افغانوں کا المیہ ۔۔اسلم اعوان

پوری دنیا کی طرح افغانیوں نے بھی امن کی جس امید پہ امریکا‘طالبان معاہدہ کا خیرمقدم کیا‘پیس ڈیل میں انہیں سلامتی کی وہ کرن دکھائی نہیں دیتی‘کیونکہ ابھی معاہدہ کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ افغان صدر اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکارکر کے انٹرا افغان مذاکرات کے امکان کا دروازہ بندکر دیا۔توقع کے عین مطابق‘قیدیوں کی رہائی پہ مصر‘طالبان نے بھی افغان حکومت کی پوزیشنوں پہ حملے شروع کر کے کبھی نہ تھمنے والے نئے خونیں تنازع کی بنیاد رکھنے میں دیر نہیں کی؛چونکہ امن معاہدہ کے فریقین نے افغانستان میں کسی ایسی نمائندہ حکومت کے قیام پہ اتفاق نہیں کیا ‘جو غیر ملکی فورسز کے انخلاء کے بعد روزمرہ کے امور مملکت چلانے کے علاوہ داخلی سیاسی تنازعات کو نمٹانے کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرتی؛اس لئے امن معاہدہ کا یہی نتیجہ نکلنا تھا کہ انٹرا افغان مذاکرات کے آغاز سے پہلے ہی ستمبر 2019ء میں منعقد ہونے والے متنازع صدراتی الیکشن کے دونوںامیدواروں؛عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی نے اپنی اپنی کامیابی کے دعووں کے ساتھ ‘ ایک ہی دن میں‘دو الگ الگ تقریبات سجاکے اگلی مدتِ صدارت کا حلف اٹھا کے سیاسی اختلافات کی لکیرکو مزید گہرا کر دیا۔اے کاش! اگر افغان لیڈرشپ تحمل سے کام لیتے ہوئے وسیع تر اتفاق رائے کی خاطر ازخود اقتدار سے دستبردار ہو جاتی تو یہ بدقسمت قوم‘سر پہ منڈلاتے‘خونیں تنازع سے بچ سکتی تھی ‘بلکہ یہی ذہنی ایثار لیڈر شپ پر شہریوں کے اعتماد میں اضافہ کا سبب بنتا‘ مگر افغانوں سے ایسی ذہنی لچک کی توقع محال تھی۔مستزاد یہ کہ امریکی و یورپی سفیروں سمیت پاکستان کے کئی بے نام سیاستدانوں نے بھی متنازع صدر‘اشرف غنی‘کی تقریب ِحلف برداری میں شرکت کر کے شمالی افغانستان کی نمائندگی کرنے والے عبداللہ عبداللہ اورطالبان قیادت کو منفی پیغام بھیجا۔امریکیوں کے مقاصد تو شاید طویل عرصہ تک افغانستان کے وار تھیٹرمیں محصور رہیں گے‘ لیکن ہمارے عاقبت نااندیش سیاستدان کو کیا سوجھی کہ وہ افغانوں کے داخلی تنازعات میں ٹانگ اڑانے کابل جا پہنچے۔ایک ایسے وقت میں جب افغانستان میں برسرپیکارغیر ملکی فورسز واپس پلٹنے کیلئے پا بہ رکاب ہوں۔عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے علاوہ خودکو منوانے والے طالبان بھلا کیونکر پیچھے رہ سکتے تھے؛ چنانچہ انہوں نے بھی ہیبت اللہ اخوندزادہ کو افغانستان کا صدر نامزد کرکے ملت ِافغانیہ کا دنیا بھر میں تماشا بنا دیا۔
افسوس کہ اکیسویں صدی میں بھی افغانوں کی قومی‘سیاسی اورمذہی قیادت یہ ثابت کرنے پہ تلی ہوئی ہے کہ ماضی کی طرح وہ آج بھی امور مملکت چلانے کیلئے عقل اجتماعی کو بروکار لانے کی اہلیت سے عاری ہیں۔صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ افغان لوگ‘قبائلی چین آف کمانڈکے تحت مزاحمتی جنگیں تو لڑتے آئے ‘مگر وہ عقلی قومیت کے تصور سے کوسوں دُور رہنے کے باعث مملکت کی تنظیم اور فن حکمرانی سے ناواقف رہے۔شاید اسی لیے افغانستان کو اردگرد کی چھوٹی بڑی ریاستوں نے ہمیشہ دبوچے رکھا۔کیا افغان عوام کو کبھی یہ دن دیکھنا نصیب نہیں ہو گا کہ ان کی لیڈرشپ قبائلی عصبیتوں اور انتقام در انتقام کی جدلیات سے اوپر اٹھ کے ملک و ملت کی خاطر عفوودرگزر اورسیاسی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عصبیتوں میں منقسم گروہوںکو قومی قالب میں ڈھال کر افغانستان کو ایک منظم مملکت بنا لے؟کم از کم موجودہ قیادت سے تو ایسی توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اجتماعی قومی مسائل کو سلجھانے کیلئے نفرتوں کی دھارکند کرکے سر جوڑ کے بیٹھ جائے گی۔
ایک طرف اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ ایک دوسرے کے خلاف صف بندی میں مشغول ہیں تو دوسری جانب طالبان یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمارا معاہدہ افغان گورنمنٹ سے نہیں‘ بلکہ امریکا کے ساتھ ہوا؛چنانچہ وہ اشرف غنی گورنمنٹ کو مسخر کرنے کی کوششوں سے دستبردار نہیں ہوں گے‘اسی لئے آج کل افغان سماج میں یہ مذاق عام ہے کہ جسے تحفظ درکار ہو‘ وہ امریکی فوجی اڈوں کے قریب جا بسے۔اس وقت امریکی ایئرفورس نے فضائی مدد کے ذریعے عارضی طور پہ طالبان کی پیشقدمی روک رکھی ہے‘فورسز کے انخلا کے ساتھ ہی افغانستان میں واشنگٹن کی تزویری بالادستی کا دائرہ تنگ ہوا تو طالبان کے سیاسی غلبہ کی راہ روکنا دشوار ہو جائے گا؛اگرچہ امریکی مقتدرہ روس سمیت علاقائی طاقتوں کو یہ یقین دلانے میں مصروف ہے کہ وہ افغانستان میں امارت ِاسلامی کے قیام کو قبول نہیں کرتے اور بظاہر وہ القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں پہ دباو ٔبرقرار رکھنے کی خاطر ہی غنی گورنمنٹ کو گرنے سے بچاتے نظر آتے ہیں‘ لیکن مڈل ایسٹ میں امریکی مفادات افغانستان میں ایک سخت گیر مذہبی ریاست کی تخلیق کے متقاضی ہیں‘اس لئے مستقبل کے افغانستان میں طالبان کی بالادستی کے علاوہ داعش سمیت کئی عسکری تنظیمیں پھرسے فعال ہو سکتی ہیں۔6 مارچ کوکابل میں ایک مذہبی رہنما عبد العلی مزاری کی برسی کی اُس تقریب پہ داعش کا تباہ کن حملہ اسی آشوب کا شاخسانہ دکھائی دیتا ہے‘جس میں32 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے تھے‘اسی مجلس میں صدارتی دعویدار عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی کے علاوہ صف ِاوّل کے کئی افغان رہنما موجود تھے‘جو خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ چھیالیس ہزار اہلکاروں پہ مشتمل افغان آرمی کی کمانڈ بدعنوانی کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہے اور چیک پوسٹوں پہ مسلسل تعیناتی کے وبال سے تھکی ہوئی افغان فورسز اپنی ناقص تربیت کی وجہ سے طالبان کے خلاف موثر مزاحمت کی صلاحیت نہیں رکھتی‘ماضی میں جب بھی انہیں طالبان کا سامنا کرنا پڑا‘ وہ بلا تامل ایئرفورس کو مدد کیلئے پکارتے۔افغانوں کی نفسیات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ وہ فاتح کی تعریف اور شکست خوردہ کی تضحیک کے قائل ہیں‘اس لیے جس دن طالبان فاتح کی حیثیت سے کابل میں داخل ہوئے ‘ملی اردو(افغان آرمی)لڑنے کی بجائے فاتحین کا استقبال کرے گی۔افغانستان ایک مملکت کی حیثیت سے کبھی بھی اپنی نیشنل آرمی منظم نہیں کر پایا۔روایتی طور پہ یہاں کے جنگجو ہمیشہ مذہبی ایشوز سے توانائی حاصل کرکے ٹرائبل چین آف کمانڈ کے تحت مزاحمتی جنگیں لڑنے کے عادی ہیں۔ان کی کمزوری یہ ہے کہ قبائلیت کا بے سر وسامان غرور انہیں فوجی ڈسپلن اور کمانڈ کے سامنے سرنگوں رکھنے سے روکتا ہے۔اس وقت طالبان کا مخمصہ بھی یہی ہے کہ وہ اٹھارہ سال پہ محیط طویل جنگ کے ذریعے واضح فتح حاصل کرنے کے بعد اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت کی ”نوکری‘‘کیوں کریں گے؟جس طرح اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے مابین کسی مشترکہ گورنمنٹ کے امکانات صفرہیں‘ اسی طرح فتح کے نشہ سے سرشار طالبان کا بھی کسی وسیع النبیاد قومی حکومت کا حصہ بننا خارج از امکان ہو گا‘لہٰذا ہمیشہ کی طرح ان تینوں گروہوں کے درمیان فیصلہ تلوارکرے گی‘تاہم افغانستان کی حاکمیت پہ بزورِ شمشیر غلبہ پانے کی طاقت صرف طالبان کے بازووں میں ہے‘ لیکن افغان قوم پرستوں کی طرح وہ بھی حکومت چلانے کے فن سے ناآشنا ہیں۔
چنانچہ غالب امکان یہی ہے کہ وہ اپنے بے لچک رویوں سے بہت جلد باہم دست و گریباں دشمنوں کو اپنے خلاف صف آرا کر لیں گے۔اس حوالے سیچند خوش گمان ماہرین کہتے ہیں کہ طالبان اب‘1990ء کی دہائی والے ان گھڑ لوگ نہیں‘ جو عورتوں پہ حصول تعلیم کے دروازے بند اور ان کی نقل و حمل پہ ناروا پابندیاں عائد کر کے معاشرے کو پتھر کے زمانہ میں دھکیل دیں گے‘ بلکہ وقت کے ساتھ انہوں نے بنیادی انسانی اقدار کا شعور اور رموز ِحکمرانی کی شُد بُد حاصل کر لی ہے‘ اس لیے افغانوں کی قومی لیڈرشپ کو ساتھ لیکر وہ مملکت کی تنظیم اور جدید خطوط پہ قوم کی تشکیل کرلیں گے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply