• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایک عام بندے کا تعارف (سلسلہ)بندہ نمبر ایک، صوفی علی احمد۔۔۔ادریس آزاد

ایک عام بندے کا تعارف (سلسلہ)بندہ نمبر ایک، صوفی علی احمد۔۔۔ادریس آزاد

صوفی علی احمد دودھ والا تھا۔ بعد میں اس نے ’’ڈِکوترہ والے پُل‘‘ پر چائے کا ہوٹل بنالیا۔ نمازی بندہ تھا۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے پنجابیوں کو تو پنجاب میں اُتنے جتن نہ کرنے پڑے جتنے خالص اُردو بولنے والوں کو کرنے پڑے تھے۔ صوفی علی احمد اردوبولنے والا سوکالڈ مہاجر تھا۔ اتنا کھرا بندہ تھا کہ اگر آپ ذرا سے بھی ملاوٹ زدہ ہیں تو ممکن نہیں آپ کو صوفی صاحب کی کوئی بات اچھی لگے۔ دِل کا صاف، دماغ کا گرم، حرکت کا تیز اور عجیب و غریب قسم والا وہابی، یعنی جسے شیعوں، بریلیوں اور اہلحدیثوں سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ جسے اپنے ہی فرقے کی ایک ذیلی شاخ یعنی دیوبندیوں کی شاخ، حیاتیوں سے مسئلہ تھا۔ ان کے کسی مسئلے پر پمفلٹ چھپوا کرتقسیم کرنا، ہوٹل کے بنچوں پر بیٹھے لوگوں سے بحثیں کرنا اور باقاعدگی سے نماز پڑھنا اس کے بہترین مشاغل تھے۔

صوفی علی احمد جنونی بندہ تھا۔ خوفناک حدتک جنونی۔ شاید ہی شہر میں کوئی شہری ہو جو اسے پسند کرتاہو۔ لیکن جب بھی کسی کو کوئی کام پڑتا تھا تو صوفی صاحب کے ہوٹل پر پہنچ جاتے تھے۔ وہ ایک لحاظ سے سوشل ورکر بھی عجیب و غریب قسم کا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ سوشل ورک ذاتی کام نہیں حکومتی کام ہے۔ اگر کوئی سوشل ورک حکومت کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ فراڈ ہے۔

صوفی علی احمد محلے والوں کے بجلی کے بل مفت تَرواتا تھا۔ بل آنے کی دیر ہوتی، سب کے بچے صوفی کے ہوٹل پر اسے اپنے اپنے بل دے جاتے۔ اگر کسی مہینے کسی محلے والےکا بل نہ پہنچتا تو وہ خود لینے ان کے گھر چلا جاتا۔

شہر کی صفائی کے حوالے سے اس کا جنون اپنی مثال آپ تھا۔ صفائی کے حکومتی اہلکاروں میں ہرایک کا نام اور عہدہ فرداً فرداً جانتا تھا۔ اس زمانے میں موبائل نہیں ہوتے تھے تو وہ خود پیدل چل کر جاتا اور جس اہلکار کی سُستی سے گندگی یا کوڑا کرکٹ پھیل رہا ہوتا اسے کان سے پکڑ کر لے آتا۔ ایک مرتبہ تو صوفی نے حد ہی کردی۔ کسی محلے میں کوڑے کا ڈھیر بڑا ہوگیا تو اُسے دیکھ کر صوفی غصے سے دیوانہ ہوگیا۔ اس نے ایک بڑے سے ٹوکرے میں گندگی اور کوڑا بھرا، ٹوکرہ سر پر اُٹھایا اور بلدیہ کے دفتر پہنچ گیا۔ اس زمانے میں چیرمینوں یا ضلع ناظموں کی بجائے ایڈمنسٹریٹر ہوا کرتے تھے۔ ضلع کا اے ڈی سی جی، میونسپل کمیٹی کا ایڈمنسٹریٹر بھی ہوتا تھا۔ اے ڈی سی جی، ڈی سی سے ایک درجہ کم اور اے سی سے ایک درجہ بڑا آفیسر ہوتا تھا۔ صوفی کوڑے کا ٹوکرہ سرپراُٹھائے کمیٹی کے دفتر پہنچ گیا ۔ لیکن دفتر کی عمارت سے اندر جانے کی بجائے، گیٹ میں بیٹھ گیا۔ آتا جاتا اُسے دیکھتا تو حیران ہوتا کہ صوفی کو کیا ہوگیاہے؟ یہ گندگی سے بھرا ٹوکرا لے کر یہاں کیوں بیٹھاہے؟

اسی اثنا میں اے ڈی سی جی کی جیپ باہر آنے لگی۔ یہ سفید پھوٹوہار جیپ تھی۔ گاڑی جونہی بلدیہ کی عمارت کے گیٹ سے باہر آئی، صوفی نے آگے بڑھ کر گندگی سے بھرا ٹوکرہ جیپ کے بونَٹ پر اُلٹ دیا۔ اے ڈی سی جی تو غصے سے پاگل ہوگیا۔ اس کی سیکیورٹی بھی دیوانوں کی طرح صوفی کی طرف دوڑی۔ لیکن صوفی سینہ تان کر کھڑا رہا۔ آخر اے ڈی سی جی گاڑی سے باہر نکلا اور صوفی سے کہا؟

’’یہ کیا حرکت ہے؟‘‘

صوفی علی احمد نے اپنے مخصوص ہندوستانی لہجے میں جواب دیا،

’’کیوں!!! اب تکلیف ہورہی ہے؟ اور یہ کوڑا جب ہمارے گھروں کی دہلیزوں کے آگے پڑا ہوتا ہے، تب آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی؟‘‘

لوگ جمع ہوچکے تھے۔ اے ڈی سی جی معاملے کی نزاکت کو سمجھ چکا تھا۔ اس نے صوفی سے کچھ نہ کہا، بلکہ یہ وعدہ کرلیا کہ آئندہ گندگی کا معاملہ ٹھیک طرح سے دیکھ لیا جائےگا اور پھر لوگ جانتے ہیں کہ جب تک وہ اے ڈی سی جی رہا، شہر میں گندگی کے ڈھیر نہ لگ سکے۔

غصیلا بہت تھا لیکن شفیق بھی بہت تھا۔ لوگ دل کی گہرائیوں سے اسے جانتے تھے لیکن اس کا سامنا کرنے سے کتراتے تھے۔ اگر وہ گلی میں سامنے سے آرہاہوتو من کے سچے اور من کے چور، دونوں ہی راستہ بدل لیتے۔ من کے سچے تو میں نے بچوں کو کہا اور وہ اس سے ڈرتے تھے کہ صوفی علی احمد اُنہیں اُن کی شرارتوں پر ڈانٹتا یا مارتا تھا۔ لیکن من کے چور اس لیے راستہ بدل لیتے کہ وہ صوفی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت نہ رکھتےتھے۔ صوفی حد سے زیادہ اُصول پسند بندہ تھا۔ بلکہ یون کہنا چاہیے کہ وہ اصول پرست تھا۔ صرف حکومت ہی نہیں، اگر عام لوگوں میں سے کسی کے ساتھ اس کا پھڈا آجاتا ، جیسا کہ اکثر آہی جاتے تھے، تو صوفی ان کے ساتھ بھی نہایت باریکی سے اصول بازی کی جنگ لڑتا۔ اگرچہ صوفی کے ایسے بےشمار واقعات ہیں جو اس حوالے سے سپردِ قلم کیے جاسکتے ہیں، لیکن میں ایک واقعہ سنا کر یہ تحریر ختم کرتاہوں۔

ایک مرتبہ بازار میں ایک بوٹ ہاؤس سے صوفی نے اپنی گھروالی کے لیے جوتوں کا جوڑا خریدا۔ ساتھ ہی یہ وعدہ بھی لیا کہ اگر گھر جاکر خاتونِ خانہ کے پیروں میں جوتے کا سائز فِٹ نہ آیا تو وہ جوتا واپس لے آئےگا اور دکاندار جوتا بدل دےگا۔ یہ بھی طے ہوا کہ اگر جوتا نہ بدل کر دیا تو پھر پیسے واپس دینے ہونگے۔ اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ صوفی صاحب کی گھروالی کے پیر میں جوتا فٹ نہ آیا۔ صوفی جوتا لے کر بوٹ ہاؤس پر آیا اور واپس کرنا چاہا تو انہوں نے واپس لینے سے انکار کردیا۔ صوفی نے خاصی بحث کی، وعدہ یاد دلایا، لیکن انہوں نے مان کر نہ دیا۔ تب صوفی نے کیا کِیا کہ بوٹ ہاؤس کے مالک پر مقدمہ دائر کردیا۔ اب صورتحال کچھ یوں ہوگئی کہ ہردوماہ بعد تاریخ ملتی، بوٹ ہاؤس کے مالک کو عدالت حاضر ہونا پڑتا۔ وہ صوفی کی منتیں کرتا کہ کیس واپس لے لو! میں ایک نہیں گیارہ جوتوں کے پیسے دے دیتا ہوں۔ صوفی کہتا، اب نہیں۔ اب تو میں تمہیں سبق سکھا کر ہی چھوڑونگا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتاہے، ان کے درمیان صلح ہوتے ہوتے تین چار سال لگ گئے۔ آج سوچتاہوں، اُس بوٹ ہاؤس کے مالک کے تو اب پوتے ووتے ہی بوٹ ہاؤس چلاتے ہونگے، اور شاید ان کو بھی خاندانی روایت کے طورپر یہ نصیحت منتقل ہوئی ہوگی کہ بیٹا کبھی کسی گاہک کے ساتھ یہ وعدہ نہ کرنا کہ جوتا واپس بھی کیا جاسکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *