مکالمہ کراچی کانفرنس کی تیاری کا احوال

شیخ قلندر بخش جرات اپنے دور کے مشہور شاعر تھے اور انشاء اللہ خاں انشاء کے دوست۔ آنکھوں کی نعمت سے محروم تھے۔ ایک دن سید انشاء جرات کو ملنے گئے۔ دیکھا سر جھکائے کچھ سوچ رہے ہیں۔ پوچھا کس فکر میں ہیں۔ جواب ملا کہ ایک مصرع خیال میں ہے۔ چاہتا ہوں مطلع ہوجائے۔
انشاء نے پوچھا: کون سا مصرع؟
جرات بولے: خوب مصرع ہے مگر جب تک دوسرا مصرع نہ ہوجائے تب تک تمھیں نہیں سناؤں گا۔ کہیں تم مصرع لگا کر مجھ سے چھین نہ لو۔
سید انشاء نے بہت اصرار کیا۔ بالاخر جرات نے یہ مصرع پڑھا: اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی
انشاء نے فوراً اس پر گرہ لگا کر شعر پورا کر دیا: اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی۔
جرات ہنس پڑے اور عصا اٹھا کر مارنے کو دوڑے۔

جب مکالمہ کانفرنس کا سنا تو یہی مصرع یاد آیا
رانے کو پاکستان میں کانفرنس کی سوجھی۔

انعام رانا دیارِ غیر میں بیٹھے یہ فیصلہ کر بیٹھے کہ پاکستان آؤں گا اور آتے ہی 17 دسمبر کو لاہور میں مکالمہ کانفرنس ہوگی۔ اور یہی ہوا۔ 17 دسمبر کو محفل سجی اور کمال سجی۔ کامیاب کانفرنس دیکھ کر کس کس کو آگ لگی، یہ ہم نہیں جانتے لیکن ہم کراچی والوں کا مارے جلن کے برا حال ہوگیا۔ انعام کو جب اس محبت بھری جلن کا اندازہ ہوا تو جناب نے فیصلہ کیا کہ کراچی میں بھی ایک دن کے لیے دوستوں کو اکٹھا کیا جائے۔ امید تھی کہ 20، 25 لوگ اکٹھے ہوں گے۔ ہنسیں گے، گپیں ماریں گے اور اپنے اپنے گھر واپس۔ لیکن کمال ہوا جناب کہ مل بیٹھنے والوں کی تعداد ایک دن میں 150 سے زیادہ ہوگئی۔
پھر دوستوں کی اس ملاقات کو مکالمہ کانفرنس کراچی کا نام دے دیا گیا۔

پرسٹن یونیورسٹی سائٹ ایریا کیمپس اس کانفرنس کا مقام منتخب ہوا۔ اب کراچی والوں کو جوش چڑھا۔ خوب مارکیٹنگ ہوئی۔ دوستوں کو اکٹھا کیا۔ پلاننگ ہوئی۔ اچانک ایک جھٹکہ لگا۔ انعام نے 24 دسمبر کی رات 7:30 پر سٹیٹس اپڈیٹ کیا کہ پرسٹن یونیورسٹی انتظامیہ نے اچانک جگہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن اعلان کیا کہ کانفرنس ہوگی چاہے مزارِ قائد پر ہو یا سڑک پر۔ انعام کے اس سٹیٹس سے اس کا ٹوٹا ہوا دل، اور اس کی تکلیف ظاہر تھی۔ مگر ہم سب کے بھی دل ٹوٹ گئے۔ ہم سب سڑک پر کانفرنس کرنے کو تیار تھے۔ لیکن دوست تو دوست ہوتے ہیں۔ انعام نے 9 بجے مجھے فون پر بتایا کہ اب کانفرنس آرٹس کونسل (گل رنگ) میں ہوگی۔ خوشی کی انتہا نہ رہی۔ پھر فکر یہ تھی کہ لوگ کیسے اتنے مختصر وقت میں اکٹھے ہوں گے؟ ہال کے سارے انتظامات کیسے ہوں گے؟

انعام نے صبح 9 بجے کی فلائٹ سے کراچی پہنچنا تھا لیکن دھند اور دھاندلی کے پیشِ نظر اس کی فلائٹ 2 بجے کے بعد چلی۔ یہاں ہم سب دوست (عارف خٹک، حافظ صفوان، ماریہ اقبال، مزمل احمد فیروزی اور بہت سے دوست، نام بھول جانے پر پیشگی معافی) نے اس محفل کو باقاعدہ سجانے اور پھر انعام رانا کے بغیر شروع کرنے کا بِیڑا اٹھایا۔ حافظ صفوان تو سلمان سعد خاں کے ساتھ پونے بارہ بجے ہی یعنی سب سے پہلے کراچی آرٹس کونسل گل رنگ پہنچ گئے۔ سوا بارہ بجے تک عارف خٹک اور ماریہ اقبال بھی پہنچ گئے۔ آہستہ آہستہ لوگ آتے رہے۔ 1:30 پر جب میں ہال میں داخل ہوئی تو وہاں 40 سے 50 بندہ پہلے ہی اکٹھا تھا۔ میں اور احسن دیکھتے ہی حافظ صفوان کی طرف لپکے۔ وہ احسن سے ملے اور میرے سر پر ہاتھ رکھا، اور پھر جو کام پر لگایا تو ایک منٹ کے لیے سپیئر نہ کیا۔ انھوں نے ہم سے فنکشن کی proceedings بنوائیں۔ وہ ہم سب کو آئیڈیاز دے بھی رہے تھے اور مانگ بھی رہے تھے۔ جسے جو مسئلہ ہوتا وہ حافظ صاحب کی طرف دوڑتا۔ عارف خٹک اور دیگر دوست کرسیاں میزیں اور ساؤنڈ سسٹم وغیرہ لگواتے رہے۔

سعدیہ کامران جو مکالمہ کانفرنس کراچی کی کمپیئر تھی، حافظ صاحب سے مدد لے رہی تھی اور انھوں نے اسے سارے مقررین کا تعارف لکھوایا۔ میں ڈیورنڈ لائن کے قیدی فیض الله خان کے انٹرویو کے سوالات لے کر ان کا سر کھا رہی تھی بلکہ حافظ صاحب نے خود فیض اللہ صاحب کو بلوا کر ان سے سوالات لکھوا دیے۔ ماریہ میرا ساتھ بھی دے رہی تھی اور حافظ صاحب کی تقریر کے نکات بھی لکھ رہی تھی جو ثمینہ رشید اور احمد رضوان صاحب کے پہلے سے دیے ہوئے نکات میں شامل کیے گئے۔ آخرِ کار سب انتظامات ہونے کے بعد انعام رانا کے اصرار پر ہم دوستوں نے کانفرنس شروع کر دی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز جناب عبد اللہ رحمانی کی تلاوت سے ہوا جس کے بعد جناب معراج دوحہ نے خوبصورت آواز میں نعتیہ کلام پڑھا۔ کانفرنس کے صدر سید انور محمود تھے۔ ان کا شکریہ ادا نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ وہ شدید علیل تھے لیکن اس کے باوجود کانفرنس میں تشریف لائے۔ اور نہ صرف تشریف لائے بلکہ خوبصورت تقریر کی اور مکالمہ کے مقاصد کو سراہا۔ کانفرنس کے اختتام تک وہ ہمارے ساتھ موجود رہے۔ مزمل احمد فیروزی کا ذکر کیے بغیر آگے چلنا ممکن نہیں۔ اس نے کمپئیرنگ سنبھال کر پروفیشنل کمپیئر کا رول ادا کیا۔

حافظ صفوان کی تقریر مختلف تھی۔ وہ مکالمہ ویب سائٹ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے مخاطب ہوئے۔ مکالمہ کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یکم ستمبر 2016 سے شروع ہونے والے مکالمہ نے 300 سے زائد تحریریں شائع کی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مالی منفعت نہ مکالمہ کا نصب العین تھا نہ ان شاء اللہ ہوگا، یہ تو رانا صاحب کی اپنی جیب سے پیسہ لگا کر ایک ایسے معاشرے کا خواب پورا کرنے کی لگن ہے جہاں سب برابری کی بنیاد پر یکساں حقوق کے حامل ہوں۔ مکالمہ میں شائع ہونے کے لیے معیار ذاتی پسند ناپسند نہیں ہے بلکہ ہر تحریر کے لیے ایڈیٹوریل بورڈ اشاعت یا معذرت کا فیصلہ کرتا ہے۔ انھوں نے ہنستے ہوئے بتایا کہ ایڈیٹرز کو ایسی تحریر بھی ایڈٹ کرنا پڑ جاتی ہے جو ان کے کسی مخالف نے لکھی ہو۔ مکالمے کو فروغ دینے کے لیے خود کو سب سے پہلے پیش کیا۔ مکالمہ ویب سائٹ پر ان کی پالیسی تقریر ان لوگوں کے لیے بہت رہنمائی کا سامان رکھتی تھی جو نئے لکھنے والے ہیں اور مکالمہ ویب سائٹ سے پروفیشنل کیریر دیکھ رہے ہیں۔ ویب سائٹس کے بڑھتے ہوئے ہجوم میں مکالمہ ویب سائٹ کی ضرورت اور مقاصد کو انھوں نے اچھے سے سمجھایا اور لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے ازخود جواب دیے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مکالمہ کس کو کس سے کرنا ہے اور مکالمے کا موضوع کیا ہونا چاہیے۔
مدیر اردو لغت بورڈ جناب عقیل عباس جعفری مکالمہ کانفرنس کراچی کے مہمانِ خصوصی تھے۔ جب انھیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا گیا تو کہنے لگے کہ میں تحقیق کر سکتا ہوں، تحریریں مرتب کر سکتا ہوں، لکھ سکتا ہوں، لیکن اگر مجھے تقریر کرنے کو کہا جائے تو مشکل میں گرفتار ہو جاتا ہوں۔ ان کی بیگم امِ رباب بھی کانفرنس کا حصہ تھیں جو ہماری محبت کا مرکز بنی رہیں۔
مبشر علی زیدی اس دور میں بہت زیادہ پڑھے جانے والے لکھاری ہیں۔ کم لوگ ہوں گے جو صبح اٹھتے ہی 100 لفظوں کی کہانی پڑھنے کے عادی نہ ہوں۔ ویسے تو مکالمہ کانفرنس میں انھیں انٹرویو کے واسطے بلایا گیا تھا لیکن جب انعام کو پہنچتے پہنچتے 3:30 سے اوپر وقت ہوا اور اس نے اطلاع دی کہ وہ 4 بجے پہنچے گا تو مبشر صاحب سے درخواست کی گئی کہ وہ حاضرین سے خطاب کریں۔ ہلکے پھلکے انداز میں انھوں نے نفیس گفتگو کی۔ ہنسایا بھی خوب۔ ابھی مبشر بھائی اپنی کرسی پر واپس پہنچے ہی تھے کہ ماریہ اقبال نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ انعام آگئے۔
جیسے ہی انعام ہال میں داخل ہوا، اس کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ لوگ اس سے کتنی محبت کرتے ہیں، یہ ان کی آنکھوں میں دیکھا جا سکتا تھا۔ اور انعام ان محبتوں کا کتنا ممنون ہے، یہ اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں۔
انعام جب ڈائس پر آیا تو اس نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔ 24 دسمبر سے جو مسائل شروع ہوئے، اس پر ہلکے پھلکے انداز میں بات کی۔ مکالمے کی ضرورت اور اہمیت پر بات کی۔ اس نے کہا کہ 60 فیصد فنکشن میرے بغیر ہو چکا ہے، اس کا مطلب ہے کہ مکالمہ میں نہیں ہوں، آپ سب لوگ ہیں۔ سارا ہال اس کا ہم آواز تھا۔
لالہ صحرائی سبھی کے پسندیدہ تھے۔ ہنسی ہنسی میں تقریر شروع کی۔ سنجیدہ ہوئے ہی تھے کہ اندازہ ہوا کہ وقت کی کمی آڑے آگئی۔ مجھ سمیت بہت سے دوست انھیں پھر سننا چاہیں گے۔ انعام کو اس کے لیے موقع نکالنا ہوگا۔
انٹرویو سیشن شروع ہوا۔ پہلا انٹرویو میں نے یعنی آمنہ احسن نے کیا۔ یہ انٹرویو مشہور صحافی اور اب ایک عدد کتاب کے مصنف فیض الله خان کا تھا۔ میں نے انھیں بہت انسان دوست پایا۔ یہ انٹرویو کم اور ٹیبل ٹاک زیادہ تھی، جیسے دو دوستوں کی گفتگو ہو۔ انٹرویو میں حاضرین نے بھی سوالات کیے جن کا فیض الله نے بہت خوبصورتی اور تحمل سے جواب دیا۔
پھر انعام رانا نے مبشر علی زیدی کا انٹرویو لیا۔ مبشر بھائی کے خاکے میں بھی لکھ چکی ہوں کہ وہ بات کرتے کرتے بھی کہانی بنا لیتے ہیں اور انھوں نے انٹرویو میں بھی ایسا ہی کیا۔ ان کا کہا ایک ایک لفظ سننے لائق تھا۔
پھر اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا اور انعام رانا کو انٹرویو کے لیے بٹھایا گیا۔ انٹرویو لینے والے عارف خٹک تھے۔ اس انٹرویو کا مقصد دراصل ماحول کو ہلکا کرنا تھا، اور عارف خٹک اور انعام رانا اس میں کامیاب رہے۔
6:30 پر انٹرویو سیشن ختم ہوا اور چائے اور سموسوں سے دوستوں کی تواضع کی گئی۔ پچھلی رات کی جاگی اور صبح سے ٹینشن والے ماحول کے درپیش کچھ کھا پی نہ سکنے والی مکالمہ کی پوری ٹیم نے چائے کی طرف رجوع کیا۔
مکالمہ نے ایک نیا اور منفرد کام یہ کیا کہ مکالمہ ویب سائٹ پر چھپنے والی معروف اور اچھی تحریروں کا ایک میگزین شائع کیا ہے۔ یہ میگزین دوستوں کو دیے گئے اور بہت سارے دوستوں نے انعام رانا، حافظ صفوان اور باقی لکھنے والوں سے اس میگزین پر آٹوگراف بھی لیے۔
یہاں کچھ دوستوں کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے۔ کعب اسامہ اور خوش بخت کا، اور بہت سے اور دوستوں کا جنھوں نے مکالمہ کانفرنس کراچی کی عکس بندی کی اور بہت خوبصورتی سے کی۔ کعب اور خوش بخت نے 5 گھنٹے بلاتعطل کیمرہ سنبھالے رکھا۔
حافظ صفوان، عارف خٹک اور علی بابا (غیور علی خاں) کا جو ہر لمحہ ہال کے تمام تر مسائل کو خاموشی سے حل کرتے رہے، محبت سے ہماری غلطیوں کی درستی کرتے رہے، اچھائیوں کو سراہتے رہے اور خندہ پیشانی سے ہمارا حوصلہ بڑھاتے رہے۔
اس کانفرنس میں غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی اور کمیاں بھی رہ گئی ہوں گی، لیکن اس کا مقصد دوستوں کے ساتھ مل بیٹھنا تھا، بات کرکے اختلافات دور کرنا تھا۔ اور میرے خیال سے یہ مقصد کافی حد تک پورا ہوا۔
امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا اور ہم پھر مل بیٹھیں گے، اور مکالمے کے ذریعے اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

Avatar
آمنہ احسن
کتابیں اور چہرے پڑھنے کا شوق ہے ... معاملات کو بات کر کے حل کرنے پر یقین رکھتی ہوں ....

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *