کرونا کے سیاسی اثرات۔۔عمیر فاروق

سپین کرونا وبا سے بری طرح متاثر ہوا ہے، حالت یہ ہے کہ میڈرڈ سے رپورٹ ہے کہ آنے والے مریضوں کے لیے بستر موجود نہیں اور ایک مریض کو اوسطاً تیس گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے کہ ڈاکٹر اسے چیک کر سکے ،اس عالم میں وہ کرسیوں پہ بیٹھتے ہیں اور کرسیاں بھی اتنی کم پڑ گئی ہیں کہ سب کو کافی نہیں۔

کیا یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ وبا ناگہانی اور شدید تھی اور اس کی کوئی سیاسی وجہ موجود نہیں ہے ؟

جی سیاسی وجہ بھی موجود ہے۔

یہ سن 2009 کی بات ہے جب عالمی معاشی بحران نے سپین کا رخ کیا اور میڈیا نے حکمران سوشلسٹ پارٹی کو اسکا ذمہ دار ٹھہرایا، جو سراسر غلط تھا اسی طرح الیکشن میں دائیں بازو کے جھوٹے وعدوں کو میڈیا نے سچ بنا کے پیش کیا جو عملاً ممکن نظر نہ آتے تھے لیکن میڈیا میں اتنی گرد اڑائی گئی کہ عقل سلیم کی بات کرنا ناممکن کے قریب ہوگیا ،سو دائیں بازو کی جماعت “ Partido Popular” نے میدان مار لیا۔ انہوں نے آتے ہی بحران کا حل وعدوں کے برعکس لیکن حسب توقع اخراجات میں کمی سے پیش کیا، صحت پہ اخراجات کم کرکے ہسپتالوں اور صحت کی سہولیات کو پرائیوٹائز کرنا شروع کردیا۔ یہاں ایسا نہ تھا کہ پیسے کی بہت زیادہ کمی تھی بلکہ فرانس نے تو اسکا الٹ حل نکالا اور زیادہ خرچہ کیا کم سے کم تنخواہ میں اضافہ کیا ،مزید پراجیکٹس شروع کیے تاکہ روزگار پھیلے لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہو ،اس طرح اشیاء و خدمات کی طلب بڑھنے سے معیشت کا پہیہ رواں ہو۔

نتیجتاً صحت کی سہولیات میں بہت زیادہ کمی ہوئی، صرف میڈرڈ کے ایک ہسپتال سے نو سو ڈاکٹرز فارغ کیے گئے، نرسز اور دیگر طبی عملہ اس سے کہیں زیادہ تھا اسی ہسپتال کی دو منزلیں مکمل طور پہ بند کرکے اس کے بستر بھی ختم کردیے گئے( آج دوبارہ انہی ڈاکٹرز کے علاوہ ریٹائر شدہ ڈاکٹرز بلکہ میڈیکل طالب علموں کو خدمات کے لئے بلایا جارہا ہے)۔

ملتی جلتی کہانی اٹلی اور دیگر جنوبی یورپ کی تھی دراصل جنوبی یورپ ہی وہ جگہ ہے جہاں جمہوریت کو اپنی حقیقی شکل میں قائم رکھنے کی جنگ بہت شدید رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا حل کیوں پیش کیا جاتا ہے جبکہ یورو ایک مضبوط کرنسی ہے تیس کی دہائی میں روزویلٹ کی طرح نوٹ چھاپ کر بھی نئے پراجیکٹ شروع کرکے بیروزگاری کا خاتمہ کرکے اور عوام کی قوت خرید میں اضافہ کرنا ایک ثابت شدہ حل تھا، اس سے نمٹنے کا لیکن اس کے برعکس کیوں کیا گیا ؟
اس کا جواب ہمیں سیاسی فلسفہ کے تضاد میں ملتا ہے دائیں بازو پہ بڑے سرمایہ دار کا اثر ہے اور وہ لبرل معیشت کا داعی ہے جو پرائیویٹ سرمایہ دار کو زیادہ سے زیادہ سپیس دینے کا حامی ہے ہر جگہ جہاں ریاستی ادارہ سکڑتا ہے وہاں پرائیویٹ سرمایہ دار کو جگہ ملتی ہے میڈیا انکے ہاتھ میں ہے سو ہماری طرح سچ کو جھوٹ ثابت کرنا غیراہم کو اہم بنا کے پیش کرنا ،اصل حل اور مسائل سے توجہ ہٹانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

جنوبی یورپ جو اپنی ثقافتی اور سیاسی روایت میں ہمیشہ عوامیت پسند رہا ،وہاں بائیں بازو کی عوامی جمہوریت اور دائیں بازو کی ایلیٹسٹ سرمایہ دار امیر کلاس کی جنگ زیادہ شدید نظر آئی۔
یہاں اس زاویہ سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ جب “ جمہوریت کو خطرہ” کا نعرہ لگتا ہے تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ملک میں مقیم دیسی لبرل دانشوروں کے نکتہ نظر میں بعد المشرقین کا فرق کیوں پیدا ہوجاتا ہے۔ وطن عزیز کے دیسی لبرل دانشور نے جمہوریت کو خطرہ کے ضمن میں صرف ایک اور سطحی سا نظریہ اپنا لیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا مارشل لاء ہی واحد خطرہ ہے چاہے مارشل لاء نہ بھی لگا ہو تو بھی اسٹیبلشمنٹ سے ہی خطرہ ہے۔ جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اس سطحی سے نظریہ سے قائل نہیں ہوتے ،کیونکہ اگر مارشل لاء لگے بھی تو بالاخر اسے جانا ہوتا ہے اور دنیا میں ایک نہیں  بے شمار مثالیں ہیں، جہاں مارشل لاء کے باوجود معاشی اور سماجی ترقی رکی نہیں ،سپین کے پچاس سال اور جنوبی کوریا کے تیس سے زائد سال کا مارشل لاء اسکی مثال ہے اور بالاخر اسے جانا ہی پڑا اور یہ کل ہی کا قصہ ہے کوئی پرانی کہانی بھی نہیں۔ بالآخر روٹین کا انتخابی جمہوری عمل شروع ہوتا، لیکن کیا یہ واقعی جمہوریت ہوا کرتی ہے؟ یہ واقعی عوام کی آواز ہوتی ہے ؟ یہاں اختلاف ہے دیسی لبرل یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ الیکشن ہوگئے تو بس کافی ہے لیکن جمہوریت کا اصل چیلنج ہی تب شروع ہوتا ہے سرمایہ دار کلاس اپنے پیسے سے یا تو میڈیا ہاوسز براہ راست خرید لیتی ہے یا اشتہارات و تحفے تحائف سے میڈیا اور صحافیوں کو اپنی جیب میں ڈال لیتی ہے تب میڈیا ریاست کا چوتھا ستون نہیں بلکہ چھوٹی سی امیر کلاس کا بھونپو بن کے رہ جاتا ہے یوں عوام کے نام پہ عوام کی منشا کے برعکس عمل کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی احتجاج کرے تو اسے جمہوریت دشمن کہہ کر مسترد کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف زمینی سطح پہ عوام کی مایوسی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جو اس مظہر کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ آخر کیونکر پاکستان میں لگنے والے ہر مارشل لاء کا عوام نے خوشی سے استقبال کیا ،اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہی ہمارے دانشور کے بس کا روگ نہیں ،لیکن اگر بیماری کا علاج کرنا ہے تو تلخ علامتوں کی موجودگی سے نظریں چرانے کی بجائے ان کو تسلیم کرکے انکی وجہ دریافت کرنا ہوگی۔

یہ پراسیس صرف ہمارے ہاں جاری نہیں بلکہ تقریباً تمام ترقی پذیر ممالک کی ملتی جلتی کہانی ہے ،پڑوس کا انڈیا بھی مختلف نہیں جہاں تمام سرمایہ دار کلاس کی ڈارلنگ اب کانگریس کی بجائے بی جے پی ہے اس انتخابات میں میڈیا کا رویہ وہاں بہت واضح تھا ،نتیجتاً مودی بہت قوت سے دوبارہ آیا ،سرمایہ دار کلاس کو اس نے وہ سب دیا جو وہ چاہتی تھی ،نتیجتاً کسان خود کشیوں پہ مجبور ہوئے، اس کے عوض اس کلاس نے مودی کو اپنا ایجنڈا پورا کرنے دیا اور اب اقلیتیں خود کشی کی راہ تلاش کررہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس سارے کھیل میں اسٹیبلشمنٹ کی کیا جگہ اور رول بنتا ہے ؟ اسٹیبلشمنٹ بطور انتظامیہ اور ریاست کے اہم ستون کی حیثیت سے ہر جگہ موثر ہے لیکن اسکا رول اور جگہ ؟ یہ مختلف ہوتا ہے دو طرح کی اسٹیبلشمنٹ ہاتھ  ملتی ہیں ایک تو برطانیہ، فرانس امریکہ کی طرز کی جن پہ ان ممالک کی سرمایہ دار کلاس نے پوری طرح غلبہ حاصل کرلیا ہے اور وہ انکے مفادات کی نگران بن گئی ہے جب ہم برطانیہ کے بینکوں اور امریکہ و فرانس کی اسلحہ ساز فرموں کی ملکی پالیسیوں پہ اختیار کی بات کرتے ہیں تو یہ اختیار وہ اپنی اسٹیبلشمنٹ پہ اثر پذیری کی وجہ سے حاصل کررہے ہوتے ہیں۔
دوسری طرز کی اسٹیبلشمنٹ پاکستان ، ایران ، ترکی ملائشیا کیوبا اور دیگر بہت سے ممالک کی ہے جو ملکی یا غیر ملکی سرمایہ دار کلاس کے اثر سے آزاد ہے اور آزادانہ پالیسیاں بناتی ہے سو وہ عالمی سرمایہ دار کلاس کے تیروں کی زد میں بھی رہتی ہے چونکہ سرمایہ دار کلاس کا اثر میڈیا پہ بہت زیادہ ہے بلکہ زیادہ تر میڈیا ہاوسز کے مالکان اسی کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، تو ایسی باغی اسٹیبلشمنٹ ان کا نشانہ بنی رہتی ہے اور سرمایہ دار کلاس کی موافق اسٹیبلشمنٹ اس  کی کاروائیوں پہ خاموشی جبکہ دونوں طرز کی اسٹیبلشمنٹ یکساں طور سے پالیسی پہ اثرانداز ہورہی ہوتی ہیں۔ لیکن انکے رول کے بارے میں میڈیا منافقانہ دہرا رویہ اختیار کرتا ہے۔ مثلاً افغانستان میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کے واضح رول پہ خاموشی اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے مفروضہ رول پہ شور شرابا   اسی وجہ سے سامنے آتا ہے۔

المختصر عالمی سطح پہ اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی نظر میں بھی حقیقی جمہوریت کی اس جنگ میں اسٹیبلشمنٹ کو گھسیٹ لینا اصل جنگ سے توجہ ہٹانے کے سوا کچھ نہیں ،اصل جنگ عوام اور سرمایہ دار کلاس کی ہے جبکہ دیسی لبرل دانشور کے نزدیک ملکی اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ دنیا میں کسی مسئلہ اور جدوجہد کا وجود ہی موجود نہیں نکتہ نظر کا یہ فرق دونوں کا بنیادی اختلاف ہے۔

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *