• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے !

کس نے سوچا تھا کہ زندگی ایسی بھی بے کیف ہو جائے گی کہ  بشیر بدر کی  ،کی ہوئی خواہش  صرف ان کی خواہش  ہی نہیں رہے گی  بلکہ آٹھ ارب انسانوں  کے لئے ایک حقیقت بن جائے گی ۔آج جو جہاں ہے جیسے ہے وہاں رک گیا ہے  یا روک دیا گیا ہے ۔ کہیں کوئی گنجائش ہے بھی تو  وبا کےبڑھنے کے ساتھ ساتھ  ہر لمحہ  انسان  محصور  و مجبور ہو تا جا رہا ہے ۔ یہی کیفیت کچھ عرصہ مزید رہی تو  پھر کس  کی شام کس گلی میں ہوئی  اور کس کا سور ج کہاں اور کیسے ڈوباکوئی غزال آنکھیں   دیکھنے والی ہوں گی  نہ سہارا دینے والی۔ حال  تو اب بھی یہ ہے کہ میل ملاقات جو انسانیت کا  بنیادی خُلق ہے بندگان خدا  اسی سے کنارہ کش ہوئے بیٹھے ہیں ۔ ایک ادنیٰ سے کیڑے  کرونا وائرس نے انسان  پر ایسا حملہ کردیا ہے کہ بنیادی خلق اور اقدار داؤ پرلگ چکی ہیں ۔  گلے ملنا تو دور کی بات ہاتھ ملانے سے بھی گئے۔  بس  دید کے نظارے اور  وہ بھی اب محدود سے محدود تر  ہوتے ہوئے۔

بشیر بدر تو شاید کسی ایسی ہی آفت کی پیش خبری میں جانے ان جانے میں  چپکے سے  یہ بھی کہ گئے ہیں ۔

یونہی بے سبب نہ پھرا کرو  کوئی شام گھر بھی رہا کرو،

وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو،

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے،

یہ نئے  مزاج کا شہر ہے  ذرا  فاصلے سے ملا کرو،

میں  ضروری کام  سےباہر گیا  شہر کا چکر لگایا۔ ہر طرف  ایک عجیب ما حول ہو گیا ہے ۔ جیسے سارے شہر کو سانپ سونگھ گیاہو۔ شہر نیم مردہ میں رونق باقی نہ  شوخ رنگ جمگٹھا۔جہاں دو چار لوگ کھڑے بھی ہیں وہ بھی ایک دوسرے سے فاصلے پر ۔ اپنے اپنے منہ پر ماسک چڑھائے ۔  کل تک ہنسنے کھیلنے والے  باہم  گھنٹوں خوش گپیاں کرنے والے  آج ایک دوسرے سے فاصلے پر کھڑے ہیں  ۔  ہر ایک شاکی ہے  ہرایک مشکوک ہے ۔  بات کرتے ہو تو  ذرا فاصلے سے یہی پیغام  اب ہر ایک کی آنکھ میں دوسرے کے لئے ہے۔  آگے پیچھے دھیان رہتا ہے کہ کوئی چھینک نہ دےکوئی کھانسی نہ کرے۔ سُپر مارکیٹ میں گھسیں تو  دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ وجہ  وہ خوف ہے جو طاری ہوچکا ہے۔     اتنا تو شاید لوگ خود کش حملہ آوروں سے کبھی خوف زدہ نہیں ہوئے جتنا اب ہو چکے۔

اب یہ  قصہ کسی ایک  شہر کا رہا نہیں،  پوری دنیا نئے اور عجیب مزاج کی ہو گئی ہے ۔  فاصلے سے ملنا ضروری  ٹھہرا۔ ہاتھ ملانا نہیں بس ہلانا ہے  کہ وقت کا تقاضا یہی ہے ۔ بعض کے لئے واقعی یہ تعزیر سے کم نہیں کہ انہیں  اکیلے رہنے اور باہر نہ نکلنے کا کہا جائے ۔  جو بھی ہو ،فی الوقت تو اسی حال میں گزارا کرنا سب کے بھلے میں ہے۔  چلیں مجبوراً ہی سہی  جب  تنہائی میسرآ ہی گئی ہے تو پھر ایک درویش مضطر عارفی  کا مشورہ بڑے کام کا ہے ۔

تم اپنے آپ سے ملتے اگر اکیلے تھے

کڑا تھا وقت تو ہنس کر گزار دینا تھا

Avatar
Ch. Naeem Ahmad Bajwa
محبت کے قبیلہ سے تعلق رکھنے والا راہ حق کا اایک فقیر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *