ناصر مدنی تشدد کیس: کچھ حقائق، اصل واقعہ۔۔عامر عثمان عادل

کل اچانک سوشل میڈیا پر خبریں وائرل ہوئیں کہ ملک کے معروف مبلغ اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ناصر مدنی کو کچھ لوگوں نے اغواء کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
آنا ًفاناً یہ خبر جنگل کی آگ کی مانند پھیل گئی کچھ ہی دیر بعد ناصر مدنی کی لاہور میں کی جانے والی پریس کانفرنسز سامنے آ گئیں جس سے پتہ چلا کہ یہ دلسوز واقعہ کھاریاں میں پیش آیا۔

ایف آئی  آر کا اندراج
ناصر مدنی نے اپنے اغواء اور تشدد کا مقدمہ تھانہ مزنگ لاہور میں درج کروایا جس کے مطابق یہ وقوعہ سوموار 16 مارچ کو پیش آیا جب انہیں رضوان عرف مُلاں نام کے بندے نے برطانیہ کے نمبر پہ واٹس ایپ سے بات کرتے ہوئے کھاریاں میں پروگرام کے لئے بلوایا ،کرونا کی وجہ سے انکار پر والدہ کے لئے دعائیہ محفل کے نام پر درخواست کر کے اپنے بندوں کو لاہور بھیج دیا، جن کے ساتھ وہ کھاریاں آ گئے ،عجوہ سے کھانا کھلا کر انہیں والدہ سے ملوانے ڈیرہ پر لے جا کر برہنہ کر کے تشدد کیا ،ویڈیو بنائی ، موبائل چھینے ،سادہ کاغذ پر دستخط کروائے، نشہ آور مشروب پلایا ،نیم بیہوشی کی حالت میں چناب ٹول پلازہ پر چھوڑ دیا۔

کھاریاں پولیس کی کاروائی
آج گجرات پولیس کی پریس ریلیز جاری ہوئی، جس کے مطابق پولیس نے ڈی پی او کی ہدایت پر فوری کاروائی  کرتے ہوئے ڈی ایس پی کھاریاں اسد اسحاق اور ایس ایچ او تھانہ صدر مجاہد عباس کی نگرانی میں وقت ضائع کیے بغیر عجوہ ریسٹورنٹ کے سی سی ٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن میں مرکزی ملزم رضوان عرف مُلاں کے دو بھائی  اور دو ملازم شامل ہیں ،اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔

رضوان عرف ملاں کون ؟
اس سارے سانحے کا مرکزی کردار رضوان عرف مُلاں کھاریاں کے نواحی گاؤں دھوریہ کا رہائشی اور برطانوی شہریت کا حامل ہے، ذرائع کے مطابق یہ چھ بھائی  ہیں اور سارے کے سارے یو کے نیشنل ۔ آج کل یہ سب اپنے چھوٹے بھائی  کی شادی کے سلسلہ میں پاکستان آئے ہوئے ہیں۔

رضوان کس کا مرید ہے؟
ذرائع کے مطابق رضوان عرف ملاں عرصہ پانچ چھ سال سے اپنی سابقہ زندگی سے تائب ہو کر بلاوڑہ شریف والوں کا مرید ہوا اور اس کی زندگی کے شب و روز تبدیل ہو گئے۔

ابتدائی تفتیش
گرفتار ملزمان سے حاصل شدہ ابتدائی  معلومات کے مطابق یہ سارا کیا دھرا ہمارے بھائی رضوان عرف مُلاں کا ہے ،جب ناصر مدنی کو ڈیرے پہ لے جایا گیا تو اس سے آگے جو کچھ ہوا اس سے ہم لا علم ہیں، وہاں راولپنڈی سے کچھ لوگ آئے تھے جو ہمارے بھائی کے ساتھ ناصر مدنی کو کمرے میں لے گئے ہمیں باہر نکال دیا اس کے بعد انہوں نے جو کچھ بھی کیا اس کا ہمیں کوئی علم نہیں۔

پیش رفت
رضوان عرف ملاں کے دو بھائیوں اور دو ملازمین کو مزنگ تھانہ کی پولیس اپنے ہمراہ لاہور لے جا چکی ہے، جبکہ مرکزی ملزم رضوان تا حال گرفتار نہیں ہو سکا۔

پولیس کے لئے چیلنج
اب پورے پنجاب کی پولیس کے لئے یہ ایک کُھلا چیلنج ہے کہ مرکزی ملزم کو جلد سے جلد گرفتار کر لیا جائے تاکہ مزید حقائق سامنے آ سکیں کہ راولپنڈی سے آنے والے افراد کون تھے وہ فون پر کس سے ہدایات لے رہے تھے جس کا انکشاف ناصر مدنی نے بھی پریس کانفرنس میں کر دیا تھا۔کہ اس سارے وقوعے کی کمان کس کے ہاتھ تھی۔کیونکہ اس راز سے پردہ اٹھنا ضروری ہے کہ مرکزی کردار رضوان عرف مُلاں نے یہ سارا کھیل کسی کی ایماء پر کھیلا ،یا اس نے یہ سب اپنے پیشوا کی عقیدت میں کیا؟۔

وجہ عناد کا پس منظر
اگر کڑیاں ملائی  جائیں تو واضح ہوتا ہے کہ ناصر مدنی کی ایک ویڈیو کرونا وائرس کے متعلق تھی جس میں ایک مذہبی پیشوا کی پھونکوں کا ذکر تھا۔اس بارے بھی خود ناصر مدنی نے پریس کانفرنس میں اشارہ کر دیا تھا۔

اداروں کا امتحان
اب پولیس سمیت سلامتی کے اداروں کا کڑا امتحان ہے کہ وہ اس سارے واقعے کی تفتیش مکمل کریں جس کا جتنا رول ہے، اسے بے نقاب کریں ،کوئی  بھی قانون کی گرفت سے آزاد نہ ہو، تاکہ ایسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے کیونکہ اس واقعے نے نہ صرف معاشرے میں عدم برداشت غنڈہ گردی کو فروغ دیا ہے، بلکہ ایک ایسا کلچر متعارف کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اختلاف رائے کرنے والوں کی گردنیں اڑا دی جائیں۔

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *