کورونا سے لڑنا آسان نہیں ۔۔۔۔محمد الیاس

کرونا وائرس نے چائنا، ایران اور ایشیا کے بیشتر ممالک کے بعد یورپ کا رخ کر لیا ہے اور اس کے ہر بڑے شہر کو ٓاہستہ ٓاہستہ اپنے شکنجے میں لیتا جا رہا ہے، لیکن سب سے بُری صورتحال اس وقت اٹلی کی ہے۔ جہاں دو ہفتہ پہلے تین سو بائیس مریضوں میں وائرس کا انکشاف ہوا اور ٓاج سترہ ہزار چھ سو لوگ اس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ بارہ سو پچاس لوگ اس وائرس کے ہاتھوں موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

ناروے کے ایک بڑے اخبار وی جے نے اٹلی کے ایک بڑے ہسپتال کے ڈاکٹر  کے وٹس ایپ سکرین شاٹس اپنے اخبار میں لگائے ہیں، جن میں وہ ناروے کے ایک جرنلسٹ کو میلان اور جنوبی اٹلی کے حالات کے بارے میں باخبر کر رہے ہیں کہ ہم تو بھگت رہے ہیں، ٓاپ بھی تیار رہو، کیونکہ یہ سونامی ابھی رکنے والا نہیں۔

ذیل میں اس ڈاکٹر و جرنلسٹ کی گفتگو کا اردو ترجمہ ہے۔

ڈاکٹر ۔ ہیلو کیمیلا، میں اٹلی سے ڈاکٹر ۔۔۔۔ بات کررہا ہوں۔ آپ کو یہاں کے حالات کے بارے میں باخبر کرنا چاہتا ہوں کہ یہاں بہت ڈرامائی کیفیت ہے۔ یہاں ایک جنگ کا ماحول ہے۔۔ روزانہ کی جنگ۔

صحافی کیمیلا ۔ کیا ٓاپ وہاں کے حالات کے بارے میں مطلع کریں گے کہ ہسپتالوں کی سچویشن کیا ہے؟

ڈاکٹر ۔ یہاں ہر ایک کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ گھروں میں ہی رہے،لیکن لوگوں کی بڑی تعداد پھر بھی اس وائرس سے متاثر ہو رہی ہے۔۔۔
ہمیں میلان سے روزانہ کی بنیاد پر مریض بھیجے جارہے ہیں، تاکہ میلان میں مزید مریضوں کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔ اٹلی کے شمال میں ایک صدمے کی کیفیت ہے، ہسپتالوں میں مزید مریض رکھنے کی سکت ختم ہو چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں حکومتی آرڈر موصول ہوچکے ہیں جن میں ڈاکٹرز کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ کیس ٹو کیس فیصلہ کرنے میں ٓازاد ہیں کہ کس مریض کو بچانا ہے اور کس کو نہیں۔میلان  میں صرف ان مریضوں کو ٹریٹ کیا جارہا ہے جو ساٹھ سال سے نیچے ہیں،ہسپتالوں میں لائف سیونگ ایکوپمنٹس ختم ہو چکے ہیں اور یہ وائرس بہت سے ڈاکٹرز کو بھی متاثر کر چکا ہے۔شمالی اٹلی اس وائرس کے سامنے بے بس ہوچکا ہے، اور اب یہ سونامی ٓاہستہ ٓاہستہ وسطی اٹلی کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔

صحافی کیمیلا ۔ اس کا مطلب ہے کہ ساٹھ سال سے اوپر کے مریضوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے؟

ڈاکٹر ۔ ہم مریضوں کو ٓاکسیجن دے رہے ہیں۔
لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے ان کو انٹوبیشن ( جس میں مریض کے منہ میں نالی ڈال کر پھیپڑوں کو ٓاکسیجن دی جاتی ہے) نہیں دی جا رہی۔۔۔۔
ان کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔
تقریبا ً تیس فیصد مریض تیس اور ساٹھ سال کے درمیان ہیں۔۔
ہمیں کہا گیا ہے کہ مریض کی حالت دیکھ کر فیصلہ کریں کہ اس کو بچانا ہے یا ایسے مریض پر وسائل لگائیں  جس کی حالت قدرے بہتر ہے۔ اس صورتحال میں بہت سے مریض فوت ہورہے ہیں۔۔
پلیز ٓاپ لوگ خود کو بدترین حالات کے لئے تیار رکھیں ۔۔
ہم ڈرے ہوئے ہیں۔ بھرپور کوششوں کے باوجود اس وبائی  آفت کے سامنے ہم لوگ بے بس ہوگئے ہیں۔ ہمارے ہسپتالوں کی سہولیات اس وبا کے سامنے ناکافی ثابت ہورہی ہیں۔ہیرو بننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں نے گزشتہ رات ہسپتال میں گزاری ہے۔ ہم ذہنی طور پر اس سونامی کو روکنے کے لئے اپنی جان کی قربانی دینے کو بھی تیار ہیں۔

صحافی کیمیلا ۔ ہسپتال میں کام کرنے والے لوگوں کا کیا حال ہے، کیا وہ بھی اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں؟

ڈاکٹر ۔ ہمارے بہت سے کولیگز اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ کچھ کو گھروں تک محدود کردیا گیا ہے۔ ہسپتالوں کے ملازمین پر کام کا بوجھ ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ اس بحرانی کیفیت کی وجہ سے چوبیس گھنٹے ہسپتالوں میں ہی رہ رہے ہیں۔۔ان میں سے پندرہ فیصد کو انٹوبیشن کی ضرورت ہے۔پندرہ فیصد میلان کی آبادی پر تباہ کن حالات ہیں۔ ہم نا صرف ڈرے ہوئے ہیں بلکہ اب تو گھبرا گئے ہیں۔

صحافی کیمیلا ۔ ٓاج کی کیا سچویشن ہے؟

ڈاکٹر ۔ ہماری پالیسی یہ تھی، کہ کچھ ہسپتالوں کو کرونا وائرس مریضوں سے پاک رکھیں گے، تاکہ وہاں باقی امراض کا علاج جاری رہ سکے۔لیکن مریضوں کی ایک بڑی تعداد کی وجہ سے یہ ممکن نہیں رہا۔ ہمیں ڈرامائی فیصلے لینے پڑ رہے ہیں۔

نوٹ ۔ اس ساری پوسٹ کا مقصد کوئی گھبراہٹ یا اضطرار پھیلانا نہیں، صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ خدارا اس وائرس کو آسان مت لیجیے گا۔ بھرپور وسائل کےباوجود ممالک بے بس ہورہے ہیں تو پاکستان میں صحت کی سہولیات آپ لوگ میرے سے بہتر جانتے ہیں۔ لہذا گزارش ہے کہ دوست اپنے حلقوں میں اس وائرس کے بارے میں ضرور پیغام نشر کریں۔ ڈاکٹرز کی طرف سے جو احتیاطی تدابیر بتائی جا رہی ہیں۔ اس پر سختی سے عمل کریں، اور ساتھ میں اللہ سے بھی دعا کریں کہ اس وبائی عذاب سے جلد از جلد ہماری خلاصی کروائے، آمین۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *