیل اور بل گیٹس نمایاں ہیں۔ معلوم نہیںان الزامات میںکتنی صداقت ہے ۔لیکن اتنا ضرور عرض کروں گا کہ ہمیں کرونا کی وبا سے نبٹنے کے لیے کی جانے والی کاوشوں میں ایک توازن کی ضرورت ہے۔ ہر اس قدم سے اجتناب کرنا چاہیے جو احتیاط کے دائرے سے نکل کر خوف کے دائرے میں شامل ہو رہا ہے۔کرونا ایک وائرس ہے ، اسے ورلڈ آرڈر مت بنائیے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply