کھینچا تانی۔۔سلیم مرزا

پیٹ کی گولائی کے اثرات جب غربت کے مسائل سے تجاوز کرتے ہوئے درمیانہ طبقے کو بھی متاثر کرنے لگی تو پیٹ گناہگاروں کے مقبرے کی طرح دور سے ہی نظر آنے لگا ۔
ان حالات میں ازار بند کہاں تک ساتھ دیتا؟
وہ سراسر آزار بن گیا ۔
ڈھیلا باندھتا تو ڈرتا کہ عوام وہ سب نہ جان لیں، جن کی آگاہی کسی طرح بھی مفاد عامہ میں نہیں تھی ۔
اور اگر کبھی نیب کی طرح “کس “کر باندھتا تو محسوس ہوتا جیسے دل کا اپنے سے نچلے عزیزوں سے رابطہ ٹوٹ گیا ہو ۔
اچھے خیالات کی “تنی سے آگے رسائی نہ رہی ۔
اور تو اور اسے ھربار ڈھونڈنے کی الگ سے پرابلم تھی ۔
میرا کوئی لے جاتا اور مجھے کسی کا دے دیا جاتا ۔
ایک دوبار تو ٹوٹھ برش کے ساتھ ناڑا ڈالتے میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

ویسے تو ہم بچپن سے ہی گانٹھ کے پورے تھے ۔لیکن کبھی کبھی ناڑا ایسے الجھتا کہ ہاتھ سے دی ہوئی گانٹھ اگر منہ وہاں تک پہنچتی تو اس سے بھی نہ کھل پاتی ۔
ایمر جنسی میں الجھی ہوئی صورتحال مزید الجھ جاتی جاتی جب “ایمر ” ساتھ نہیں ہوتا تھا ۔
گئے زمانے میں سنا ہے ناڑا لٹکانے کا رواج تھا کہ، اس کے سرے پہ شیشوں اور گوٹہ کناری کا کام بھی ہوتا تھا ۔
پتہ نہیں وہ شیشے منہ دیکھنے کے کام آتےتھے کہ منہ دکھانے کے؟
لیکن اب کسی کا ناڑا لٹکا ہو تو دوربین قوم جو موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھی خاتون کو دوپٹہ سنبھالنے اور سوار کو اسٹینڈ اوپر کرنے کے مشورے دیتی ہے ۔فوراً تاڑ جاتی ہے ۔اور سرعام اقرار حسین بن کر کہتے ہیں کہ “بھائی جان، ناڑا “ٹنگ لیں ”
یہ اتنا ہی برا لگتا ہے جتنا موٹر سائکل پہ بیٹھے کو کوئی کہے”پاجی ،لائٹ بند کرلو “۔
ویسے میں نے خواتین کا ناڑا پنجابی فلموں کی ہیروئین کے علاوہ کسی کا بھی لٹکا نہیں دیکھا ۔
خیر ان کی تو ہر چیز لٹک مٹک رہی ہوتی ہے ۔مجھے حیرت تب ہوتی ہے جب یہ شلوار کی بجائے دھوتی کی سائیڈوں پہ لٹک رہا ہو ۔ناڑا اور دھوتی تو ہوتے ہی ہیں لیکن اکثر ہیروئین کی ٹانگیں کیوں دھوتی سے باہر ہوتی ہیں ۔؟
میں نے تنگ آکر بیگم سے مشورہ کیا
“کیوں نہ میں شلوار میں ناڑے کی جگہ الاسٹک ڈال لوں؟ ”
تاکہ تخلیقی اور تعمیری معاملات کو یکسوئی سے انجام دیا جاسکے ۔
بیگم نے مشکوک نظروں سے دیکھا
“مگر وہ تو بچوں والی خواتین پہنتی ہیں ”
“میرے بھی تو چار بچے ہیں، “؟
میں نے ترنت جواب دیا ۔۔
اگر میں بتا دیتا کہ میں نے الاسٹک تو بچوں کی نیکرز کے علاوہ بھی دیکھا ہے تو آج آپ یہ پڑھ نہیں رہے ہوتے۔
دوتین روز کی منت ،کریکٹر سرٹیفکیٹ، اور ایک ہومیو پیتھک ٹائپ میڈیکل رپورٹ کی وصولی کے بعد اخیر خاتون خانہ کو رحم آ ہی گیا۔ اور میری شلوار میں الاسٹک ڈال ہی دیا گیا ۔مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے “تنی “سے تالا کھول دیا ہو۔بس لوگوں بتانا پڑتا ہے کہ احتیاط کریں ورنہ حکومتی بیانیہ کھل کر سامنے آجائے گا ۔
الاسٹک سے پیٹ اور شلوار اب ایک پیج پہ ہیں ۔
بس ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ بیگم نے یہ کیوں کہا کہ “الاسٹک بچوں والی خواتین پہنتی ہیں ۔؟
جب کہ مجھے سب سے زیادہ ڈر دوستوں سے اور بچوں سے ہی رہتا ہے کہ کہیں کھینچ نہ دیں ۔
مجھ جیسا چھوٹی عقل کا حامل ،حامل ہذا کے مسائل کہاں سمجھ سکتا ہے۔؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *