طاعون سے کروناوائرس تک۔۔آغرؔ ندیم سحر

گزشتہ ایک ہفتے سے کرونا وائرس کی وجہ سے  گھرمیں قید ہوں اور اس دوران کتب بینی زوروں پہ ہے۔عام دنوں میں کبھی اتنی فرصت نصیب نہیں ہوئی کہ اتنی یکسوئی سے مسلسل کتب پڑھی جائیں جس کتاب نے مجھے متاثر کیا وہ سٹیفن جے سپگنیس کی کتاب”سو بڑے حادثات“ ہے۔یہ کتاب اس لیے بھی اہم ہے کہ ایک طرف حالیہ کرونا وائرس سے پوری دنیا میں ہونے والی تباہی اور دوسری طرف اس کتاب میں موجود 526ء سے 2005ء تک ہونے والے دنیا کے سوعظیم حادثات کی تفصیل اس میں موجود ہے۔اس کتاب میں شامل پہلے 35حادثے فطری،چھتیسواں حادثہ چرنوبل ایٹمی پلانٹ کی تباہی جسے انسانوں کی غلطی سے ہونے والاپہلا بڑا حادثہ بھی کہا گیا۔اس کتاب میں آدھے سے زیادہ وہ حادثے ہیں جو فطری طور پر ہوئے مگر انسانوں کی نااہلی،نظر اندازی اور غیر سنجیدگی نے ان حادثوں کو نوعیت کو شدید ترین بنا دیا۔اس کتاب میں بیس ایسے ہولناک حادثے ہیں جو وباؤں سے ہوئے اور مختلف ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ لقمہ اجل بن گئے۔دنیا کی سب سے ہولناک وبا”بلیک ڈیتھ“(طاعون)تھی جس سے سات کروڑ پچاس لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور یقیناً  تاریخ اتنے بڑے حادثے کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکے گی۔میں سو الگ الگ حادثوں میں بالکل نہیں جانا چاہتا کیونکہ کالم کی طوالت کا خدشہ پیشِ نظرہے مگر مجھے”بلیک ڈیتھ“کا تھوڑاذکر کرنا پڑے گا۔

”بلیکھ ڈیٹھ“یعنی کالی موت کا حملہ 1347ء کے اردگرد یورپ میں شروع ہوا،وبا کا ہتھیار پسو تھے اور اس کو جگہ جگہ پہچانے والے چوہے تھے۔پسو چوہوں کے بالوں میں چھپ جاتے اور جب موقع ملتا یہ انسانوں تک پہنچتے۔پسو ”یرسینا پیٹس“نامی جرثومے کو اٹھائے ہوتے تھے جو کہ تین قسم کے طاعون کا سبب بنتے تھے،ان سب نے مشترکہ طور پر اس تباہی کو جنم دیا جسے ”بلیک ڈیٹھ“کہا گیا۔اب طاعون اور اس کی تینوں قسمیں کس طرح انسان کے اعضا پر حملہ آور ہوتی تھیں یہ ایک لمبی بحث ہے جس کو پھر کسی کالم میں ذکر کروں گامگر جو بات تشویش ناک ہے وہ اس بیماری سے ہونے والی تباہی ہے۔اس وبا کا سبب سے زیادہ خوفناک عرصہ 1347ء سے لے کر 1351ء تک کا تھا۔دسمبر1347ء میں یہ وبا قسطنطنیہ،سسلی،سارڈینیا،کورسیکا،مارسائل اور فرانس میں پہنچی۔جون 1348ء میں اس وبانے سارے یونان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس کے بعد یہ وبا یہ اٹلی،فرانس کے بیشتر علاقوں،سپین کے تہائی مشرقی علاقوں (آج کل یوگوسلاویہ،البانیہ، بوسنیا،ہرزیگونیا، کروشیا) میں پہنچی اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ لقمہ اجل بنے۔دسمبر1348ء میں یہ یورپ کے باقی علاقوں میں پہنچی اور باقی ماندہ فرانس اور آسٹریا کے بیشتر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سب سے بنیادی وجہ سے وبا کے پھیلے کی سفر بتائی گئی۔یعنی مسافر جو ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتے تو بیماری بھی ان کے ساتھ سفر کرتی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اس بیماری نے پورے یورپ کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔جب عوام الناس نے اس تباہی کو مسلسل نظر انداز کیا اور اپنے معاملاتِ زندگی اسی روٹین سے چلاتے رہے تو جون 1349ء میں اس بیماری نے سوئٹرز لینڈ،جرمنی کے جنوبی حصے،انگلستان کے وسطی حصے اور باقی ماندہ آسٹریا کا رخ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ باقی مغربی ممالک میں بھی پھیل گئی۔1349ء کے اختتام پر یعنی آغاز کے دو سالوں بعد یہ کالی موت”بلیک ڈیتھ“نے پورے آئر لینڈ،سکاٹ لینڈ،جرمنی کے وسطی علاقوں اور کوپن ہیگن کو اپنی لپیٹ میں لیا اور یوں آمدورفت سے یہ بیماری کروڑوں  جانیں لے گئی۔تیس سال بعد جون 1390ء میں یہ بیماری ناورے میں داخل ہوئی اور اسے اپنی لپیٹ میں لیااور یوں اس وبا نے معیشت،زراعت،تعلیم اور سفر سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی کو تباہ وبرباد کر دیا۔یہ بیماری ابھی تک کسی نہ کسی صورت موجود رہی اور 1924ء میں لاس اینجلس میں اس وبا نے سر اٹھایا لیکن جلد ہی اس پر قابو پا لیا گیا لیکن پچاس افراد لقمہ اجل بن گئے۔

یہ وبائی تصویر کا ایک رخ ہے جو اگرچہ پچاس سال پرانا ہے مگر حالیہ وبا نے اس تصویرکے اس رخ کو مزید واضح کر دیا کہ طاعون پھیلنے کی بنیادی وجہ کیا تھی اور کس طرح آدھی صدی تک یہ بیماری کسی نہ کسی علاقے کو متاثر کرتی رہی۔2002ء میں بھی وباؤں کے قومی کمیشن(NICD) نے اس بیماری کا ذکر اپنے ایک اخبار میں کیا تھا لیکن میں اپنے موضوع کی جانب آتا ہوں۔میں جب طاعون سے اس سے ملحقہ دیگر حادثوں اور بیماریوں کی روداد پڑھ رہا ہوں تو جس بات نے مجھے سب سے زیادہ پریشان کیا وہ ذرائع آمد ورفت تھے کی جس کی بنا پر بیماری رکنے کی بجائے مختلف ممالک کا سفر کرتی رہی اور ساڑھے سات کروڑ لوگ پوری دنیا میں اس بیماری کی لپیٹ میں آ گئے۔بالکل ایسے جیسے ووہان سے شروع ہونے والے کرونا وائرس نے بہت تیزی سے سفر کیا اور یوں یہ دنیا کے تقریبا ً 188سے زائد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اور مزید ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔پاکستان میں یہ وائرس تفتان بارڈ سے آنے والے زائرین کے ذریعے ہم تک پہنچا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انتہا ہو گی۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم نے اس سے کتنا سبق سیکھا؟۔پچھلے ایک ہفتے سے پورا میڈیا چیخ رہا ہے کہ آمدورفت بند کی جائے،لوگ اپنے گھروں میں خودساختہ قیدی بن جائیں،سلام دعا سے گریز کیا جائے،پارٹی اور پکنک سے مکمل طور پر اجتناب کریں،صفائی کا خاص خیال رکھیں،ہوٹلنگ اور پارک میں جانا بند کریں مگر آپ حیران ہوں گے کہ تازہ سروے کے مطابق ان تمام باتوں کا اثر صرف بیس فیصد عوام پر ہوا ،اور  80 فیصد لوگ بالکل اسی طریقے سے معاملاتِ زندگی چلا رہے ہیں جیسے کرونا سے پہلے چل رہے تھے۔آئے روز تفتان بارڈرز سے سینکروں کی تعداد میں زائرین آ رہے ہیں‘جب ان کو روکا جاتا ہے تو متشدد مذہبی ذہنیت آڑے آ جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ ہمیں مذہبی رسومات سے روکتے ہیں۔جب نمازیوں سے کہا جاتا ہے کہ بلاوجہ مساجد میں مجمع نہ لگائیں تو وہ کہتے ہیں کہ خدا کے احکامات سے روکتے ہیں۔یہ جاہلانہ رویہ ہمیں کسی بڑے حادثے کا شکار ضرور کر دے گا اور اپنے متشدد رویے کو لے کر بیٹھے رہیں گے۔

حالیہ وبا کے دنوں میں مجھ سے وہ لوگ بھی سلام لینے کو دوڑے جو پہلے دیکھ کر منہ پھیر لیتے تھے،جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ سلام لینا اور گلے ملنا تو ثواب ہے اور ثواب کے کاموں سے کروناوائرس نہیں ہو سکتا۔اب ایسے لوگوں کو کون کون سے احادیث سنائی جائیں یا کون کون سی احتیاطی تدابیر بتائی جائیں۔یقین جانیں جب قومیں اپنی بے وقوفیوں اور غلطیوں کا ملبہ بھی خدا پہ ڈالنا شروع کر دیں تو صرف تباہی ہوتی ہے اور ہمارا رویہ اس تباہی کو آواز دے رہا ہے۔یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ سوشل زندگی کو کم کرنے سے ہی یہ بیماری کنٹرول ہو سکتی ہے مگر ہم چھٹیوں کو انجوائے کر رہے ہیں،حکومتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے اپنی عیاشیوں میں مگن ہیں اور پھر جواز پیش کرتے ہیں کہ خداسب ٹھیک کر لے گا۔خدا بھی ایسے لوگوں کا ساتھ دیتاہے جو خدا کی مان کر چلتے ہیں اور بیماریاں یقینا آزمائش ہوتی ہیں مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم کنویں دیکھ کر بھی اس میں گر جائیں اور بعد میں کہیں کہ ہماری قسمت میں ہی یہ سب لکھا تھا۔ایسے قوموں کی قسمت ہمیشہ خراب ہی نکلتی ہے جو اپنی غلطیوں کی اصلاح کی بجائے اس پر ڈٹے رہتے ہیں اور اس بات کی توقع لگائے رکھتے ہیں کہ کوئی آسمانی چیز نازل ہو گی اور ہماری تقدیر بدل دے گی۔

آغر ندیم سحر
آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *