مذہبی شعور کی شکل ۔۔عاصم اخوند/ ترجمہ: مشتاق علی شان

انسانی ذہن بنیادی طور پر تین حصوں پر مشتمل ہے ۔انسانی ذہن کے یہ تین حصے ارادے یا عمل، احساس یا جذبے اور عقل کی مثلث کو جنم دیتے ہیں۔انفرادی ذہن ان تین اطراف کی اکائی ہے، لیکن خود ذہن یا انسانی شعور ان انفرادی اذہان کی تشکیل کرتا ہے ۔فردی ذہن کا مطالعہ نفسیات کے دائرے میں آتا ہے لیکن سماجی ذہن کو صرف فلسفے کے نقطہ نگاہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔انسانی ذہن کے یہ تین روپ الگ الگ سماجی شعور کی شکلوں میں اپنا اظہار کرتے ہیں ۔ارادہ یا عمل اخلاقی، قانونی اور سیاسی شعور کی شکلوں میں خود کو ظاہر کرتا ہے ۔احساس اور جذبہ خود کو مذہب اور فن کی صورتوں میں نمایاں کرتا ۔سائنس اور فلسفہ عقل کے جینے کاانداز ہے۔
انسانی ذہن کے یہ روپ ایک ارتقائی سلسلہ رکھتے ہیں ۔یہ ایک ہی وقت میں اپنا اظہار نہیں کرتے بلکہ انسانی تاریخ میں سلسلہ وار خود کو ظاہر کرتے ہیں ۔دوسرے لفظوں میں انسانی ذہن ایک تاریخی مظہر ہے۔
مذہب بنیادی طور پرانسانی شعور کی ایسی صورت ہے جو انسان کی سماجی اور فطری زندگی کی بے بسی اور کمزوری کا جذباتی اظہار ہے۔مذہب کے شعور کا بنیادی ایکا عقیدہ ہے اور عقیدہ احساس یا جذبے کی ہی ایک حقیقت ہے۔مذہبی شعور عقیدے کے روپ میں انسان کی تنقیدی اور عقلی سوچ کو کُند کرتا ہے ۔

ابتدائی مذاہب انسان کی فطری زندگی کی کمزوری کا نتیجہ ہیں۔اس دور میں انسان اپنے خارج میں موجود فطری زندگی میں کمزور اور ناتواں تھا ۔انسان کی فطرت کے بارے میں علمی اور عملی معلومات انتہائی سادہ اور کم تھی ۔ابتدائی انسان فطرت کو اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے تبدیل نہیں کر رہا تھا بلکہ جو کچھ اس میں موجود تھا اسے ہی اپنے استعمال میں لا رہا تھا ۔ابھی وہ پتھر کو ہتھوڑے یا کلہاڑی میں تبدیل نہیں کر سکا تھا بلکہ اس کے محنت کے اوزار اس کے دو ہاتھ ہی تھے ۔اس کی سماجی زندگی کی سادگی اور پیداواری قوتوں کی غیر ترقی یافتہ یا پسماندہ حالت فطری مذہب کا ماخذ ہے۔اس دور میں دیو مالائی قصوں کہانیوں کی صورت میں مذہبی شعور اپنا اظہار کرتا ہے ۔ساری انسانیت کے ابتدائی نظریات کائنات کے فطری مظاہر کی پوجا پاٹ کا اظہار ہیں۔

جوں جوں انسانی زندگی نے فطرت کو انسانی ماحول دیا اور باہر موجود دنیا کو انسانی جامہ پہنایا ویسے ویسے انسانی فطری بے بسی کا دائرہ کم ہونے لگا ۔انسان کی پیداواری قوتوں کے ارتقا نے انسانی ضروریات کی تکمیل کا طریقہ کار تبدیل کر کے رکھ دیا ۔اس دور میں انسان اپنی ضروریات کی تکمیل فطرت میں موجود اشیاءکے ذریعے نہیں کرتا بلکہ اس کی ضروریات کی تکمیل کا عمل سماجی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔جوتوں کی ضرورت فطرت میں موجود اشیاءسے پوری نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان موچی کی شکل میں خود کو تبدیل کرے ۔اسی طرح انسانی معاشرے میں موجود ہر فرد دوسرے فرد کی سماجی ضروریات کی تکمیل کرتا ہے۔موچی،لوہار،ترکھان،ہاری،کمہار وغیرہ انسان کو کثرتی وجود میں تبدیل کرتے ہیں اور یوں فطرت کے ساتھ براہِ راست رشتہ اختتام کو پہنچتا ہے ۔یہاں اختتام کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ انسان فطری حقیقت رہا ہی نہیں بلکہ اس سارے معاملے سے مراد یہ ہے کہ فطرت نے سماجی صورت اختیار کر لی اور انسان بنیادی طور پر ایک سماجی وجود ہے۔

فطری زندگی سے ترقی کر کے سماجی زندگی میں تبدیلی نے اخلاقی مذاہب کو جنم دیا ۔ایک دوسرے کے ساتھ میل جول کو نہ سمجھ سکنے اور اچھائی وبرائی یا نیک وبدکی سماجی حیثیت کی گرہ کھولنے یا سلجھانے کی اہلیت نہ ہونے نے اچھائی اور برائی کے تصورات کو مافوق سماجی شعور کا روپ دیا ۔اسی دور میں پہلے پہل انسانی ذہن کا موضوع باہر فطرت سے گھوم کر اپنی شناخت یا انسانی سماج ٹھہرا ۔لیکن برائی انسانی سماج میں یا انسان میں نظر نہیں آئی اور ٹھیک اسی طرح اچھائی بھی غیر انسانی عمل تھا ۔باہر موجود مافوق سماجی بدروح برائی کی اور اسی طرح اچھی یا نیک روح اچھائی کا سبب تھی۔اس طرح کے اخلاقی مذاہب کے منطق کی ساری روح ایک دوسرے کے ساتھ جاری اچھائی اور برائی کے پیمانوں پر مشتمل ہے ۔اخلاقی معاملات کو سمجھانے کا کام مذاہب کا ہے ہی نہیں اور نہ ہی یہ کر سکتے ہیں ۔فطری مذہب فطرت کو پوجا کے ذریعے راضی کرنے میں اور اخلاقی مذہب دعاؤں کے ذریعے برائی سے نجات اور اچھائی کے حصول میں مصروف تھے۔

انسانی فرد فطری اور سماجی زندگی کی اکائی ہے،لیکن انسانی زندگی کی اصل بنیاد سماجی زندگی میں پنہاں ہے۔اگر سماجی زندگی کی بنیاد کو فرد سے خارج کر دیا جائے تو انسانی فرد کی زندگی جانور کی زندگی تک محدود ہو جائے گی ۔اس لیے مذاہب کی پیداوار کا بنیادی سبب بھی سماجی زندگی میں موجود ہے ۔چونکہ سماجی زندگی کا پہلا مرحلہ اخلاقی ہوتا ہے اس لیے سماجی مذاہب کا پہلا مرحلہ بھی اخلاقی ہے۔
انسان کے سارے ابتدائی مذاہب کثرتی قوتوں کی پوجا کے مذہب تھے اور جیسے جیسے انسان وحدت کی طرف ارتقا کرتا ہے ویسے ویسے وحدانیت کے تصور پر مشتمل مذاہب جنم لیتے ہیں۔

جب انسان خود کو فنکار میں تبدیل کرتا ہے تب اس کا مذہب بھی حُسن سے جڑ جاتا ہے۔حسن کا تصور مافوق سماجی حیثیت سے فنی مذہب میں اپنا اظہار کرتا ہے۔حسن خدا ہے اور خدا حسن ہے ۔اس دور میں بت تراشی اور راگ عبادت ہے ۔انسان کی اپنی ہی تخلیق کردہ فنی دنیا کو پوجنے اور اسے راضی کرنے میں فن کے تخلیقی عمل کو نہ سمجھ سکنے کا عنصر بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔اس دور کے سارے مذہب فطرت میں موجود مادی اشیاءکو انسانی جامہ پہنانے کی حیرت میں مبتلا ہیں ۔ہندو مت میں ناچ،راگ اور بت تراشی عبادت کے طریقہ کار کے طور پر بھگوان کو راضی کرنے کے الگ الگ فن ہیں ۔اس لیے کے بھگوان خود فنکار ہے ۔ غالب اور لطیف دونوں کو فنِ شاعری کے تخلیقی عمل کی گتھی سمجھ میں نہیں آئی :
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریر ِ خامہ نوائے سروش ہے

فنی مذہب انسان کے حسن کے تخلیقی عمل کی پوجا کی کتھا ہے۔انسانی سماج کی قانونی زندگی میں ارتقا اور ریاست کے ابھار نے انصاف کی دیوی کو جنم دیا ۔انصاف سماجی ،سیاسی اور اقتصادی زندگی کی پیداوار نہیں بلکہ اس کے برعکس ایک مافوق انسانی قدر ہو جاتی ہے ۔ اس دور میں وحدانیت کے تصور پر مشتمل مذہب جنم لیتے ہیں ۔کیونکہ ریاست محنت کی تقسیم اور کثرت پر مشتمل سماج کو اکائی کی صورت دیتا ہے۔ریاست اپنے وجود کاپہلا اظہار قانون میں کرتا ہے۔اس لیے خدا کا کردار بھی یہی ہے کہ وہ انصاف کرے۔سماج میں حقیقی طور پر انصاف کا حصول ممکن نہیں رہتا اس لیے ریاستی انصاف خدائی حیثیت اختیار کر جاتا ہے ۔ریاستی نظام کے دور میں ہی سیاسی مذہب ابھرنے اور نشوونما پانے لگتے ہیں ۔کوئی بھی ریاست ایک طرف محنت کی تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے طبقاتی سماج کا نتیجہ ہے اور دوسری جانب خود عام سماج کی بیگانگی کا اظہار ہے ۔طبقاتی سماج کے باعث انسانوں میں پیدا ہونے والے امیر وغریب کے فرق نے ایک خدا کے خیالی تصور کو جنم دیا اور یہ خیال انہی دونوں طبقات کی فکری ضروریات کے لیے سماجی کردار ادا کرتا رہا ہے ۔لیکن جیسا کہ ریاست اپنی اصل میں ہی بالائی یا دولت مند طبقے کا سیاسی ،قانونی اور اقتصادی دفاع ہے ،اسی طرح خدا کا تصور بھی بالائی طبقات اور ان کے اونچ نیچ پر مشتمل سماج کا دفاع بن جاتا ہے ۔اس دور کے مذہبی رہنما سیاسی رہنما بن کر ظاہر ہوئے ۔ان کے مذہبی دعوو¿ں کو موجود سماجی نظام کے ذریعے ہی سمجھا جا سکتا ہے ۔مثال کے طور پر موسوی شریعت قانونی اور سیاسی مذہب بن کر ابھری اور اس میں قانون کے ذریعے موسیٰ اپنی نسل کو نظام دے کر سیاسی طور پر فرعون کے مدِ مقابل آتے ہیں۔
ریاست کے ارتقا کے مختلف مراحل الگ الگ مذاہب کو جنم دیتے ہیں ۔بادشاہی دور کی ریاست نے خدا کے شخصی تصور کو جنم دیا ۔جس طرح بادشاہ امن، انصاف اور سلامتی کا نمائندہ ہے اسی طرح خدا بھی یہ سب صفات رکھتا ہے ۔دراصل یہی وہ دور ہے جب خود بادشاہ کو ظلِ الہی یعنی خدا کا سایا قرار دیا گیا ۔سب پیغمبر اس دور میں قبیلوں کے رہنما تھے ۔جیسا کہ طبقاتی سماج کا بنیادی خاندان اور ریاست پدر شاہانہ صورت کا حامل ہے اسی لیے خود خدا کا تصور بھی مردانہ صفات رکھتا ہے ۔پدر شاہانہ خاندان کی ابتدا عورت کو انسانی نسل میں اضافے کی قوت کے طور پر غلام بنانے سے ہوتی ہے اور پہلے سب غلامی پر مشتمل سماج لازم طور پر پدر شاہی پر محیط ہیں۔

جدید سرمایہ دارانہ نظام کی ابتدا نے فکری زندگی کی کایا پلٹی ۔جیسا کہ انسانی علم وعمل سائنسی انقلاب کے نتیجے میں زیادہ طاقتور ہوا ،اسی طرح مذہبی شعور کی شکل بھی تبدیل ہوئی ۔اس دور میں مذہب کی فکری سچائی کا ماخذ فلسفہ اور سائنس ٹھہرے ۔اس فلسفیانہ مذہب کا ارتقا شہری سماج کے ارتقا سے جڑا ہے ۔ شہری سماج میں موجود سیاسی، قانونی اور ریاستی نظام شخصی صورت نہیں رکھتا ،اس لیے خدا کا تصور بھی تجریدی (Abstract)یا دوسرے لفظوں میں خدا سوچ (تصور) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔جیسا کہ سرمایہ داری نظام نے اپنا پہلا اظہار یورپ میں کیا ،اس لیے سرمایہ داری سرشتے نے اپنا فکری ماخذ یونانی شہری ریاستوں میں تلاش کرنا شروع کیا ۔یورپ میں نشاة ِ ثانیہ (Renaissance)کی تحریک یونانی علم وادب کو دہرانے کی تحریک تھی اوریوں فلسفہ شہری سماج میں شخصی تصور سے آزاد ہو کر خالص خیال کی طرف بڑھتا ہے۔

جرمنی میں ہیگل نے افلاطون کے فلسفے کو دہراتے ہوئے خیالِ مطلق (Absolute Idea)یا مطلق سوچ کو کُل کائنات کی اصل بنیاد بنا کرپیش کیا ۔ اس کے خیال میں سوچ مادی اور انسانی زندگی سے آزاد ایک جدلی سلسلہ (Dialectical Process)ہے،جس میں سوچ سب سے پہلے فطرت یا مادے میں اور پھر انسانی شعور میں اپنا اظہار کرتی ہے ۔سوچ کے خالص ارتقا کو منطق میں ہی سمجھنا ممکن ہے ۔عقل ہی دراصل اس کے نزدیک خدا ہے ۔ہیگل کے خیال میں انسانی ذہن ارتقا کے الگ الگ مراحل طے کر کے فلسفے میں ہی مطلق سوچ کی اصل حقیقت کو سمجھ سکتا ہے اور یوں انسانی ذہن کے ارتقا کے مقصد کی تکمیل ہوتی ہے ۔دراصل جب گہرائی سے دیکھا جائے تو انسان کی الگ الگ صلاحیتیں یعنی فطری، سماجی اور ذہنی صلاحیتیں مذہب میں انسان سے الگ تھلگ اور بیگانی بن کر انسانی زندگی کا تعین کرتی ہیں ۔

اس حقیقت کا سب سے پہلے اظہار ایک دوسرے جرمن فلسفی فائر باخ نے کیا اور اس نے واضح کیا کہ انسان کے ارادے، عمل ،احساس یا جذبے اور عقل کو مذہب میں معروضی (Objective)یا آزادانہ حیثیت حاصل ہو جاتی ہے ۔اس نے الہیات (Theology)کو علم البشریات (Anthropology)میں تبدیل کر کے رکھ دیا ۔مثال کے طور پر اس کے خیال میں تصوف میں انسان کی خدا سے روحانی محبت کی اصل بنیاد ایک انسان کا دوسرے انسان سے اور ایک فرد کا ساری نوعِ انسانیت سے پیار ہے۔یعنی انسان ہی وہ بنیاد ہے جس کی صفات میں خود اپنی ذات کی بیگانگی کو مذہب جنم دیتا ہے ۔فائر باخ نے ہیگل پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ” ہیگل کا خیالِ مطلق دراصل انسانی خیال ہے۔“

دراصل فائر باخ نے الہیات کو دنیویت(Secularism)میں تبدیل کر کے رکھ دیا ۔لیکن وہ خود دنیا میں موجود تضاد کو سمجھا نہ پایا جس کی وجہ سے مذہب کی پیداور ہوتی ہے ۔اس کے نزدیک انسان کا خیال تجریدی تھا لیکن انسان سماجی تعلقات میں زندگی بسر کرتا ہے ۔انسان کی فکری بیگانگی کا اصل ماخذ سماجی بیگانگی میں پنہاں ہے۔مارکس لکھتے ہیں کہ ”انسان مذہب بناتا ہے ،مذہب انسان کی تشکیل نہیں کرتا ۔مذہب ایسے انسان کا اپنا شعور اور مان ہے جو اب تک اپنی ذات کو تلاش نہیں کر پایا ہے یا پہلے ہی خود کو گنوا چکا ہے ۔انسان کوئی ایسا تجریدی وجود نہیں ہے جو دنیا سے الگ تھلگ جیتا ہے ۔انسان ،انسان کی دنیا ہے ،یعنی ریاست اور سماج۔یہ ریاست ،یہ سماج مذہب کو جنم دیتا ہے یعنی ایک متضاد عالمی شعور کو ،کیوں کہ انسان متضاددنیا میں جی رہا ہے۔“

مارکس کے خیال میں مذہب کوئی انسان کا وہم نہیں ہے بلکہ یہ متضاد دنیا کا متضاد شعور ہے ۔دوسرے لفظوں میں انسانی سماجی زندگی کا اصل یعنی محنت سرمائے کی صورت میں مردہ حقیقت کی محتاج ہے ۔جیسے ایک زندہ انسان مردہ پیر سے بچہ مانگتا ہے ،اسی طرح پورا طبقاتی سماج اور اس کا تانا بانا زندہ انسانوں پر مردہ منڈی اور ریاست کا راج ہے ۔پیداواری عمل اور اس کے لیے درکار اوزار محنت کشوں سے چھین کر چند سرمایہ داروں کی ملکیت ٹھہرتے ہیں ۔دوسرے لفظوں میں خود جیتے جاگتے محنت کش انسان جو اس اس ساری سماجی زندگی کے خالق ہیںطبقاتی سماج کے نتیجے میں خود مخلوق بن جاتے ہیں ۔انسان کے مذہبی شعور کی کتھا سماجی وجود میں موجود کمزوری اور بے بسی کی کہانی ہے ۔مذہب سے نجات کا کام پہلے مرحلے میں عقلیت سرانجام دیتی ہے ۔سائنسی عقلیت صرف مذہب کا انکار نہیں بلکہ انسانی سماجی زندگی کی منطق کو سمجھنے کی طرف پہلا قدم ہے ۔لیکن مذہب سے چھٹکارے کا اصل وسیلہ اس سماجی دنیا سے نجات ہے جو انسان کو کمزور اور بے بس بناتی ہے ۔یعنی مردہ سرمائے کا راج اور طبقاتی سماج کے خاتمے سے ہی بنی نوع انسان خود مختار اور ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جائے گا ۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *