چُھٹکی(باب دہم)ناول سے اقتباس۔۔عارف خٹک

چُھٹکی کے لائٹ براؤن بال میرے چہرے پر بکھرے پڑے تھے۔میں اُس کے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اُتارنے لگا۔مُجھ پر ایک عجیب سی مدھوشی طاری ہونے لگی۔چُھٹکی مُجھ سے لپٹ کر سورہی تھی۔اُس کی ایک ٹانگ میرے رانوں پر پڑی مُجھے عجیب احساسات سے دوچار کررہی تھی۔دل میں پہلی بار جیسے ایک عجیب خواہش نے انگڑائی لی۔کہ میں اس آگ میں کُود جاؤں۔اور اپنے وجُود سمیت چُھٹکی کو اس آگ میں بھسم کر ڈالوں۔میں نے آہستگی سے اُس کی طرف مُنہ کرکے کروٹ بدلی،تاکہ پہلُو میں سویا ہوا وہ ساحر وجُود جاگ نہ جائے۔میرا بایاں ہاتھ خود بخود اُس کے گرد لپٹ گیا۔چُھٹکی ہلکی سی کسمسائی،لیکن فوراً ہی پُرسکُون ہوگئی۔میرا بایاں ہاتھ اُس کی کمر پر رینگنے لگا۔میں نے چُھٹکی کے نرم گرم احساس کو اپنے اندر سمونے کی کوشش شروع کر دی۔حیرت انگیز طور پر وہ بے سُدھ سو رہی تھی۔شاید اُسے یقین تھا،کہ وہ میرے ساتھ،میرے پاس ہو کر دُنیا کے ہر خطرے سے محفوظ ہے۔اس کے چہرے پرطمانیت بھرے احساسات مُجھے مزید شہہ دے رہے تھے۔میں نے اپنا چہرہ چُھٹکی کے چہرے کے قریب کرلیا۔اُس کی گرم سانسیں مُجھے مدھوش کرنے لگی۔میرے اندر جیسے طُوفان سا برپا ہوگیا۔اُس کی کمر پر رینگتا ہاتھ آہستہ آہستہ اُس کے سینے پر آگیا۔اور حُسن کی بارگاہ میں گُستاخیاں کرنے لگا۔جذبات کا تلاطم بڑھنے لگا،تو ہاتھ کی آوارگیاں بھی بڑھنے لگیں۔اور چُھٹکی کسمسانے لگی۔مگر میرے اندر جذبات کے تیز جھکڑ چل رہے تھے۔سو کسی بھی نتیجے کی پرواہ کئے بغیر چُھٹکی کے جسم سے کھیلنا جاری رکھا۔اچانک چُھٹکی جاگ گئی۔میں ٹھٹھک گیا۔جیسے چور چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا جائے۔ایسے ہی بدحواس ہوکر میں نے بھی چُھٹکی کو خود سے پرے دھکیل دیا۔اُس نے عجیب بیگانی سی نظروں سے مُجھے دیکھا۔اور فوراً سے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔اُس کی نظر اپنے سراپے پر گئی،تو گریبان کے کُھلے بٹن اُسے بُہت کُچھ سمجھا گئے۔بے ترتیب حالت کو درست کرتے ہوئے بجلی کی سُرعت سے میری طرف لپکی۔۔۔

چیخ کر کہنے لگی،
“کہا تھا ناں؟ساتھ مت رکھو۔مُجھے تم پر بھروسہ نہیں،اور تُم نے وہی کیا،میرے بھروسے کو ٹھیس پُہنچا دی۔”
عجیب سی شرمندگی اور احساس جُرم نے گھیر لیا تھا۔مُجھے لگا کہ وہ سارے سپنے جو چُھٹکی کے ساتھ میں نے دیکھے تھے،خوشیوں بھرے اپنے مستقبل کے سُہانے سپنے،وہ سارے ٹوٹ گئے۔میرے پاس کھونے کو اب کُچھ بھی بچا نہیں تھا۔چُھٹکی جیسے ایک ٹرانس کی کیفیت میں تھی۔اُس کا یہ رُوپ میرے لئے بالکل نیا تھا۔اپنا سر ہاتھوں میں پکڑے وہ بُری طرح رو رہی تھی۔جیسے اُس کا کوئی مر گیا ہو۔اچانک اُس نے سر اُٹھایا،اپنے آنسو صاف کئے۔اور پُھنکارتی ہوئی میری طرف بڑھی۔اس سے پہلے کہ میں کُچھ سمجھتا۔اُس نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔میں حیرت سے ششدر رہ گیا۔کہ یہ چُھٹکی کو کیا ہوگیا ہے۔مگر وہ ایسی ہی تھی،ہر بدلتے پل ہر گُزرتے لمحے حیران کردینے والی۔آج اُس کی چُُمیوں میں ایک عجیب سی دیوانگی تھی۔میں،جس کے جذبات تھوڑی دیر پہلے شرمندگی کے احساس تلے دب چُکے تھے۔اُس کے پاگل پن کے سامنے ہتھیار ڈالتا چلا گیا۔جذبات کا ایک بپھرا ہوا طوفان تھا۔جس نے ہم دونوں کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔
وارفتیگوں کے لمحے ٹلے اور جذبات کا مدوجزر اُترا،تو احساس ہوا کہ کیا کُچھ کھو چُکے ہیں۔اپنی بےترتیب حالت سے اندازہ ہوا۔کہ کس طوفان سے ہم گُزر چُکے ہیں۔چُھٹکی کی دوشیزگی کو میں تار تار کر چُکا تھا۔اور اُس کے بعد ہم دونوں میں اتنی سکت اور طاقت باقی نہیں رہی تھی۔کہ ہم ایک دوسرے کا سامنا کرسکیں۔دونوں اپنی اپنی جگہ پر بے سُدھ پڑے چھت کو گُھور رہے تھے۔جانے کتنی ہی دیر اسی حالت میں گُزری۔کہ چُھٹکی کا دھاڑیں مار مار کر رونا مُجھے واپس ہوش کی دُنیا میں کھینچ لایا۔میرے اندر اتنی ہمت نہیں تھی۔کہ میں چُھٹکی کو دلاسہ دے پاتا۔سارا قصور میرا تھا۔میری اپنی بھی حالت چُھٹکی سے کُچھ کم خراب نہیں تھی۔میں نے اُسے رونے دیا۔تھوڑی دیر بعد وہ اپنا کرچی کرچی وجُود سمیٹتے ہوئے میرے قریب ہوئی۔اور بین کرتی ہوئی آواز میں بولی۔
“خان صاحب۔۔
میری عشق کی نماز قضاء ہوگئی۔”

اور یہ سُنتے ہی میرے اندر کامرد جیسے ہمیشہ کے لئے مرگیا۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *