توکل اور اسباب ایک ساتھ۔۔محمد ہارون الرشید

ایک وائرس ہے جس نے  انسان کو اُس کی کُل اوقات یاد دلا دی ہے،

اور اوقات بھی ایسے یاد دلائی ہے کہ  پوری دنیا کا کاروبار رک گیا ہے۔۔۔

دوڑتی زندگی جیسےٹھہر سی گئی ہے،
ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتی ٹریفک غائب ہو گئی ہے،
سڑکیں ویران اور شاہراہیں سنسان ہیں،
وہ رستے جن پر ٹریفک ہر وقت ہی جام رہتا تھا، ان پر سناٹے کا راج ہے،
زندگی گھروں کے اندر محدود ہو گئی ہے،
ہم نعرے لگا رہے ہیں کہ ڈرنا نہیں، لڑنا ہے۔

“خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کی اپنی کمائی سے تا کہ وہ مزا چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا، شاید وہ باز آ جائیں”

کچھ بزعم خود “مذہبی دانشور” دعا اور استغفار اور تلاوت کے ٹھٹھے اُڑا رہے ہیں کہ چین نے تو ان سب کے بغیر ہی محض انسانی محنت کے بل بوتے پر اس وبا پر قابو پا لیا۔۔۔یہ درست ہے کہ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے۔۔ لیکن کیا ان اسباب کا پیدا کرنے والا اور ان اسباب پر قدرت رکھنے والا کوئی خدا ہے بھی یا بس یونہی نظامِ کائنات چلا جا رہا ہے؟؟
ہمارا ایمان ہے کہ ایک خدا ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔۔۔
جن کا ایمان  ہی نہیں ہے وہ کیوں دعا اور استغفار اور تلاوت کا ہتھیار استعمال کریں گے؟ ؟؟
اور جن کا ایمان ہے وہ محض اپنی محنت پر ہی کیوں اصرار کریں گے؟؟ ؟
ہاں، اگر کوئی انسانی کوشش اور محنت سے انکار کر کے محض مصلیٰ بچھانے پہ اصرار کرتا ہے تو ہم اسے بتائیں گے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو باندھنے کے بعد توکل کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔۔۔

ہم احتیاطی تدابیر اختیار کریں گے لیکن دعا کے لیے ہاتھ بھی اٹھائیں  گے،
ہم اس بیماری سے لڑیں گے لیکن اپنے رب سے مناجات بھی کریں گے،
ہم میں سے جو ڈاکٹر اور سائنسدان اس بیماری سے مقابلے کیلئے علاج ڈھونڈنے کیلئے تحقیق کرے گا ہم اُس کی کامیابی کے لیے اپنے رب کے سامنے اپنی جھولیاں پھیلا کے بیٹھ رہیں گے۔۔۔
ہم لڑیں گے لیکن اللہ پر توکل کرتے ہوئے لڑیں گے۔

ہم لڑیں گے لیکن اپنے رب کو مدد کے لیے بھی پکاریں گے اس لیے کہ ہمارا یقین ہے کہ جب ہم مرض میں مبتلا ہوتے ہیں تو ایک وہی ہمیں شفا دیتا ہے۔۔۔

آدم کی اولاد کے کرتوتوں سے جو افراتفری پھیلی ہے، وہ اس لیے ہے کہ ہم باز آ جائیں۔۔اس لیے نہیں کہ ہم ٹھٹھے اڑائیں کہ سورہ الرحمٰن سے تو علاج نہیں ہوتا۔۔۔

مکرر عرض ہے کہ جو مریض کے سرہانے سورہ الرحمٰن  لگاتے ہیں، وہ اسباب سے علاج بند نہیں کر دیتے۔

محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”توکل اور اسباب ایک ساتھ۔۔محمد ہارون الرشید

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *