مباحثہ نہیں مکالمہ

مباحثہ نہیں مکالمہ
مجید رحمانی
زیادہ عرصہ نہیں ہوا , چھ سات برس قبل جب عرب ممالک میں سیاسی بیداری کی ایک لہر سی چلی اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے مشرقِ وسطیٰ کے تقریباََتمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا,
تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اس سیاسی و سماجی بیداری میں سوشل میڈیا کا اہم کردار رہا ہے,
آیئے اپنے دیس کا ایک طائرانہ جائزہ لیتے ہیں,
تمام تر انتظامی, سیاسی اور معاشی مسائل کے باوجود صورت حال زیادہ مایوس کن نہیں,
یہاں سماجی اور ثقافتی شعور کو اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے,
یہاں اداروں کو منظم اور مربوط کرنے کی ضرورت اولین اہمیت رکھتی ہے,
سوال یہ ہے کہ ہمار ے معاشرے میں تعمیری انقلاب کس طرح ممکن ہوگا,
اس کیلئے سب سے پہلے لوگوں کے مختلف طبقات کے مابین سماجی, نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر قائم دیواروں کو گرانا ہوگا,
دیواریں نہیں دروازے تعمیر کرنے ہوں گے, مکالمے کےلیے اونچی دیواریں نہیں کھلے دروازوں کی ضرورت ہے,
مکالمہ کے نام سے قائم سوشل میڈیا کی ویب سائٹ اس حوالے سے اہم کاوش ہے,
سوشل میڈیا فرینڈلی نہ ہونے کے باوجود راقم کو یقین ہے کہ مستقبل میں حاکم اور محکوم قوموں, تہذیبوں اور معاشروں کا تعین جدید ٹیکنالوجی ہی کرے گی,
انعام رانا صاحب اور ان کے لائق و فائق رفقا نے جس طرح چند ہفتوں میں ملک کے کے دو بڑے شہروں میں سوشل میڈیا کے تعلیم یافتہ دوستوں کو مجازی دنیا سے منتخب کرکے حقیقی دنیا میں یکجا کر دیا, وہ ایک منفرد تجربہ ہے, اس کامیابی پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں,
25 دسمبر کی شام اس منفرد تجربے کیلیئے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے سب سے بڑے ادبی و ثقافتی مرکز آرٹس کونسل کا انتخاب کیا گیا,
گل رنگ ریسٹورنٹ چمکتے دمکتے چہروں کی موجودگی سے گلزار بن چکی تھی,
ایک نئی روایت کا آغاز ہوا جب ایک دوسرے سے اجنبی لیکن فیس بک پر شناسا ایک چھت تلے یکجا ہوئے,
باریش چہروں, کھلی آستینوں والے اہلِ مدرسہ, جدید لباس میں ملبوس کالجوں اور جامعات کے نوجوان طلبہ و طالبات, گھریلو و باحجاب خواتین, گویا ہر طبقہِ کے دوست موجود تھے,
علم و ادب اور میڈیا کی معروف شخصیات, عقیل عباس جعفری, مبشر علی زیدی, سید انور محمود ،سہیل احمد, انوار احمد, منصور مانی, مزمل احمد فیروزی , فیض اللہ خان, عارف خٹک,علی بابا, آمنہ احسن, سعدیہ کامران،شاد مردانوی اور دیگر احباب کی موجودگی نے تقریب کی اہمیت میں اضافہ کردیا,
انعام رانا صاحب کی بردبار, سنجیدہ شخصیت اور پروقار و پرمزاح تعارفی تقریر نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شرکا کو مثبت پیغام دیا ,
صفوان اللہ صاحب کی متوازن اور مدلل تقریر سے مکالمہ کے مقاصد کو سمجھنے میں کافی مدد ملی,
ہر نئےفورم کے قیام کے وقت جو غلطیاں ہوتی ہیں ویسی یہا ں بھی دکھائی دیں لیکن یہ خامیاں انفرادی ہیں, مجموعی نہیں,
نظامت کسی تقریب کی کامیابی کا اہم ترین فیکٹر ہے,
اس ضمن میں خاتون اورصحافی دوست نے لطیف اسلوب میں تقریب کو اپنے کنٹرول میں رکھا, بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے,
تنظیمی اور ادارتی امور کے حوالے سے منتظمین اس تجربے سے سیکھ کر آئندہ حکمت عملی مرتب کر سکتے ہیں,
فوری طور پر چند اہم پہلو ہیں, جنکی جانب توجہ دلانا چاہوں گا, ان میں سے چند نکات صفوان اللہ صاحب نے بھی واضح کئے,
1 : مذہب اور مسلک حساس ترین شعبے ہیں, ان کے حوالے سے سوال و جواب اود مباحث کو خارج از نصاب رکھنا ہوگا,
2 : سیاسی اور لسانی وقومیتی موضوعات کو بھی خارج از نصاب رکھنا ہوگا,
3 : قومی شخصیات پر بھی مباحثہ نہیں ہوگا,
4 : آبادی کے مختلف طبقات اور. اقلیتوں کے حوالے سے مباحث کی حوصلہ شکنی ہوگی,

راقم نے کوئی نیا اضافہ نہیں کیا,
آغازِ مکالمہ کے وقت منتظمین نے ان پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھا ہوگا,

آج کی ان گزارشات کا آخری حصہ,

اردو ہماری قومی و علمی زبان ہے لیکن اس کا اہم ترین وصف یہ کہ یہ رابطے کی زبان ہے,
مکالمہ کے قلم کار اہلیت و قابلیت کے اعلیٰ مقام پر ہیں اور ان سے زبان و بیان میں کسی ابتذال کی توقع نہیں رکھی جاسکتی,
امید ہے کہ تحریروں اور مکالماتی سیشن کے دورانِ گفتگو اور تقاریر میں بھی احتیاط کے تمام تقاضے پیشِ نظر رہیں گے,
اسلیئے بھی یہ پابندی ضروری ہےکہ تعلیم یافتہ معزز خواتین مکالمہ کا مؤثر حصہ ہیں,
کچھ اہم نکات تشنہ تحریر رہ گئے , آئندہ کسی موقع پر ذکر کریں گے,

انعام رانا صاحب, ان کے مخلص رفقا اور مکالمہ کی کامیابی کیلیئے دعاگو ہوں

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *