استغفار ۔کرونا کا حل۔۔۔پرو فیسر محمدعمران ملک

سنا تھا اللہ جی جب ناراض ہوتےہیں تو سجدے کی توفیق چھین لیتے ہیں۔ اللہ جی نے امت مسلمہ پر اپنے گھر کے دروازے بند کر دیے۔ مساجد میں نہ آنے اور جمعہ کے اجتماعات پر پابندی کی باتیں چل رہی ہیں۔ ایسے میں وہ جن کے ذمے امت کو رہنمائی کی ذمہ داری تھی وہ دلائل لا رہے ہیں کہ حفاظت کے لیے یہ اقدام اٹھانا پڑتے ہیں
کسی عالم دین,کسی کعبہ کے محافظ,کسی دینی رہنما,کسی قائد,کسی استاد,کسی علامہ,کسی امیر المجاہدین,کسی امیر جماعت,کسی مولانا,کسی خطیب, کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ امت سے اپیل کرے کہ لوگو استغفار کر لو
اللہ کو گڑ گڑا کر منا لو
امت محمدی ﷺ سے اللہ ناراض ہیں تو اس رب کو منا لو
کاش کوئی رہبر اللہ کی ناراضی کو سمجھتا
کہ وہ اللہ کیوں بے وقت کی بارشیں نازل فرما رہا ہے
اس جبار نے کیوں ہم پر بیماری کا خوف مسلط کر دیا
حالانکہ اس رب کا وعدہ ہے
اطعمہم من جوعٍ و آمنہم من خوف
تو کیوں نہیں لوٹتے ہم رب کی طرف
پہلے بھی کئی بار اس فورم پر کہہ چکا ہوں کہ امت کو اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے
لوگو رب کو منا لو
اللہ سے کہو کہ اللہ آپ اتنے ناراض ہیں کہ ہم پر اپنے گھر کے دروازے بند کر دیے۔ اللہ ہم بحیثیت مسلمان آپ سے معافی مانگتے ہیں آپ غفور ہیں آپ رحیم ہیں آپ نے ہر اس آیت کے آخر میں جہاں آپ نے لوگوں کو گناہوں سے منع کیا ایک خبر دی کہ واللہ غفور رحیم۔ کہیں آپ نے کہا ان اللہ سمیع علیم کہیں آپ نے رب اغفر وارحم وانت خیر راحمین۔
اللہ ہم معافی مانگتے ہیں اے اللہ آپ نے ہمارے انفرادی گناہ چھپاۓ ہیں۔ اللہ ہم اس پر آپ کے شکر گزار ہیں لیکن اللہ ہمارے اجتماعی گناہ کی سزا اتنی بڑی نہ دیجیے کہ اپنے گھر کے دروازے بند کر دیں
اللہ ہمارے اجتماعی گناہ اتنے زیادہ ہیں کہ ہم منہ دکھانے کے قابل نہیں لیکن اللہ ہمیں اپنے اجتماعی گناہوں کا احساس ہی نہیں
اللہ ہم نے ملک لیتے وقت جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نےتوڑ دیا
اللہ ہم نے حیا کی ساری حدیں توڑ کر بے حیائی پسند کی
اللہ ہم نے نکاح کی سنت چھوڑ کر زنا کو عام کرنے کی حوصلہ افزائی کی
اللہ ہم بنی اسرائیل سے بھی بد تر ثابت ہوۓ
اللہ ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے اجتماعی گناہوں کی فہرست کتنی لمبی ہے
اللہ آپ نے نمرود کے لیے مچھر بھیجا تھا اے اللہ نمرود نے آپ کا انکار کیا تھا اللہ ہم تو آپ کےاقراری ہیں۔ آپ نے ہمارے لیے مچھر سے بھی سو گنا کم جراثیم بھیجا ہے۔ اللہ بیماریاں پہلے بھی تھیں لیکن اللہ آپ تو بیماری اس لیے بھیجتے ہیں کہ مومنین کے گناہ معاف ہو جائیں لیکن اے اللہ یہ کیسی بیماری ہے جس نے ہمیں آپ کے گھر میں داخل ہونے سےروک دیا
اللہ کیا ہم اس قابل نہیں کہ آپ کےگھر آسکیں اللہ ضرور ہم سے غلطیاں ہوئیں ہم آپ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں معاف کر دے۔ اللہ اتنی بڑی سزا ہمیں نہ دیجیے ہم گناہوں کے پہاڑ اور سمندر لیے اپ کے گھر آتے تھے آپ معاف کردیتے تھے اللہ آپ نے گھر کا راستہ ہی بند کر دیا۔ اللہ پھر ہم کس در پر جائیں گے
اللہ ہمیں یوں نہ دھتکاریے
اللہ اس امت کو معاف کر دیجیے اللہ کیا اس امت میں ایک بھی ایسا نہیں جس کی وجہ آپ دعا قبول کر لیں۔ اللہ جی آپ اپنے گھر کےدروازے کھول دیں ہم آپ کے در پر آنا چاہتے ہیں اللہ ہم سے بیماری کا خوف ہٹا دیجیے
اللہ ہم نے سود شروع کر کے آپ کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے لیکن اللہ اس معاملے میں ہم بے بس ہیں ہمارے حکمران اس کے ذمہ دار ہیں لیکن اللہ وہ تو لاپرواہ ہیں آپ سے آپ ان کی سزا ہمیں نہ دیجیے
اللہ ہمیں اپنی طرف لوٹا دیجیے
اللہ ہماری توبہ قبول کر لیجیے
اللہ ہمارا حشر ان مشرکین جیسا نہ کیجیے جن پر کعبہ کے دروازے بند ہیں
اللہ آپ انفرادی گناہوں کو معاف کر دیتے ہیں
آج ہمارے اجتماعی گناہوں کو بھی معاف کر دیجیے
اللہ معاف کر دیجیے
اللہ معاف کر دیجیے
اللہ معاف کر دیجیے
اللہ,اللہ,اللہ
أستغفر الله
أستغفر الله
أستغفر الله
رب کریم رحم کیجیے
اللہ ہم اس امت کو اکٹھا کرنے والا کوئی نہیں
کوئی امت کو استغفار کے راستے پر لانے والا نہیں
اللہ میں اس فورم کے ذریعے اجتماعی معافی کی درخواست کرتا ہوں اللہ اس کو قبول کیجیے ہم سب اس دعا کو پڑھنے والے قومی مجرم کے طور پر امت کے مجرم کے طور پر معافی مانگتے ہیں۔ اللہ معاف کر دیجیے
اللہ معاف کردیجیے
اللہ معاف کردیجیے
آمین آمین آمین
اللہ یہ دکھاوے کی دعا نہیں یہ امت کو متوجہ کرنے کے لیے دعا ہے۔ اللہ آپ اس امت کو توبہ کی توفیق دے دیں۔ اللہ اس امت پر اپنےدروازے کھول دیں
آمین آمین آمین

  • merkit.pk
  • merkit.pk

پروفیسر محمد عمران ملک
پروفیسر محمد عمران ملک وزیٹنگ فیکلٹی ممبر پنجاب یونیورسٹی لاہور پی ایچ ڈی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply