• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پانچ ہزار زائرین سے بڑا مسئلہ لاکھوں یورپ پلٹ افراد اور سائنس دشمن علماء ہیں۔۔حمزہ ا براہیم

پانچ ہزار زائرین سے بڑا مسئلہ لاکھوں یورپ پلٹ افراد اور سائنس دشمن علماء ہیں۔۔حمزہ ا براہیم

‏‎پاکستان میں کرونا کے ہاتھوں پہلی ہلاکت مردان میں ہو چکی ہے۔ مریض سعودی عرب سے عمرہ کر کے آیا تھا اور اسے یہ مرض کعبے کی زیارت کے دوران پیدا ہونے والے رش سے لگا۔ اسی دوران ہزاروں افراد عمرہ کر کے لوٹے اور انہوں نے یہ مرض پاکستان پہنچایا۔ اچھی خبر یہ تھی کہ سعودی حکومت نے خانہء کعبہ کو عوام کیلئے بند کر کے اس وبا کے مزید پھیلنے کا سدِ باب کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں تبلیغی جماعت سے وابستہ دو مساجد کو کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے سیل کر دیا گیا ہے۔ ان میں بیرون ملک سے آئی ہوئی ایک جماعت ٹھہری ہوئی تھی جس کے چھ ارکان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے سترہ مارچ 2020ء کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے چند ہفتوں میں ایئرپورٹس سے نولاکھ لوگ پاکستان آئے ہیں، جن کی سکریننگ کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس سکریننگ سے مراد  جسم کا درجہء حرارت دیکھنا ہے۔ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں سے محض چند  کے بدن کا درجہ حرارت چند روز بعد بڑھ جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر مریض تو درجہ حرارت نہ بڑھنے کی وجہ سے نکل گئے ہونگے۔ جن کا درجہ حرارت بڑھنا تھا، ان میں سے بھی اکثر میں یہ مرض ابتدائی مراحل میں ہو گا اور وہ بھی نکل گئے ہونگے۔ جن لوگوں کا درجہ حرارت دوران سفر بڑھ گیا، انہوں نے سکریننگ سے پہلے پیراسیٹامول کھا کر چکمہ دے لیا، جیسا کہ لاہور ڈیفنس کے علاقے میں یہ وبا لانے والی خاتون نے کیا۔ پاکستان کے ایئرپورٹس پر حکومت نے جو تھرمامیٹر فراہم کیے وہ پیشانی کو چھوئے بغیر ٹمپریچر معلوم کرتے ہیں۔ ان کے استعمال کیلئے بھی عملے کو تربیت دینے کا وقت نہ تھا۔ کچھ مریض عملے کی طرف سے درست استعمال نہ کرنے کی وجہ سے نکل گئے ہوں گے۔ جن تھوڑے سے لوگوں کا ٹمپریچر بڑھا ہوا دیکھا گیا، ان سے رشوت لے کر جانے دیا گیا کیونکہ ایئرپورٹس پر قرنطینہ کی سہولیات نہ تھیں۔ چنانچہ گجرات میں ایک شخص نے اس بات کو تسلیم بھی کیا ہے۔

ان میں اکثر وہ دوہری شہریت والے پاکستانی ہیں جو اس چکر میں آ گئے کہ شاید پاکستان میں کرونا نہیں ہے۔ جب یورپ میں کرونا کی آمد ہوئی تویہ افراد دھڑا دھڑ پاکستان آنے لگے۔ اوپر سے وطن عزیز میں شادیوں کا سیزن بھی چل رہا ہے۔ وہ یورپ کے ایئرپورٹس سے کرونا اٹھا لائے ہیں اور اب شادیوں میں شریک ہو رہے ہیں، برادریوں سے مل رہے ہیں، دس دس سال پہلے فوت ہونے والے  مرحومین کا افسوس کر رہےہیں۔رائے ونڈ میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں بھی یورپ پلٹ پاکستانیوں کے گروہ شریک ہوئے اور وہاں سے یہ وبا پورے ملک میں پھیل گئی ہے۔

مولانا ناصر مدنی کو حق خطیب سرکار نامی پیر صاحب کے جن مریدوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے،  مولانا صاحب کے مطابق انہوں نے  ان کو دعوت دیتے وقت یہ کہا تھا کہ ہم انگلستان میں پھیلنے والے کرونا وائرس سے بچ کر پاکستان آئے ہوئے ہیں۔

اس دوران ہماری توجہ تفتان بارڈر پر رہی۔ وہ علاقہ شہری آبادیوں سے دور اور حکومتی توجہ سے محروم ہے۔ اس بارڈر سے پانچ ہزار زائرین داخل ہوئے جن میں سے چند ایک کرونا وائرس کا شکار تھے۔ حکومت نے ان کو وہیں روکنے کا فیصلہ تو کیا مگر مریضوں کو صحت مند لوگوں سے الگ کرنے کے بجائے ایک تنگ سی جگہ پر سب کو کئی دن جانوروں کی طرح بند رکھا۔ اس سے جو بیچارے صحت مند تھے وہ بھی مریض ہو گئے۔ البتہ بعد میں ان زائرین کو گھروں میں بھیجنے کے بجائے صوبائی سطح پر بنائے گئے قرنطینہ مرکز میں رکھ کر ان کو  اور ان کے خاندانوں کو اس بیماری سے بچا لیا گیا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو تبلیغی جماعت کی طرح یہ زائرین بھی وائرس پھیلا سکتے تھے، جن سے ان کے ہم مسلک افراد کو ہی زیادہ نقصان ہونا تھا۔

ڈاکٹر ظفر نے کہا ہے کہ کرونا کے 78 فیصد کیسز زائرین میں سے ہیں۔ ایسی بات تو تبھی کہی جا سکتی تھی اگر ہر ایئرپورٹ پر آنے والے  مسافروں کے حلق سے بلغم نکال کر ٹیسٹ کٹ کی مدد سے ٹیسٹ کیا جاتا۔کرونا کا ٹیسٹ پاکستان کے پاس نہیں، باہر سے منگوایا گیا  ہے۔ اس کیلئے حلق سے بلغم نکال کر اس کی آزمائش  کرنا ہوتی ہے۔اب یا تو امیر لوگ اپنے پیسوں سے یہ مہنگا  ٹیسٹ کروا رہے ہیں یا پھر زائرین کے خلاف میڈیا پر چلنے والی مہم کی وجہ سے تمام زائرین کو  چیک کیا گیاہے۔ ڈاکٹر ظفر صاحب کو کہنا چاہے  تھا کہ جن  چند افراد کی آزمائش کی جا چکی ہے ان میں سے 78 فیصد زائرین ہیں۔

اب یہ سمجھنے کا وقت ہے کہ حکومت سے اس وبا کے خلاف کوئی موثر اقدام اٹھانے کی امید عبث ہے۔ عوام کو خود ہی ان حضرات سے پندرہ دن کیلئے دور رہنا چاہیے جو باہر سے آئے ہیں۔بلوچستان کے وزیر اعلیٰ  جام کمال صاحب نے بھی ان نو لاکھ یورپ پلٹ افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ  کم از کم دس دن اپنے گھروں میں محدود رہیں۔

اس افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سپاہ صحابہ کے رہنماؤں نے شیعہ مخالف نفرت کو ہوا دینا شروع کر دی ہے۔ مولانا اورنگزیب فاروقی نے مدارس کے بھولے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کرونا وائرس کو ایران کی سازش قرار دیا ہے اور پاکستانی شیعوں کو اس سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ مدارس کے طلبہ کو عموماً  اخباروں تک رسائی بھی حاصل نہیں ہوتی۔ اوپر سے اگر وہ سپاہ صحابہ جیسی  کلٹ کا حصہ ہوں، تو ان کے سامنے کسی کمزور طبقے کو خطرناک بنا کر پیش کرنا آسان ہوتا ہے۔ ایسی نفرت انگیزی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سادہ اور غریب طلبہ آسانی سے دہشتگردی کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ سپاہ صحابہ کا مقصد یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو کرونا کا انتقام لینے کے نام پر شیعہ مخالف دہشتگردی کیلئے بھرتی کر لیا جائے۔ اس حساس موقعے پر امن و امان کے ذمہ دار اداروں کو ایسے عناصر پر نظر رکھنا ہو گی۔

‏‎سپاہ صحابہ والے ابھی تو شیعہ زائرین کو قرنطینہ میں رکھنے کی حمایت کر رہے ہیں، کیونکہ اس کو تکلیف دہ سمجھتے ہیں۔ کچھ دن بعد جب تبلیغی جماعت سے پورا جن برآمد ہو جائے گا تو شیعوں کو قرنطینہ سنٹر میں رکھنے کو شیعہ نوازی کا نام دینگے۔ بیرون ملک سے آنے والے تبلیغی بھائی ملک بھر میں کروناپھیلا چکے ہیں۔ اور تو اور فلسطین کے علاقے غزہ میں جو دو کرونا کے متاثرین سامنے آئے ہیں، وہ رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع سے یہ مصیبت لے کر وہاں پہنچے۔

ایک اور بڑی مصیبت علمائے کرام کا سائنس کے خلاف جہاد ہے۔ مدارس کا نصاب ان کو جدید علوم سے بالکل بے بہرہ رکھتا ہے اور جب ان کے پسماندہ اذہان جدید دور کو سمجھ نہیں سکتے تو اپنے سوالوں کا علمی جواب حاصل کرنے کیلئے درکار محنت کرنے کے بجائے، ہر چیز کو انگریزوں یا یہودیوں یا مخالف مسلک کی سازش قرار دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سانحہ معروف  عالم جان علی شاہ کاظمی کی شکل میں سامنے آیا ہے جو یوٹیوب پر گمراہی پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے بڑھاپے میں کسی طرح ابن سینا کی القانون پڑھ لی ہے تو گویا میڈیکل سائنس کا سارا علم ان کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ ہزار سال پرانی کتاب  القانون کو سائنس کی دنیا میں متروک ہوئے پانچ سو سال ہو چکے ہیں۔ جان علی کاظمی صاحب ایک  محقق کا سوانگ بھر کر کرونا وائرس کے ماہر بنے پھرتے ہیں۔  ان کے علمِ طب کا جائزہ ایک مضمون بعنوان “قم کا ابوجہل“ میں پیش کیا جا چکا ہے۔ ایسے جاہل لوگوں کی باتوں میں آ کر سکھر میں علامہ ناظر عباس نقوی نے قرنطینہ کیے گئے زائرین کو گمراہ کر کے اپنی خدمت پر معمور اہلکاروں کے خلاف کھڑا کر دیا۔ علامہ علی رضا رضوی کا کہنا ہے کہ زیارت عاشورا پڑھنے سے اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے تو علامہ فاضل موسوی قرآن سے اپنا بال نکال کر اسکو پانی میں  ڈبونے سے پانی کے تریاق میں بدل جانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ جہل مرکب کا شکار یہ مقدس جہلاء بہت خطرناک ہیں۔ ان جاہل ”علماء“ کو اتنی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ ایران کے جاہل علماء کی طرف سے کرونا کو انتخابات اور عزاداری کے خلاف سازش قرار دینے اور ایک مہینہ اس کا انکار کرنے کا جو نقصان ہوا ہے، اسے  دیکھ کر ہی عبرت پکڑ لیں۔

ماضی میں وبا اچانک آتی تھی۔ یہ بھی معلوم نہ ہوتا تھا کہ وائرس ہے یا بیکٹیریا، اور کیسے پھیل رہا ہے؟ اب سائنس کی مدد سے شروع میں پتا چل جاتا ہے۔ پچھلی صدی کی وباؤں کا کیا تذکرہ کیا جائے، اسی صدی میں سائنس نے ہمیں سارس، ایبولا، میرس اور ڈینگی کی وباؤ ں سے نجات دلائی ہے۔ اب اس وائرس سے بچاؤ کے طریقے بھی سائنس بتا چکی ہے، اور وبا آنے سے پہلے اس کی اطلاع دے چکی ہے۔ اب  بھی ہمارے لوگ مریں تو خودکشی ہے۔ڈینگی تو مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا تھا، حکومت نے مچھر مار کر قابو پا لیا۔ اب اس مرتبہ عوام کے اپنے شعور پر سارا دارومدار ہے۔

باقی مسالک کے علمائے کرام بھی کرونا کش تقاریر سے محافل گرما رہے ہیں۔ کراچی میں جماعت اسلامی نےاختماعی توبہ کی محفل سجائی ہے۔ جمعہ و جماعت کے اجتماعات جاری ہیں۔ رائے ونڈ کا تبلیغی مرکز حکومتی اپیل کے باوجود کھلا ہے۔ غزہ میں مصر کے راستے داخل ہونے والے کرونا کے مریض پاکستان میں تبلیغی اجتماع سے یہ بیماری لے کر گئے ہیں۔ مجالس عزا اور جشنِ ولادت منائے جا رہے ہیں۔ اویس رضا قادری صاحب اپنے لچھے دار انداز میں فرماتے ہیں کہ ملک کے کونے کونے میں درود کی محفلیں سجا کر کرونا سے بچا جا سکتا ہے۔ ایسے حالات میں جب صرف ضروری تجارت کے علاوہ باقی سب سرگرمیاں بند ہونی چاہئیں، علماء سائنس کے خلاف میدان میں آ گئے ہیں۔ ہندوستان میں گائے کا موتر پینے کی محفلوں کا مذاق اڑانے سے پہلے اپنے ہاں کے مذہب سے شفا مانگنے والوں کا کچھ کرنا ہو گا، جو ان سے کم جاہل نہیں ہیں۔ حکومت کو منبر سے گمراہی پھیلا کر صحتِ عامہ کو خطرے میں ڈالنے والے علمائے کرام پر بھی نظر رکھنا ہو گی۔

اس میں ہمارے معاشرے کا بھی قصور ہے۔ ‏‎ہم نے سالوں تک لاکھوں لوگ مدارس اور حکیموں کی درسگاہوں میں بھیجے، انہوں نے وہاں سے سائنسدان بن کر تو نہیں نکلنا تھا۔ اب کرونا وائرس کے ساتھ اس جہالت کے سیلاب کا  مقابلہ بھی کرنا ہو گا۔

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *