سفر جمال پر تبصرہ۔۔۔عبدالغنی محمدی

پروفیسرمیاں انعام الرحمن صاحب  کی کتاب ” سفر جمال ” مطالعہ میں رہی  ۔ سیرت النبی ﷺ  میں سے واقعہ ہجرت کی مختلف پرتوں کو انہوں نے ایسے انداز میں کھولا ہے جن پر اس اندازمیں بہت کم روشنی ڈالی گئی  ہے ۔ کتاب کے آغاز میں سیرت نگاری کے بیش قیمتی اصولوں  کا  ذکر کیاگیا ہے ۔ میاں صاحب کاانداز واقعاتی کی بجائے تجزیاتی ہے ، اس تجزیہ میں بسااوقات محسوس ہوتاہے کہ لفاظی سے کام لیا جارہا ہے لیکن بہت جگہوں پر ایسے قیمتی نکات ملتے ہیں کہ بندہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا ۔

سیرت نگاری اور سیرت کی تفہیم کے اصولوں میں وہ ذکر کرتے ہیں کہ رسول اللہ کی تشریعی  حیثیت کے ساتھ ایک بشری حیثیت بھی تھی ، اس بشری حیثیت کو تشریعی حیثیت کی اطاعت ضروری تھی اس لئے آپ کی زندگی میں  فوق البشر اور سراجا منیرا ہوکر بھی عام بشر کے لئے اسوہ حسنہ ہیں ۔ آپ ﷺ کی معاشی و ازدواجی زندگی  اس حوالے سے دیکھنے کے لائق ہے کہ آپ ﷺ نے کس احسن انداز میں اس کے تقاضوں کو نبھایا ۔ ایک بہت اہم اصول یہ ذکرکرتے ہیں کہ قرآن کی زمانی ترتیب قائم نہیں رہی اور نہ ہی کسی کو معلوم ہے اور ایسا اس لئے ہے کہ قرآن تمام کا تمام  رہتے زمانوں تک  واجب الاتباع ہے ، اسی طرح نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں بھی مکی و مدنی کی کوئی تفریق نہیں ہر دور سے یکساں حیثیت میں فائدہ اٹھایاجائے گا ۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ہجرت نبوی  ﷺ میں شخصی و گروہی عزم کی قابل رشک مثالیں سامنے آتی ہیں ، رسول اللہ غار حرا میں شخصی عزم کو مضبوط کرتے رہے، پھر مکہ کے اندر مشکلات و مصائب سے بھرپور زندگی نے شخصی و گروہی عزم کو ایسا مضبوط کردیا کہ جو ایک مثالی ریاست اور امت وسط کی بنیاد ڈال سکے ۔ اس عزم کی  تربیت ہجرت حبشہ سے کی گئی اور بالآخر مدینہ کی طرف ہجرت کی گئی  اور ایک ایسی امت کی بنیاد ڈالی گئی جس کو شہادۃ علی الناس کا فریضہ سر انجام دینا تھا ۔

یہ ہجرت صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ روحانی ہجرت تھی اور انسان کے مسکن ا صلی جنت جس سے انسان نے دنیا کی طرف ہجرت کی اس کی طرف واپسی کی تیاریوں  پر بھی مشتمل تھی ۔ا س لئے روحانی اور اخلاقی لحاظ سے مسلمانوں کو بلند ترین تربیت سے گزارا گیا ، اسلام  کا عقائد ، عبادات اور اخلاقیات کا سارا نظام اسی کے گرد گھومتا ہے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کتاب کا انتہائی اہم پہلو مکی  اور مدنی سماج کی تفہیم ہے ۔ مکہ ایک تجارتی شہر تھا اور مدینہ ایک زرعی شہر تھا ۔ مکہ کے اندر قبائلی سسٹم تھا اور ایک ہی خاندان کے لوگ تھے ۔ رسول اللہ نے اپنے اخلاق اور دعوت کے ذریعے مکی سماج کو اپیل کیا ، اس کے بعد معاشرتی مقاطعہ ، ہجرت حبشہ و مدینہ ، مختلف جنگیں ، صلح حدیبیہ یہ سب ایسی چیزیں تھیں جنہوں  نے مکی سماج پر بہت گہرا اثر ڈالا ۔ اب جبکہ انہوں نے اسلام قبول کیا تو اس کے بعد ادنی درجہ کی سیاسی بغاوتیں تو شاید بعد میں ہوئی ہوں لیکن مذہبی عقائد میں کوئی تزلزل نہیں آیا ۔ اسی طرح مدنی سماج جس میں مختلف قبائل اور مذاہب کے افراد تھے اس میں مواخات مدینہ اور میثاق مدینہ میں اسلامی ریاست کی بنیادیں چھپی ہوئیں ،لیکن اسلامی ریاست کی تکمیل رسول اللہ کے مکمل دور میں ہوتی رہی اس لئے اس دوران جو ریاست تھی ایک عبوری ریاست تھی ۔ مدینہ کی سیاسی اہمیت کے ساتھ مذہبی طور پر ابھی اہم قرار دیا گیا ، اس کوبھی مکہ کی طرح حرم اور  روحانی  و  جسمانی ہر دولحاظ سے پاک و شفایا ب قراردیا گیا ۔  مکہ کو مولد نبی ہونے کی شان حاصل تھی تو مدینہ کو پاک پیغمبر ﷺ نے مسکن  کی  اہمیت حاصل ہوئی اور یہیں پاک پیغمبر ﷺ نے وفات پائی ۔  حبشہ کے عیسائی سماج کو بھی موضوع بنایاگیا ہے جس میں دعوتی  نقطہ نظر سے دنیا کو اپیل کیا گیا اور مسلمانوں کے ایک محفوظ ٹھکانےکے طور پرا س کو دیکھا گیا ۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

عبدالغنی
پی ایچ ڈی اسکالر پنجاب یونیورسٹی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply