انسان کی زندگی کا مقصد۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين ۔

انسان زندہ ہے تو ہی انسان کہلاتا ہے۔ انسان اگر اپنے آپ کو اور اپنے مقصد کو پہچان لے تو انسان اس کائنات کی انمول ترین چیز ہے۔ انسان اسرارِ الہٰیہ کا امین اور اُس کی صفات و کمالات کا مظہر ہے اور اگر انسان اپنی اس حیثیت کو پہچان لے اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے تو اللہ کریم کی بارگاہ میں خصوصی قدر و منزلت پاتا ہے۔
انسان کی اسی حیثیت اور مقام و مرتبہ کے تناظر میں قرآن مجید کی سورۃ البقره کی آیت نمبر 138 میں ارشاد ہوا ہے کہ؛

tripako tours pakistan

صِبْغَةَ اللّـٰهِ ۖ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّـٰهِ صِبْغَةً ۖ وَّنَحْنُ لَـهٝ عَابِدُوْنَ (138)

“’(کہہ دو ہم) اللہ کے رنگ (میں رنگے گئے ہیں) اور کس کا رنگ اللہ کے رنگ سے بہتر ہے۔ اور ہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں۔”

یہاں انسان کو اللہ کا رنگ اختیار کرنے کی جو تلقین کی گئی ہے اس رنگ کی وضاحت کرتے ہوئے ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابوالقاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰه.

’’اللہ کے اخلاق سے اپنے آپ کو متصف کرو۔‘‘

گویا اللہ کے رنگ کو اپنانے سے مراد اپنے آپ پر اللہ کی صفات کا رنگ چڑھانا ہے اور اپنی سیرت و کردار میں اُن صفات کی جھلک اور عکس پیدا کرنا ہے۔ طبیعت کو اُن کا خوگر بنانا ہے۔ انسان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ انسان صفاتِ الہٰیہ کے امتزاج کا خوبصورت گلدستہ بن جائے جیسا کہ علامہ اقبال رح نے فرمایا؛

قہاری و جباری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

اور اس بات کی مزید وضاحت چاہیئے ہو کہ انسان اپنی زندگی میں اللہ کریم کی صفات کیسے اختیار کر سکتا ہے تو قرآن حکیم میں پیارے اللہ کریم نے والدین کے لئے جو دعا سکھائی ہے اس پر غور کر لیجئے کہ اس دو میں دو مرتبہ لفظ ” رب ” استعمال ہوا تو پہلی مرتبہ تو رب کا لفظ اللہ کریم نے اپنے لئے استعمال کیا تو دوسری مرتبہ کس کے لئے استعمال ہوا؟

رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا ۔
میرے رب! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میری بچپن میں پرورش کی ہے۔

دعا گو ‘ طالب دعا شاہد محمود

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *