تمھیں پتا ہے ؟۔۔سلمیٰ سیّد

تمھیں پتا ہے
تمھارے ہونٹوں پہ پھیلتی یہ
خوشی کی خوشبو
بہار کے سب گلوں کے غنچوں میں معتبر ہے
تمھیں خبر ہے ؟
تمھارے گالوں پہ پڑتا چھوٹا سا ایک نکتہ
ہمارے دل کو نگل گیا ہے
تمام منظر بدل گیا ہے
یہ دل بھی کچھ کچھ سنبھل گیا ہے
مشامِ جاں میں عجب تماشا سا لگ گیا ہے
نئے مناظر ہیں دلرُبا سے
یہ سنگریزے چمکتے تارے بنے کہاں سے
کہاں سے مجھ میں یہ حوصلہ اک یقین آیا
کہاں سے پروردگار میرے
میرے سفر میں یہ روشنی کا امین آیا
تمھیں پتا ہے
تمھاری آنکھوں کی روشنی سے
جہان بھر کے تمام جگنو ضیائیں پائیں
تمھاری ابرو تمھاری پلکوں پہ
زعم کتنا ہے جیسے تم نے کسی اشارے پہ
اس زمیں اور آسماں کی
تمام روحوں کو اپنے قول و عمل کے ذریعے
نجات دینے کی ٹھان لی ہے
مجھے یوں لگتا ہے جیسے تم نے
مری بھٹکتی ہوئی صدا کو زبان دی ہے
کسی سفر میں دعا کی صورت
مصائبوں سے امان دی ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *