جب درویش کی کٹیا میں دو مہمان آئے۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر کامران احمد
افشیں کامران

درویش اپنی کٹیا میں زیادہ وقت تنہا گزارتا ہے تا کہ اپنی تنہائی اور خاموشی میں دانائی تلاش کر سکے۔ وہ اپنے خیالوں کی دنیا میں اتنا کھویا رہتا ہے کہ فون کا جواب بھی اکثر نہیں دے پاتا اور لوگ اس کی آنسرنگ مشین پر یہ پیغام سنتے ہیں
؎ جب کبھی آتے ہیں میرے پاس آپ
میں نکل جاتا ہوں خود کو ڈھونڈنے
لیکن کبھی کبھار جب اس درویش کی کٹیا میں کچھ اور درویش آ جاتے ہیں تو وہ ان کو اپنے دل اور گھر کا دروازہ کھول کر اندر بلاتا ہے۔ایک ماہ پیشتر اس سےملنے بڑی دور سے درویش کامران احمد اپنی درویشنی شریکِ حیات افشیں کے ہمراہ تشریف لائے اور درویش خالد سہیل نے مسکراتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔

خالد سہیل نے کامران احمد کو مشترکہ کتاب TWO CANDLES OF PEACEکے چھپنے کی مبارکباد دی اور افشیں کو مشورہ دیا کہ وہ اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کریں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ امن کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر سکیں۔افشیں کامران نے’ جو شاعرہ بھی ہیں اور فنکارہ بھی’ جب مشرقی کسرِ نفسی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ وہ ترجمےکا بھاری پتھر نہ اٹھا پائیں گی تو خالد سہیل نے جواب دیا کہ وہ افشیں کی ترجمہ کرنے میں مدد کرنے کو تیار ہیں۔
خالد سہیل کی مدد کا وعدہ سن کر افشیں کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ اس چمک میں ترجمہ کرنے کی خواہش کم اور خالد سہیل کے ساتھ مل کر کام کرنے کے جذبےکی روشنی زیادہ تھی۔
چنانچہ خالد سہیل اور افشیں کامران نے مل کر کتاب کے دیباچے اور پہلے خط کا ترجمہ کیا جو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کامران احمد کا تعارف
۱۵ ۔۔۔اکتوبر ۲۰۱۹
میں خط لکھنے کے فن سے ناواقف لیکن مکالمے کی اہمیت سے بخوبی واقف ہوں۔یونانی فلسفیوں سے لے کر سمرقند کے دالانوں تک اور سمرقند کے دالانوں سے لے کر لاہور کے چائے خانوں تک مکالموں کی ادب اور زندگی میں بہت اہمیت رہی ہے۔ میری ذاتی زندگی میں بھی پہلے میرے اساتذہ اور پھر میرے شاگردوں کے درمیان پرمغز مکالمے ہمیشہ جاری و ساری رہے ہیں۔کھلی فضا میں مل بیٹھ کر کھلے ذہن سے کیے گئے تجزیے سے جس طرح نظریات نمو پاتے ہیں وہ تنہائی میں بیٹھ کر سوچنے سے نہیں ہوتے۔
چند ماہ قبل جب میں گرمیوں میں اسلام آباد گیا تو میں نے مہر گڑھ کے ادارے میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ یہ سیمینار عسکریت پسندی کے خاتمے کے حوالے سے تھا۔ اس دوران ایک تربیت پانے والے شاگرد نے نفسیاتی مشورے کامطالبہ کیا ۔ گفتگو کرتے ہوئے اس نے ذکر کیا کہ وہ زندگی میں جب نہایت مشکل وقت سے گزر رہا تھا تو کسی نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے رستہ دکھایا جنہیں اب وہ اپنا مسیحا سمجھتا ہے۔ دنیا کے دوسرے کنارے پر رہنے والے یہ مسیحا جن کا بنیادی طور پر تعلق پاکستان سے ہے پیشے کے اعتبار سے وہ نفسیاتی معالج ہیں اور گزشتہ چالیس برس سے کینیڈا میں مقیم ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے ایسے لوگ متاثر کرتے ہیں جو رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سے دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔میں نے اس تربیت پانے والے شاگرد سے اس مسیحا کا رابطہ نمبر مانگ لیا اور کینیڈا واپس پہنچ کر ان کے لیے ایک پیغام بھیجا کہ آپ سے رابطے کا خواہشمند ہوں۔
پیغام بھیجتے وقت مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ وہ تیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں اور انٹرنیٹ پر ان کے تین سو سے زاید مقالے چھپ چکے ہیں۔ ان کے علاوہ وہ بہت سے ٹی وی پروگرام بھی کر چکے ہیں جو اب یو ٹیوب پر دستیاب ہیں۔
ان سے رابطے کے چند ہی گھنٹوں بعد ان کا جواب موصول ہوا۔ پھر ہماری فون پر گفتگو ہوئی اور انہوں نے چند دن بعد کھانے کی دعوت دے ڈالی۔ (جی ہاں بطورِ میزبان انہوں نے کھانے کا بل بھی ادا کیا)۔انہوں نے اپنے دوست رفیق سلطان اور ان کی زوجہ نسیمہ کو بھی مدعو کیا جو کہ ٹورانٹو میں فیملی آف دی ہارٹ کی میزبانی کے فرائض بخوبی سر انجام دے رہے ہیں۔
کھانے کے دوران اس مسیحا کی ذہانت و ذکاوت ’ ان کی دانشمندانہ سوچ اور تخلیقی قوت کا اندازہ ہو رہا تھا۔ اس لیے کہ میں زندگی کے کسی بھی پہلو پر ان سے آزادانہ طور پر تبادلہِ خیال کر سکتا تھا۔ان کی ہر موضوع پر گفتگو ان کی سوچ کی گہرائی اور خیالات کی بلندی کی عکاس تھی۔ ان کا مشاہدہ کمال کا تھا اور معلومات متاثر کن تھیں۔ مگر ان سب سے بڑھ کر اثر انگیز بات ان کی طبیعت کی سادگی تھی۔ان میں اپنی کامیابی اور علم کی وجہ سے کوئی گھمنڈ نہ تھا۔ اگر صوفیوں کی زبان میں کہا جائے تو ان میں میں نہ تھی۔اونٹاریو کے ایک رستورانٹ میں گویا میں ایک اصلی درویش سے مل رہا تھا ایک عالم اور ایک انسان دوست دہریہ صوفی سے۔
کھانے کے اختتام پر انہوں نے بڑی فراخ دلی سے مجھے یہ پیشکش کی کہ اگر کسی موضوع پر میں ان سے تبادلہِ خیال کرنا چاہوں تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ چند دن بعد مجھے ان کا پہلا خط موصول ہوا اور یوں ہمارے بیچ مکالمے کی ابتدا ہوئی۔
پہلا خط تقریباٌ تین ہفتے قبل لکھا گیا تھا جس کے تحت ہمارے درمیان خطوط کا بھرپور تبادلہ ہوا۔اور اگلے بائیس دنوں میں ہم نے ایک دوسرے کو پینتیس خطوط لکھ ڈالے۔
کھل کر دیانتداری سے کیے گئے اس مکالمے میں ہم نے اپنے تجربات’ مشاہدات’ خیالات اور احساسات میں ایک دوسرے کو شریک کیا۔ڈاکٹر خالد سہیل نے یہ تجویز پیش کی یہ خطوط ان سب لوگوں کے لیے سودمند ثابت ہو سکتے ہیں جو
اپنی زندگی میں سچ کی تلاش میں نکلے ہوئے مسافر ہیں
اپنی ذات کے نہاں خانوں میں سکون کے خواہاں ہیں
روحانیت کے راز جاننا چاہتے ہیں
اور وہ بھی جو
اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ایک مثبت اور پائیدار تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔۔
میں اپنے قارئین پر یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس کتاب سے استفادہ کرنے کے لیے ان کا نہ تو کسی روایتی مذہب اور نہ ہی کسی روحانی سلسلے پر اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔
ان خطوط میں ہم نے مل کر امن کی دو شمعیں جلائی ہیں ایک داخلی امن کی اور ایک خارجی امن کی ’ایک نفسیاتی امن کی اور ایک سماجی امن کی’ ایک مذہبی امن کی اور ایک سیاسی امن کی۔ خطوط کا یہ سلسلہ ہم دونوں کے مابین کھلے ذہن سے کیا گیا ایک ایسا مکالمہ ہے جو انفرادی سطح سے شروع ہوتا ہے اور سماجی سطح سے گزرتے ہوئے عالمی سطح تک پھیل جاتا ہے۔
اس سفر میں ہم نے بہت سے ایسے شاعروں’ ادیبوں’ دانشوروں’ سائنسدانوں’سیاسی رہنماؤں اور فلسفیوں کا بھی ذکر کیا ہے جنہوں نے ہمارے راستے میں دانائی کی مشعلیں روشن کیں۔
ڈاکٹر سہیل نے ان خطوط کے تبادلے میں جو وقت اورتوانائی ’توجہ اور بصیرت انڈیلی ہے وہ قابلِ صد ستائش ہے۔ڈاکٹر سہیل ایک نئی روایت کی بنیاد ڈال رہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بہت سے فنونَ لطیفہ میں کئی ایک فنکار مل کر کام کرتے ہیں۔ وہ مل کر فلمیں بناتے ہیں اور کانسرٹ کا اہتمام کرتے ہیں لیکن ادبی کام اکثر تنہائی میں کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سہیل مختلف لکھاریوں کو پہلے مل کا کام کرنے کی اور خطوط کے تبادلے کی دعوت دیتے ہیں اور پھر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کتاب بھی دو ادیبوں کے مل کا کام کرنے اور باہمی ہم آہنگی کی مثال قائم کرے گی۔
ان خطوط کوکتاب کی شکل میں مرتب کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ غیر رسمی گفتگو کا جوہر زائل نہ ہو۔
یہ کتاب ان تمام انسانوں کے نام ہے جو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں امن اور سکون کے متلاشی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالد سہیل کا پہلا خط۔۔۔۔محبت’ امن اور دانائی
۲۳ ستمبر ۲۰۱۹ بوقت شب آٹھ بج کر انتالیس منٹ
پیارے کامران !
میں اپنے خط کی ابتدا اس اعتراف سے کرنا چاہتا ہوں کہ میں زندگی کے ایک ایسے دور سے گزر چکا ہوں جب میرے دل میں غصہ ’ناراضگی اور نفرت بسا کرتے تھے۔
مجھے یہ سمجھنے میں کافی وقت لگا کہ یہ سب جذبات اور احساسات لاشعوری طور پرمیرے ماحول سے مجھ میں جذب ہوتے رہے۔
مجھے یہ جاننے میں کافی دیر لگی کہ میں ایک شدت اور تشدد پسند کلچر کا پروردہ ہوں
مجھے اس بات کا بھی بڑے عرصے کے بعد ادراک ہوا کہ ہم اپنے ماحول کا تعصب کھانے کی طرح اور نفرت ہوا کی طرح اپنے جسموں اور ذہنوں میں جذب کرتے رہتے ہیں۔
اپنے بچپن کے دور میں میں نے شوہروں کو بیویوں پر تشدد کرتے دیکھا اور لوگ عورتوں کو یہ کہہ کر بچانے نہ آئے کہ یہ ان کا گھریلو معاملہ ہے۔
اپنی نوعمری کے دور میں میں نے یہ دیکھا کہ لوگ میرے احمدی دوست کے گھر کے دروازے پر کچرا پھینکتے ہیں اور کوئی منع نہیں کرتا
اپنی نوجوانی کے دور میں میں نے جنگ کی ہولناکی دیکھی جب میرے شہر پر بم برسائے گئے اور معصوم بچے ’مرد و زن اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اپنی جوانی کے دور میں میں نے سنا کہ لوگ کس قدر بے دردی سے دوسرے انسانوں کو رحمان و رحیم کے نام پرموت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔
میں اس خاندانی’ سماجی اور سیاسی تشدد کے سائے میں پلا بڑھا اور میں نے جنگ کی خون کی ہولی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
میں نے اپنے روایتی اور مذہبی ماحول میں انسانوں کو بہت دکھی پایا۔
پچھلے چالیس برس میں میری سوچ ’میرے فلسفہِ حیات اور میری شخصیت میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ مجھے نفرت کو محبت میں ’ تضاد کو ہم آہنگی میں ’ تشدد کو ہمدردی میں اور جنگ کو امن میں ڈھالنے میں ایک طویل عرصہ لگا۔
اب جبکہ میں زندگی کی شام میں داخل ہو رہا ہوں اور مجھے محبت ’امن اور دانائی کی اہمیت کا اندازہ ہو رہا ہے میں دھیرے دھیرے ایک امن پسند انسان بن رہا ہوں۔ ایک پرامن انسان بننا میرے لیے ایک قابلِ فخر بات ہے۔اب میں نے انسان دوستی کے فلسفے کو گلے لگا لیا ہے۔
امن پسندی اور انسان دوستی کے اس سفر میں میں اپنے ارد گرد ایک ایسا حلقہ بنانے میں بھی کامیاب ہوا ہوں جو ذات پات’ رنگ و نسل ’جنس و مذہب کی تفریق سے بالاتر ہے۔ اس حلقے کا ہم نے نام فیملی آف دی ہارٹ رکھا ہے اور اب آپ اور افشیں بھی اس حلقے میں شامل ہو گئے ہیں۔
اگر آپ چاہیں تو ہم خطوط کے سلسلے کو جاری رکھ سکتے ہیں جن میں ہم اپنے خوابوں اور آدرشوں کا ذکر کر سکتے ہیں۔مجھے قوی امید ہے کہ یہ خطوط ہمارے قارئین کو زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیں گے۔سقراط نے کہا تھا ‘ وہ زندگی ہی کیا جس میں غور و تدبر نہ ہو’
آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟
ڈاکٹر کامران !
آپ کو اپنی زندگی کے چند پہلوئوں سے متعارف کرنے کے بعد میں بھی یہ جاننے کا خواہشمند ہوں کہ آپ کو زندگی کے سفر میں کن شخصیات اور فلسفوں نے متاثر کیا اور آپ کیسے ایک امن پسند سماجی کارکن بنے؟
شانتی اور امن کے ساتھ۔۔۔۔

آپ کا تخلیقی ہمسفر

۔۔۔ خالد سہیل

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *