• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • وزیراعظم نے وفاقی دارالحکومت میں 252 بستر کے آئسولیشن سینٹر و ہسپتال کا سنگِ بنیاد رکھ دیا

وزیراعظم نے وفاقی دارالحکومت میں 252 بستر کے آئسولیشن سینٹر و ہسپتال کا سنگِ بنیاد رکھ دیا

وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر اسلام آباد میں متعدی امراض سے بچاؤ اور علاج کیلئے 252 بستروں پر مشتمل آئسولیشن سینٹر و ہسپتال کا سنگِ بنیاد رکھ دیا۔

انہوں نے جمعرات کو یہاں پاک چائنا فرینڈ شپ سینٹر میں قائم کردہ 50 بستروں پر مشتمل قرنطینہ سہولت مرکز کے دورہ کے موقع پر متعدی امراض کے ہسپتال کا سنگِ بنیاد رکھا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے وزیر اعظم کو منصوبے پر بریفنگ دی۔

اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈائریکٹر جنرل فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن میجر جنرل کمال اظفر، چیف کمشنر اسلام آباد عامر احمد علی اور پاکستان میں چین کے سفیر یائو جنگ بھی موجود تھے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ یہ ہسپتال نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے قریب 40 کنال اراضی پر تعمیر ہوگا، 252 بستروں پر مشتمل یہ ہسپتال فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن تعمیر کرے گی جس کے لیے تیار شدہ سٹیل کا سٹرکچر استعمال کیا جائے گا اور یہ ہسپتال10 مئی تک یعنی تقریباً ڈیڑھ ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔

ہسپتال چینی حکومت کی معاونت سے تعمیر کیا جائے گا جبکہ اس کی جانب سے تقریباً 40 لاکھ ڈالر کی معاونت فراہم کر دی گئی ہے۔ اس ہسپتال میں مریضوں کے لئے 7 بلاکس ہوں گے جن میں مردوں کے لئے 4 اور خواتین کے لیے 3 بلاکس مختص ہوں گے، اسی طرح لیبارٹری اور ڈائیگناسٹک بلاک کے علاوہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس کے لیے رہائش کا انتظام بھی ہو گا۔اس ہسپتال میں متعدی امراض سے بچاؤ، تشخیص اور علاج سمیت جدید سہولیات دستیاب ہوں گی۔ وزیراعظم نے اس منصوبے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم کو 50 بستروں پر مشتمل کورونا آئسولیشن سنٹر کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے قائم کردہ آئسولیشن سینٹر کے مختلف حصوں کا جائزہ لیا اور کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے آئسولیشن سینٹر کے قیام کو سراہا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیر اعظم کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے درکار ضروری طبی آلات و دیگر ضروری سامان کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے انتظامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *