خدارا! احتیاط کریں ۔۔سید اعزاز الرحمان

آپ چند لمحوں کےلیے اپنی آنکھیں بند کرلیں، اور تصور کیجیے کہ آپ کو کوئی بیماری ہوگئی  ہے۔۔آپ اپنے کام سے چھٹی لےکر ہسپتال پہنچتے ہیں آپ 20 روپے کی پرچی بناتے ہیں اور انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں۔ اس دوران آپکی تکلیف میں اضافہ بھی ہوتا جاتا ہے اور آپ انتظار کی وجہ سے چڑچڑے بھی ہوتے جارہے ہیں۔ گھنٹہ ڈیڑھ کے بعد آپ کی باری آتی ہےاور ڈاکٹر آپ کو سُنے بغیر آپ سے پرچی لے لیتا ہے اور  اس پر کچھ لکھ دیتا ہے اور واپس آپ کو تھما دیتا ہے، آپ پوچھنے کی ہمت کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر ہاتھ کے اشارے سے آپکو دروازے پر کھڑے شخص سے پوچھنے کا حکم  صادر فرما دیتے ہیں اس بندے سے پوچھنے پر آپکو معلوم ہوتا ہے کہ آپکو تشخیص کے لیے کچھ ٹیسٹس تجویز کیے گئے ہیں جو آپ ساتھ والے کاونٹر پر پیسے جمع کرنے کے بعد کروا  سکیں گے، آپ پیسے کے ساتھ خون کے نمونے بھی جمع کر وادیتے ہیں ، دوبارہ انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں، آپ کے رزلٹس آنے تک چھٹی ہو چکی ہو تی ہے اور آپ کو اگلے دن آنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ آپ اگر اگلے دن آکر ڈاکٹر سے نسخہ لینے میں کامیاب ہوگئے اور آپ کے جیب میں اتنے پیسے ہیں کہ آپ بغیر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے اپنے لیے دوائی خرید سکتے ہیں تو مبارک ہو آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک خوش قسمت شہری ہیں ۔۔

یقیناً یہ آپ کے تصور ات سے کچھ باہر جا رہا ہے، لیکن آپ کسی روز بغیر بیماری کے ہسپتال چلے جائیں، آپ کو خود سےپیار اور زندگی سے محبت ہو جائیگی ۔آپ کسی روز ایسے ہی ہسپتال کے کسی وارڈ میں چلے جائیں اور کسی مریض کے ساتھ بیٹھ جائیں، آپ منٹوں کے اندر اندر اپنے دکھ درد ،انگزائٹی اور ڈیریشن بھول جائیں گے، آپ کسی روز کسی ایسے مریض کو دوائی خرید کر دیں جس کے پاس پیسے نہ ہوں ، آپ کو دنیا جہاں کی خوشی اسکے چہرے پر عیاں ملے گی۔آپ کبھی ہسپتال کے مرکزی گیٹ کے سامنے کھڑے ہوجائیں، آپ کو بےشمار مریض پیسے نہ ہونے کی وجہ سے 20 روپے کے نسخے پھاڑتے ہوئے ملیں گے۔۔۔آپ کبھی عصر کے بعد ایمرجنسی کے سامنے بیٹھ جائیں آپ کو وہاں آنسو، خون ،الٹیاں، درد سے کراہنے کی آوازیں، کسی لاش کے ساتھ کھڑے اپنوں کی چیخوں کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔آپ اگر کچھ بھی نہیں کرسکتے تو پھر فقط  اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو بےشمار ایسے لوگ ملیں گے جو علاج سے فقط اس وجہ سے محروم ہیں کیوں کہ وہ غریب ہیں اور وہ قابل علاج بیماریوں سے اس وجہ سے مریں گے کیوں کہ وہ دوائی ،ٹیسٹوں اور ڈاکٹروں کی  فیس نہیں بھر سکتے اور ہم خدا ، مقدر اور قسمت کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنا فرض نبھا دیتے ہیں۔

ذرا سوچیے !اس ملک میں ایمبولینس کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے بیٹے کی لاش موٹرسائیکل پر لے جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں،اور کسی ٹرک کے   نیچے آکر لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ہم 21ویں صدی میں رہ کر بھی ویکسئن نہ ہونے کی وجہ سے مررہے ہیں ۔کہتے ہیں کہ بیماری  اللہ کی طرف سے امتحان ہوتی ہے لیکن اگر بیماری کے ساتھ آپ غریب بھی ہیں تو بیماری مصیبت بن جاتی ہے۔

اس ملک میں اگر آپ کے پاس تندرستی ہے، آپ رات کو صحیح سے سوتے اور صبح صحیح سے جاگ کر کام کو یا یونیورسٹی کو نکل جاتے ہیں یا بیماری پر آپکو دوائی، ڈاکٹر اور ہسپتال میسر ہیں تو شکر کیجیے کیوں کہ اس ملک  میں تقریباً70فیصد حصہ بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔ لہذا اپنے احساس کو جگایں اور ان لوگوں کی خاطر گھروں میں بیٹھیں رہیں، جن کو بخار کی دوائی تک میسر نہیں اور اگر یہ آفت کنٹرول سے نکلتی ہے تو سب سے زیادہ وہی طبقہ متاثر ہو گا جن کو دو وقت کی روٹی بھی  میسر نہیں لہذا ان لوگوں کا سوچ کر ہم حکومت کا ساتھ دیں اور زیادہ نہیں تو 15 دن تک گھروں میں بیٹھیں رہیں تو وائرس کا ٹرانسمیشن رک جائے گا اور ہم اس جان لیوا وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائیں گے ،لیکن بد قسمتی سے ہمارا احساس ہر بار لاشوں کے بد لے جاگ جاتا ہے،اور اس بار بھی یہیں لگ رہا ہے کہ ہم نے اس وقت تک سنجیدہ نہیں ہونا جب تک ہر گاؤں،   محلے   ،شہر میں کوئی لاش نہ گرے اور پھر اسکے بعد بھی ہم شاید قدرت، مقدر اور قسمت کو قصوروار ٹھہرا کر کسی نئے سانحے کی تلاش میں نکل جائیں گے

Syed Aizaz urrahman
Syed Aizaz urrahman
خیبر میڈیکل یونیورسٹی سے طب کی سند مکمل کرنے میں مصروف ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *