ارواح کا مکا لمہ۔۔اجمل صدیقی

روح عالم :اہل زمین کا کیا حال ہے؟
روح شجر:مضطرب ہیں ،
روح حیوان:مر رہے ہیں ،
روح ارتقا: جرثومے سے خدا بننے لگے تھے،

روح عالم : کیا ہوا۔ کسی نیبولا سے بھٹک گئے تھے؟
روح شجر: جنگل کے اندر سے تو نکل آئے لیکن ان کے اندر سے جنگل نہیں نکلا تھا،
روح آب:پانی کو بیچتے تھے ۔۔پانی پر جھگڑے تھے ۔ڈیم کے پیسے کھاجاتے تھے۔ گٹر میں بہا دیتے تھے ۔
میں جو زندگی ہوں ۔۔۔میں جو صحت ہوں ،میں جو حسن ہوں ،میں جو بادل ہوں ،میں جو ساحل ہوں ،میں جو آبشار ہوں ،بوتلوں میں بھر بھر کر بیچتے ۔۔پلانٹ بنا کر مجھے غلام بناتے ۔۔ تھر اور صحرا میرے گھر اُجاڑ دیتے تھے۔ انہیں پیاسا مار دیتے تھے
میں جو آنکھوں کا نور ہوں ۔۔۔جسم کی ٹھنڈک ہوں ،سبزے کا جوہر ، رنگوں کا منشور ہوں ،قوس قزح کی ڈھال ہوں ، اوزون کی تہہ بن کر نیلے دھبے کو بچاتا ہوں، گھاس اُگاتا ہوں ، شبنم کے موتی لٹاتا ہوں ۔۔
مجھ سے تیزاب بناتے ہیں ۔میرے چہرے پر سیاہی ملتے ہیں ۔

روح عالم:اے قطرہ شبنم تو تنا تلخ کیوں ہے آج
تیرا سینہ تو بہت نرم ہے ۔۔
یاد کر تیرے سمندر کی تہہ میں زندگی کا حمل ہوا تھا۔پہلا خلیہ پھٹ کر دو ہوا ۔۔ پروٹوپلازم بنا تھا
تو اتنا بے رحم نہ بن !
ارے روح شجر !تو کیوں نالاں کھڑی ہے ۔
روح شجر:اے روح کائنات
میں نے اپنے بچے زمین تہہ میں رکھ کر  تیز سورج کی شعاعوں سے اسے بچایا ۔اپنے سبز لباس میں اسے چھپایا ۔اپنے چھاتی کا دودھ پلایا ۔۔
اپنی چھتریاں ا سے دیں ۔۔ ۔۔
میرے بیج اس نے کھائے اپنی نسل کو ختم کرکے میں نے اس کی نسل کو بقادی ۔
اس نے میرے اعضا کاٹ دیے ۔
میرے جسم کو آگ لگادی ۔
کوٹھیاں بنانے کیلئے میرے گھر اُجاڑ دیے ۔۔ ۔۔
بے ضرر پتنگوں کو اڑا دیا ۔تتلیوں کو بے گھر کیا ۔۔۔جگنوؤں  کو بے گھر گیا۔۔
خوشبو کو در بدر ۔۔۔شہد کی مکھی کو بے آشیاں  کیا ۔۔۔
کارخانے کے دھوئیں سے میری سانس بند کردی ۔۔
میری منڈیر پرندے اڑ گئے
روح شجر زارزار رونے لگی
کیا یہ صرف انسان کا گھر ہے ؟

روح عالم روح ارتقا سے پوچھتی ہے
بتاؤ:اب اس کیڑے کو جو خدا بننے کاجنون ہے اس کا کیا علاج ہے ؟
روح ارتقاء:۔اے روح کائنات !
روح حیوان سے بھی کچھ پوچھ لیں
روح حیوان:میں کیا بتاؤں اے عالم
سفاری پارک ۔۔۔چڑیا گھر ۔۔ باربی کیو ۔۔لیگ پیس ۔۔بائیو انجینئرنگ
ریچھ کتے کی لڑائی ۔۔مرغوں کی لڑائی ۔ شکار کے شوق میں خون ہی خون ۔تمام چرند پرند
میری اس ناجائز اولاد سے تنگ ہیں ۔
اپنے ذائقے، اپنی لذت ۔۔۔۔اپنی فضیلت کے اندھے شوق میں اس بڑے دماغ والے انا پرست درندے نے
میرا خاندان اجاڑ دیا ۔۔ معصوم جانوروں کی آہ و زاری سے یہ خرابہ عالم لرز گیا ہے ۔
اب تو یہ ہائیڈروجن بم چلانے والا ہے ۔۔۔۔۔
اے روح کائنات ۔۔۔
اک چمگادڑ کے دودھ پیتے بچوں کو اس نے اندھا کردیا ہے ۔ ۔۔اس کے خون سے ایک ارنڈ کا بیج ۔۔۔نکل کر نیلے سٹیشن پر ٹوٹ پڑا ہے
اسے اہل زمین کرونا کہہ  رہے ہیں ۔۔
اس کی دہشت سے سب اہل زمین اپنے بِلوں  میں دبکے بیٹھے ہیں ۔ مکھیوں کی طرح مر رہے ہیں
اس بندر نے ارتقا کے غلط گراگری ہلادی ہے
مریخ ۔۔ ۔۔۔نیبولا ۔۔۔پلوٹو ۔۔ سب اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہے ۔۔ ان کی چیخیں سن رہے ہیں ۔
روح عالم۔۔کوئی دعا ابھی تک نہیں آئی ۔۔۔
میں معاف کردوں  گا ۔۔۔۔۔
تمام ارواح کی چیخیں نکل گئیں ۔ اور خوشی کے آنسو بھی۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *