• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(تیسرا دن)۔۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(تیسرا دن)۔۔۔گوتم حیات

آج صبح میں جب بیدار ہوا تو محلے کی مسجد سےدرود و سلام پڑھنے کی آوازیں آرہی تھی۔ مسجد سے آنے والی یہ آوازیں اس بات کا اشارہ تھیں کہ نمازِ فجر باجماعت ادا کی جا چکی ہے اور اب تمام نمازی دعا کے بعد درودوسلام پڑھ رہے ہیں۔ میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا یہ سوچ رہا تھا کہ ان کرونا کے وبائی دنوں میں نمازیوں نے باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے کیا ایک دوسرے سے مناسب فاصلہ رکھا ہو گا یا وہ عام دنوں کی طرح ہی نماز میں بغیر کسی ہچکچاہٹ اور احتیاطی تدابیر کے مشغول ہوں گے۔۔۔
اُس وقت شدت سے میرا دل چاہا کہ کاش میں باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے نمازیوں کو ایک نظر دیکھ سکتا کہ وہ کس انداز میں نماز پڑھ رہے ہیں۔
میں نے بستر پر ہی لیٹے ہوئے اپنے کمرے کی کھڑکی کے شیشے پر نظر ڈالی جس کو صبح کی روشنی نے روشن کر رکھا تھا لیکن ہمت نہیں ہوئی اس کو کھول کر باہر جھانکنے کی۔ اس وقت کھڑکی کھول کر باہر جھانکنے سے آخر کیا فرق پڑنا تھا کیونکہ سارا دن تو گھر کے اندر ہی گزارنا ہے۔ ورنہ عام دنوں میں یہ میری عادت میں شامل ہے کہ جب میں صبح اُٹھوں تو کھڑکی کھول کر باہر کی فضا کا جائزہ لوں اور پھر چھت پر جا کر تھوڑی دیر سورج کا دیدار کروں۔ روز صبح اُٹھ کر چھت پر جا کر سورج کو دیکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے۔
آج سارا دن آسمان پر گہرے بادل چھائے رہے، کراچی کے کچھ علاقوں میں ہلکی بارش کی بھی خبریں موصول ہوئی لیکن میرے علاقے میں محض بادل ہی چھائے رہے اور بِن برسے دن کا اختتام ہو گیا۔
آج بدھ کا دن تھا بارہ بجے کے قریب میں دوبارہ نیند سے بیدار ہوا اور موبائل پر ایکسپریس اردو اخبار کی ویب سائٹ سے میڈم زاہدہ حنا کا کالم پڑھا۔ آج کا کالم شہید پروین رحمان کے بارے میں تھا جن کو کچھ سال پہلے نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔ پروین رحمان جدوجہد کا استعارہ تھیں اور ان کی ساری زندگی اس شہر کے غریب لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے وقف رہی۔ زندگی کی آخری سانس تک وہ بھتہ مافیا اور لینڈ گریبرز کے خلاف سرگرمِ عمل رہیں۔ میڈم زاہدہ حنا کے اس کالم نے مجھے بیحد مغموم کر دیا۔ مجھے یونیورسٹی کے وہ دن یاد آئے جب ان کی شہادت کی خبر سن کر ہم نے کئی دن تک شہر میں احتجاج کیا تھا۔ سب سے بڑا احتجاج مزارِ قائد کے سامنے کیا گیا تھا جس میں شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی تھی۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ میں نے شہید پروین رحمان کے بہت سے لیکچرز میں شرکت کی۔ وہ واقعی میں ایک دردمند انسان تھیں اور اُن کو یوں قتل کر دیا گیا۔ اس شہر میں اگر قتل ہونے والوں کی داستانوں کو رقم کیا جائے تو صفحے کم پڑ جائیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں لاتعداد لوگ مذہب، مسلک، زبان اور قومیتی شناخت کے نام پر قتل کیے گئے۔ قتل کرنے اور قتل ہونے والے اسی شہر کے باسی تھے۔ مجھے ابھی بھی یاد ہے زیادہ پرانی بات نہیں یہی کوئی آٹھ، نو سال پرانی بات کہ جب اس شہر میں ٹارگٹ کلنگ عروج پر تھی اور نوجوان لڑکے قتل کر دیے جاتے تو ان کے لیے مساجد میں اعلانات کیے جاتے تھے کہ “فلاں لڑکا رضائے الٰہی سے انتقال کر گیا ہے آپ تمام لوگوں سے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے نمازِ جنازہ اور قران خوانی میں شرکت کی درخواست ہے۔” یعنی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مساجد سے بدقسمت قتل ہو جانے والے لوگوں کے لیے “رضائے الٰہی” کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے مولوی حضرات قتل کو رضائے الٰہی سے منسوب کرتے تھے۔ شاید اُن کو حاکمِ شہر سے اس طرح کے ہی احکامات صادر ہوتے ہوں گے۔ بیچارے مولوی بھی کیا کرتے زندگی تو اُن کو بھی عزیر تھی۔
آج پاکستان بھر میں کرونا سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد 1022 تک پہنچ چکی ہے جبکہ آٹھ افراد کرونا کے سبب جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ہر گزرتے دن کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے، جانے کب یہ کرونا کا وائرس اپنے انجام کو پہنچے گا؟؟؟
شہر میں کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہے لیکن بہت سے شہری اپنے نجی کاموں کی وجہ سے گھر سے باہر جانے پر مجبور ہیں اور پولیس والوں کا رویہ ایسے لوگوں کے ساتھ انتہائی تضحیک آمیز ہے۔ بہت سی ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہو رہی ہیں جن میں یونیفارم والے شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں چیف منسٹر کو ایسے واقعات کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔
گزشتہ رات میرے ایک پرانے دوست نے مجھے وٹس ایپ پر میسیجز کیے۔ اس کے میسیجز دلچسپ تھے وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ عاطف یہ کراچی کرفیو سے کرونا لاک ڈاؤن ڈائری تم نے خود لکھی ہے؟ جب میں نے اُس کو بتایا کا ہاں یہ میری اپنی تخلیق ہے تو اس نے مجھے کہا کہ میں نے بھی ایک مختصر سا روزنامچہ تخلیق کیا ہے لیکن ابھی تک کسی کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا، میں تمہیں اپنا روزنامچہ بھیج رہا ہوں تم پلیز پڑھ کر اسے اپنے پاس سے ڈیلیٹ کر دینا اور مجھے بتاؤ کہ میں نے کیسا لکھا ہے۔ قصہ مختصر کہ میں نے اپنے دوست کا بھیجا ہوا روزنامچہ پڑھا جو کہ بیحد دلچسپ تھا۔ اس لمحے میں نے اپنے آپ کو بہت خوش قسمت تصور کیا کہ ایک دوست نے مجھ پر اعتماد کر کے اپنی لکھی ہوئی تحریر مجھ سے شئیر کی۔
کرونا وائرس نے ہر شخص کو متاثر کیا ہے اور لاک ڈاؤن کے ان تاریک دنوں میں جانے کتنی انفرادی کہانیاں تخلیق ہو رہی ہوں گی۔ اس وقت مجھے گلزار کی لکھی ہوئی ایک نظم کا شعر بار بار یاد آرہا ہے۔ اس نظم کو غلام علی نے گایا تھا۔
شام سے آج سانس بھاری ہے،
بیقراری سی بقراری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *