• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ہلاکت خیز کورونا وائرس کے خاتمہ کے لئے دوائیں اور ویکسین بنانے کے دعوے۔۔ غیور شاہ ترمذی

ہلاکت خیز کورونا وائرس کے خاتمہ کے لئے دوائیں اور ویکسین بنانے کے دعوے۔۔ غیور شاہ ترمذی

یہ بحث اس وقت فضول ہے کہ کورونا وائرس ایک خطرناک وبا ہے یا عالمی طاقتوں کی طرف سے پھیلایا جانے والا بائیولوجیکل ہتھیار۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ دنیا کو اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ دنیا میں کم و بیش 170 سے زیادہ ممالک کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں مگر اسے معمولی بیماری اور وباء سمجھنے والے اب بھی اس پر مُصر ہیں کہ یہ امریکہ اور چین کی دنیا بھر میں بالادستی کی جنگ کا کوئی ہتھیار ہے۔ یہ لوگ طرح طرح کی تھیوریاں لے کر میدان میں اترے ہیں۔ کوئی یہ کہتا ہے کہ وہ قومیں جنہیں کسی چیز کی پریشانی نہیں ہوتی ، وہ خود اپنے اوپر پریشانیاں طاری کیا کرتی ہیں۔ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ انگریزی ادب کے بڑے لکھنے والوں میں شیکسپئیر, آسکر وائلڈ اور جارج برناڈ شاہ کے بعد کسی لکھاری کو اگر درجہ دینا ہو تو آلیور گولڈ سمتھ(Oliver Goldsmith) کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ آلیور گولڈ سمتھ کی فنی عظمت کے بارے میں گوئٹے جیسے بڑے لکھاری کا کہنا ہے کہ اُس کی ذہنی تربیت اور شعوری سربلندی کو پروان چڑھانے میں آلیور گولڈ سمتھ کے مضامین نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ گوئٹے کو ہمارے شاعر مشرق سر علامہ محمد اقبال نے حکیم مغرب کا خطاب دیا تھا۔ آئرش النسل آلیور گولڈ سمتھ نے سنہ 1770ء میں اپنے معرکہ الآراء مضمون (The Fair of Mad Dog) میں لکھا ہے کہ سنہ 1770ء کی دہائی میں انگلستان میں کتوں کو پاگل قرار دے کر انہیں مارنے کا وبائی دہشت گردانہ ماحول (epidemic terror) بنا ہوا تھا۔ حالات یہ تھے کہ برٹش لوگ جیسے ہی کسی آوارہ کتے یا مالک کے بغیر پھرتے کسی کتے کو دیکھتے تو سب مل کر اُسے مارنے کو دوڑتے۔ یہاں تک کہ جانوروں سے ہمدردی رکھنے والوں کو میدان میں نکل کر یہ کہنا پڑا کہ ہر کتا پاگل نہیں ہوتا۔ مگر چونکہ وبائی دہشت گردی کے دوران لوگوں  میں خوف بہت زیادہ سرایت کر جاتا ہے، اس لئے عام لوگوں کو سمجھانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی ماحول میں جب برٹش لوگ کسی اکیلے کتے کو دیکھ لیتے تو اُسے گھیر لیتے۔ اس دوران ہجوم سے اگر کوئی یہ کہہ دیتا کہ یہ پاگل ہے تو دیگر لوگ بھی اُس کی ہاں میں ہاں ملا دیتے۔ جیسے ہی ہجوم کی اکثریت کتے کو پاگال قرار دیتی، یہ سب لوگ اُسے مل کر جان سے مار دیتے۔ اس دوران اگر ہانپتا کانپتا کتا کسی طرح ہجوم سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتا تو خوف کی وجہ سے اُس کی کھڑی ہوئی دُم اور اُس کا سیدھا بھاگنا اُس وحشی ہجوم کی نظر میں اُس کے پاگل پن کی مکمل نشانی بن جاتا اور یہ لوگ اُسے گولیوں سے بھون دیتے۔ آلیور گولڈ سمتھ نے لکھا ہے کہ یورپ بشمول انگلستان کے معاشروں میں یہ کیسی عجیب بیماری ہے کہ وہ ہر 10 سال کے بعد ایک (epidemic terror) وبائی دہشت گردی کا واویلا مچاتے ہیں۔

ان افراد اور تنظیموں کے مطابق یہی کچھ اب پاکستان میں ہو رہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ کسی امریکی یا دوسروں کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے مگر کورونا کے معاملہ پر شروع اس جنگ میں پاکستانی بیوروکریسی نے ایک دفعہ پھر ہمیں امریکہ اور سعودیہ کی گود میں بٹھانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس دفعہ شاید ہم ہتھیاروں والی جنگ میں امریکہ یا سعودیہ کے ساتھی نہ ہوں لیکن ہلاکت خیز کورونا وائرس کو قابو پانے والے معاملہ میں دوائیوں اور ویکسین کے لئے ہمیں ملنے والی امداد سیدھی امریکی کمپنیوں کے کھاتوں میں جائے گی اور ان کا کچھ حصہ خریداری کرنے والے 170 ممالک کی اشرافیہ کے بنک اکاؤنٹس میں بھی منتقل ہو گا۔ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ براعظم میں واقع عرب مسلم ملک لیبیا کے سابق مرد آہن معمر قذافی نے سالوں پہلے یہ پشین گوئی کر دی تھی کہ ’’یہ لوگ خود وائرس پیدا کریں گے اور اس کے اینٹی ڈوٹس بھی فروخت کریں گے مگر اس کے لئے وہ کچھ وقت انتظار کریں گے تاکہ دنیا کو دکھا سکیں کہ انہیں یہ دوا تیار کرنے میں اتنا وقت لگ گیا حالانکہ وہ دوا پہلے سے ہی اُن کے پاس وافر مقدار میں تیار ہوا کرے گی۔

آخری اطلاعات کے مطابق تو ابھی تک کورونا وائرس کے ڈی این اے کو سمجھنے کے لئے ابھی تو کام کیا جاری تھا جس کا سکیچ چین نے اس خوفناک عالمی وبا کے محض ایک ماہ بعد دنیا کو دے دیا تھا۔ اس ویکسین کی تیاری کے لئے میڈرنا، ای نوویو، ویکسارٹ، گلیکسوسمتھ ، جانسن اینڈ جانسن، کو ڈائیگناسٹک، اوپوکو اور گلے ارڈ جیسی کمپنیاں کام کررہی تھیں۔ یہ وہ کمپنیاں تھیں جن کے نسڈاک اور نیویارک سٹاک مارکیٹ میں شئیر سب سے تیز بھاؤ پر بک رہے تھے جبکہ باقی ساری مارکیٹ حتی کہ ایپل، گوگل، فیس بک اور ایمازون کے شئیر دھڑام سے نیچے گر گئے۔ ان کمپنیوں میں سے اکثر نے تو اپنے شئیر چڑھانے کے لئے ویکسین کی تیاری میں کامیابی ملنے کے جھوٹے دعوے بھی کیے، لیکن کچھ کمپنیاں واقعی کورونا وائرس کے تدارک ویکسین پر کام بھی کررہی تھیں۔ اس ضمن میں کہا جا رہا تھا کہ جب تک یہ ویکسین آئے گی تب تک کورونا کا جن کافی بڑا ہوچکا ہوگا اور لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ اس سے متاثر ہو چکے ہوں گے مگر اس خدشہ کے مکمل برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فارماسیوٹیکل فرم (Roche Medical Company) کے حوالہ سے اگلے اتوار سے (Actemra – solution for subcutaneous injection in a pre-filled syringe) نامی انجیکشن کو کورونا وائرس کے علاج کے لئے مارکیٹ کرنے کا حیرت انگیز اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے آسٹریلین یونیورسٹی آف کوئینز لینڈ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اُس کے سائنسدان بھی معروف پھل کیلے سے حاصل کردہ ایک محلول کے ذریعے کورونا کی ویکسین تیار کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے بھی کورونا وائرس کے علاج کے لئے ایک سیرپ بنا لینے کا دعویٰ کیا ہے جس کے 14 دنوں تک استعمال سے اس مرض سے مکمل نجات مل جائے گی۔ ایرانی کمپنی کے مطابق یہ سیرپ اگلے 2 ہفتوں تک پوری دنیا میں فروخت کے لئے مہیا ہو گا۔ ایک اور فرانسیسی فارماسیوٹیکل کمپنی (SANOFI) نے بھی اعلان کیا تھا کہ اُس کی دوا(PLAQUENIL ) کو دنیا بھر میں 3 لاکھ سے زیادہ لوگوں پر ٹیسٹ کیا گیا ہے اور انہیں کورونا وائرس کے علاج کے سلسلہ میں اس سے 100% کامیاب نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ اس کمپنی کے اتنے بڑے دعوے کو اس ویب سائیٹ لنک سے چیک کیا جا سکتا ہے۔

https://www.connexionfrance.com/French-news/French-researcher-in-Marseille-posts-successful-Covid-19-coronavirus-drug-trial-results

ان کمپنیوں اور امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے کورونا وائرس کے علاج کے لئے اتنی جلدی دوا اور ویکسین بنالینے کے دعوؤں کے برعکس یہ جاننا ضروری ہے کہ اس طرح کے وبائی مرض کے تدارک کے لئے کسی بھی ویکسین کو لانچ ہونے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی ویکسین کی تیاری کے لئے کم از کم 5 مراحل یعنی پری کلینکل سٹیج، کلینکل ڈویلپمنٹ، ہیومن ٹرائل (جس کے لئے وولینٹئرvolunteer کی تلاش کی جاتی ہے)، ریگولیٹری ریویو اور پھر کوالٹی کنٹرول ے گزرنا پڑتا ہے۔ کسی بیماری کی ویکسین سے مراد ہے کہ اس بیماری کے ہی کمزور یا مردہ وائرس آپ کے جسم میں داخل کر دیئے جائیں۔ چونکہ وہ کمزور یا مردہ ہوں گے اس لئے آپ کا جسم بآسانی اُن کے خلاف مدافعت پیدا کر لے گا۔ ایک بار مدافعت پیدا ہو گئی تو مستقبل میں اس کے زندہ یا مضبوط وائرس بھی آپ کو بیمار نہیں کر سکیں گے۔ یہی اصول ہر بیماری کی ویکسین کے سلسلے میں کارفرما ہے۔ وائرسز کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ ان کی خطرناکی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ بھی سکتی ہے۔ مطلب یہ کہ آج جو کرونا وائرس آپ کو نظر آ رہا ہے، یہ صرف بوڑھوں کے لئے زیادہ خطرناک ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو اس سے کوئی خطرہ نہیں لیکن عین ممکن ہے کہ اگلے سال اس کی شکل اس سے زیادہ خطرناک ہو جو بچوں اور نوجوانوں کے لئے بھی جان لیوا ثابت ہو۔ اس وقت اگر کوئی بچہ یا نوجوان اس وائرس کو پکڑ بھی لیتا ہے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں، چند دن میں لوٹ پوٹ کر انشاءاللہ ٹھیک ہو جائے گا اور بعد میں آنے والے زیادہ خطرناک وائرس سے بھی بچ جائے گا ہمیشہ کے لئے۔

ٖفی الحال مغربی اور ترقی یافتہ ممالک کی کمپنیوں کے ان دعوؤں کو جاننے اور پرکھنے کے لئے کوئی پیمانہ نہیں ہے اس لئے خود مغربی ریاستوں نے بھی عوام کو کرونا وائرس سے بچانے کے لئے انہیں اپنے گھروں تک رہنے کی تلقین کی ہے۔ یہ ریاستیں اپنے شہریوں کو کئی ماہ تک گھر بٹھا کر راشن پانی اور ضروریات زندگی کی دیگراشیاء مہیا کرسکتی ہیں۔ پاکستانی حکومت بھی مغربی طرزِ عمل اپناتے ہوۓ کرونا کی روک تھام کے لیے لوگوں کی سماجی زندگی کو ان کے گھروں تک محدود کرنے کے احکامات جاری کررہی ہے۔ ملک کی آبادی کی اکثریت خط افلاس پر یا اس سے بھی نیچے زندگی بسر کررہی ہے۔ اگر ریاست نے لوگوں کو زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے میں کوئی مدد نہ کی تو یہ معاشرے میں لاقانونیت کی ایک نئی لہرکو جنم دے گی۔ ہماری نااہل اور عوام دشمن بیوروکریسی ہر معاملہ میں لوگوں پر دائرہ زندگی تنگ کر دینے کی عادی بن چکی ہے۔ وہ خود تو نہایت اطمنیان اور عیش و عشرت سے اپنے اور اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں مگر عوام کو اس قدر تنگ و لاچار کر دیتے ہیں کہ وہ آفت یا بیماری سے تو بچ جاتے ہیں مگر افسر شاہی کی عائد کردہ بے ہودہ پابندیوں کی وجہ سے نئے سخت ترین مسائل سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ اپنی اس ناہلیت کو چھپانے کے لئے ہمارے یہاں والے بڑے لوگ وبائی دہشت گردی جیسی سازشوں کا سہارا لیتے رہتے ہیں۔ کچھ ان میں سے اپنے مذہبی تعصب اور نفرتوں کے کاروبار کا سامان بھی ڈھونڈ لیتے ہیں۔

مثال کے طور پر پاکستان بھر میں جان بوجھ کر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ ہمارے یہاں آنے والا کورونا وائرس ایران سے آنے والے زائرین کے ذریعہ پھیلا۔ جب پہلی بار معلوم پڑا کہ تافتان قرنطینہ سنٹر سے کچھ زائرین پیسے دے کر نکل رہے ہیں اور شہروں میں پھیل گئے ہیں تو ہر کوئی ان زائرین کو ڈھیر ساری مغلظات پیش کر رہا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ تافتان سنٹرز کی ویڈیوز وائرل ہونا شروع ہوگئیں اور زبانوں پر تالے لگتے گئے۔ ہر جاندار کی بنیادی فطرت ہے کہ کیسے بھی حالات ہوں ہر شخص اپنی اور اپنی فیملی کی بقا کو مقدم رکھتا ہے ۔ تافتان سنٹرز کیا ہیں، یہ انسانوں اور بیماروں کو رکھنے کی جگہیں نہیں ہیں بلکہ جانوروں کے باڑے ہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جنہیں ہماری نا اہل حکومت اور ظالم بیوروکریسی نے کورونا کی افزائش کے لئے ہی بنایا ہے تاکہ وہاں سے پورے ملک میں اس قاتل وائرس کو امپورٹ کیا جا سکے۔ جب ایسی جہنم میں کسی صحت مند فیملی کو وائرس زدہ فیملی کے ساتھ باندھا جائے گا تو لوگ فرار کا راستہ کیوں اختیار نہیں کریں گے۔ جو تعصب سے بالا ہو کر سوچ سکتے ہیں وہ اس کلیہ کو خود پر اپلائی کر کے دیکھیں کہ جب ریاست کے بدعنوان اور وحشی اہلکار آپ کو بچوں سمیت وائرس زدہ لوگوں میں قید کردیں تو آپ اپنے بچوں کی بقا کے لئے کیا کچھ نہیں کریں گے؟۔ زائرین کے مخصوص مسلک سے تعصب اور نفرت رکھنے والی یہ پروپیگنڈہ مشینیں یہ تک بھول گئیں کہ تفتان بارڈر سے پاکستان داخل ہونے والوں کے اعداد و شمار پر ہی نظر دوڑا لیں جس کے ذریعہ بآسانی پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ ایران سے آنے والے زائرین کی تعداد کیا تھی اور کاروبار کے سلسلہ میں واپس آنے والے پشتون، بلوچ کاروباری افراد کتنے تھے؟۔ تفتان بارڈر کے علاوہ پاکستان داخل ہونے والوں میں سعودیہ، متحدہ عرب امارات، انگلینڈ، اٹلی اور کئی دوسرے ممالک سے بھی مسافر شامل تھے جہاں کورونا وائرس پھیل چکا تھا۔ اُن میں سے کتنے لوگوں کے کورونا وائرس متاثر ٹیسٹ کیے گئے؟۔ اب تک پاکستان میں کورونا وائرس سے 4 لوگوں کے وفات پا جانے کی خبر ہے۔ ان میں سے لاہور میں برطانیہ سے آنے والی مریضہ، خیبر پختونخوا میں وفات پانے والے سعودیہ پلٹ ایک مریض، اسی صوبہ میں متحدہ عرب امارات پلٹ وفات پانے والے دوسرے مریض بھی شامل ہیں۔ جبکہ شمالی علاقہ جات صوبہ گلگت بلتستان میں ایک شخص کی وفات کی اطلاع ہے جو ایران سے زیارتیں  کر کے واپس آیا تھا۔

ان سارے اختلافی معاملات کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمیں بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہے۔ جب تک کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین اور کورونا سے علاج کی دوائیاں مارکیٹ میں نہیں آ جاتیں،ہماری سٹریٹجی بطور قوم یہ ہونی چاہیے:۔

(1)۔ کسی بچے یا نوجوان کو کرونا ہو جائے تو پریشانی کی بجائے پانی، خوراک اور پھل پر فوکس کریں-

(2)۔ نیند پوری کریں، ورزش کریں، خوراک اچھی رکھیں تا کہ آپ کا مدافعتی نظام ٹھیک کام کرتا رہے-

(3)۔ اگر گھر میں شوگر، بلڈ پریشر یا اور کسی بھی بیماری کا شکار کوئی بچہ، نوجوان ہے یا اگر بزرگ ہیں تو محض انہیں بچا کے رکھیں فی الحال ان کی موومنٹ کم کریں۔ باقی کسی کو اس احتیاط کی ضرورت نہیں-

(4)۔ ہر گھر والے اپنے طور پر ایسے لوگوں کی حفاظت اور احتیاط کا بیڑا اٹھائیں جبکہ باقی سب اپنی زندگی سکون سے گزاریں-

(5)۔ جو صحتمند نوجوان اور بچے اس وائرس کا شکار ہوں وہ یہی سمجھیں کہ ان کی ویکسینیشن ہو گئی ہے پریشان ہونے کی بجائے وہ محض بزرگوں اور بیماروں سے دور رہیں۔

(6)۔ حکومت بھی لوگوں کو کوارنٹائن کرنے پر فوکس کرنے کی بجائے عوامی شعور بڑھائے کہ کیسے مندرجہ بالا نکات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے

(7)۔ ناجائز پریشانی اور ٹینشن سے وہ مسائل بھی پیدا ہو جائیں گے جو نہیں ہونے چاہئیں۔ مثلاً کینیڈا میں کچھ سٹورز میں ٹائلٹ پیپرز پر پولیس گارڈز موجود ہیں۔ ہمارا ملک اس افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا جو آپ کو کچھ ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس وقت نظر آ رہی ہے-

سب سے اچھی خبر یہ ہے کہ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی فی الحال اپنی چومکھی لڑائی بھول کر کورونا وائرس کے خلاف مل کر لڑنے کے عزم کا اعادہ کرتی نظر آتی ہیں۔ اگرچہ نا اہلیت ہمارے حکمرانوں کا بنیادی وصف رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ہمیں ان ہی سے گزارا کرنا پڑے گا۔ گلوبلائزیشن کی وجہ سے دنیا سکڑ کر ایک گلوب بن چکی ہے۔ اس طرح کے سنگین معاملات میں نااہلیت، لاپرواہی اور بدعنوانی زیادہ دیر تک چھپائی نہیں جا سکتی۔ جلد یا بدیر لوگوں تک حقائق پہنچ ہی جائیں گے اور اب یہ عالم ہے کہ بدیر کا مطلب کئی سال نہیں ہے بلکہ کچھ مہینے ہی ہیں کیونکہ یہ سال 2020ء ہے اور بچہ بچہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا ماسٹر بنا ہوا ہے۔ شاید یہی خوف ہے کہ جس کی وجہ سے لگ یہ رہا ہے کہ کورونا وائرس کے مقابلہ کے لئے حکومتیں سرگرم ہو چکی ہیں۔ ہمیں کرنا صرف یہ ہے کہ اس وباء کا مقابلہ کرتے وقت جیسے جیسے ہمیں حکومتی ہدایات پر پوری طرح عمل کرنا ہے، بالکل ویسے ہی ہمیں یہ چاہئے کہ عالمی اداروں کی راہنما ویب سائیٹس سے بھی آگاہی رکھیں۔ یہ معلوم نہیں ہے اور نہ اس کی تائید کی جا سکتی ہے اور نہ ہی تردید کہ امریکی یا دوسرے ممالک کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین اور کورونا وائرس کے علاج کے لئے دوائیں بنا لی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ راقم کے پچھلے کالم میں بیان کردہ حفاظتی تدابیر پر مکمل عمل کریں اور دیسی نسخوں بشمول پیاز، ادرک ،لہسن والے ٹوٹکوں یا کسی پیر، ملنگ، فقیر کی پھونکوں سے کورونا کا علاج وغیرہ کروانے سے گریز کریں۔ ہمارے حکمران اور طبی ادارے جیسے بھی ہیں یہ ٹوٹکوں، دم درود اور تعویزوں سے بہرحال بہت بہتر ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *