سفر نامہ: پنڈی سے کوہسار تک۔۔حسان عالمگیر عباسی

ویسے تو مومنین ہونے کے اعتبار سے ہمارے لیے پیغام ہے کہ ہمیں مسافروں کی طرح زندگی بسر کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد میں مومن مسافروں کی کمی ہی نے دراصل اس ‘حیات الدنیا’ کو مسائلستان بنا دیا ہے۔ جب اک عارضی شے یا زیب و زینت کو ‘کلیت’ کا درجہ دے دیا جائے تو ‘کلیت’ (آخرت) کی حیثیت محض ایک ‘جزو’ کی سی رہ جاتی ہے جو اس سوچ سے جڑی غلط فہمی ہوتی ہے کہ ‘دیکھا جائے گا۔’ یہ وہ اک مسافر کے کہے کلمات تھے جو سفر کے آغاز سے پہلے سنائی دیے۔ یوں کہیں تو زیادہ بہتر ہو گا کہ یہ وہ اطوار تھے جو دکھائی دیے۔

مجھے بتایا گیا کہ میں صدر راولپنڈی پہنچ جاؤں جسے ‘میٹنگ پوائنٹ’ کہا گیا۔ استقبال میں نے کرنا تھا اور مستقبل کی منصوبہ بندی اصغر صاحب کے ذمہ تھی۔ البتہ ذہن میں یہی چل رہا تھا کہ منزل ‘ملکہ کوہسار’ کی چوٹیاں ہیں۔ پہنچتے ہی دیکھتا ہوں کہ اصغر صاحب کا نام تھا اور نہ ہی نشان۔ پتہ نہیں آسمان نے اچکا یا زمین نے نگلا ،بہرحال فون کی تھرتھراہٹ (وائبریشن) محسوس ہونے لگی۔ فون نکالا تو اصغر حمید صاحب کا فوٹو نظر آیا ،سمجھ گیا کہ کہیں گے کہ عقب میں مسجد میں نماز کا قیام فرما رہے ہیں۔ لیکن کہنے لگے کہ وہ اپنے کسی عزیز کے ہاں کھانے کی  میز پر میرے منتظر ہیں۔

جو مستقبل کی منصوبہ سازی اصغر صاحب کے ذمہ تھی وہ پانی میں ڈوبتی نظر آنے لگی۔ وجہ بتائی گئی کہ مسلسل تیز بارش ،ٹھنڈ ،بھوک ،سامنے رکھے گرم دال چاول اور رات کی تاریکی اس بات کی اجازت نہیں دے رہی کہ یہ سب   چھوڑ کر صدر آیا جائے اور ویسے بھی منتظر شخص کوئی ‘صدر’ تھوڑا ہی تھا لہذا اب استقبال کے ساتھ ساتھ مستقل کے حوالے سے فیصلہ سازی بھی مجھے ہی کرنا تھی۔ میں نے کہا کہ ان کے پاس صرف آدھا گھنٹہ  ہے اور ضد پہ اڑا رہا کہ انھوں نے صدر پہنچنا ہے۔ آدھا گھنٹہ گزرتے ہی آپ پہنچ گئے۔ اب مجھے وہاں نہ پاکر حیران رہ گئے۔ مسلسل کالز کے بعد میں نمودار ہوا تو ان کی غصیلی آواز دھیمے ‘السلام علیکم’ میں تبدیل ہو گئی اور بغل گیر ہونے لگے۔ بغل گیری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کان میں کہا کہ منزل کوسوں دور ہے لہذا وقت کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ کہنے لگے کہ مسلسل تیز بارش ،اور اندھی رات میں آندھی و طوفان ہمارے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ میں نے اقبال رح کی یاد دلائی جو فرماتے تھے :

ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

دراجة النار گھماتے چابی گھمائی ،اوڑھنی اوڑھتے ہی اڑتا بائیک لیے نکل پڑے۔ اصغر صاحب افنان کو فون گھماتے کہنے لگے کہ اک مزید چادر لے لی جائے۔ پھر کہنے لگے کہ وقت کو ضائع ہونے سے بچائے جانے کا تقاضا ہے کہ بائیک اب مری ہی روکی  جائے۔ ساتھ ہی فرمان جاری ہوا کہ ‘زیادہ سے زیادہ کیا ہو سکے گا؟ بھیگنا بھی کوئی عمل کا توڑ ہے؟ لہذا بھیگتے رہو اور دراجة بھگاتے رہو۔’ جہاں تک مجھے یاد پڑ رہا ہے ہم نے سفر کی دعا بھی نہیں پڑھی تھی۔ ہوسکتا ہے سر نے دل میں پڑھی ہو لیکن مجھے بھی تو بتانا چاہیے تھا۔

پہیے چلتے چلاتے ہمیں چکوٹری پل تلے لے گئے۔ رات کا اندھیرا تھا ،بارش تھمنے لگی تھی اور گیارہ بج رہے تھے۔ موٹروے چکوٹری پل کے نیچے محسوس ہونے لگا کہ جیسے پہیے مزید ساتھ دینے سے کترا رہے ہیں۔ وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا رہا یعنی ایسی جگہ پہ بائیک قسمت کے ہاتھوں بک گیا جہاں گالی بکنے کے علاوہ کوئی صورت نظر نہیں آتی لیکن الحمدللّٰہ اپنے محترم معلم کی عزت کی  خاطر زبان کسی بھی قسم کی گالم گلوچ پر نہیں اُتری۔ اوپر دیکھا تو تاریکی ،بائیں دیکھا تو جھاڑیاں ،دائیں دیکھا تو ‘شاہراہیں  ،خاموشاں’ ،نیچے دیکھا تو ‘دراجة النار’ کی بے بسی اور پیچھے دیکھا تو اصغر صاحب سر پکڑے بیٹھے تھے۔ کہنے لگے کہ جو ہوا سو ہوا ،اہم یہ ہے کہ اب کیا کرنا ہے۔

دور دراز ایک چمکتی روشنی دکھائی دی۔ آواز دی تو مقامی شخص دوڑتا آیا ،کہنے لگا کہ بہتر ہے واپسی کی راہ لی جائے کیونکہ پنڈی سے زیادہ دوری پر ہم نہیں تھے۔ اس رائے کو ردی میں ڈالا اور آگے بڑھا ،سامنے لکھا تھا کہ ‘تین سو دس’ پہ کال کر کے خدمات حاصل کریں۔ مقامی فرد کو واپس بلایا اور درخواست کی کہ موٹروے والے بھائی کو بتلائیں کہ ہم کہاں کس مصیبت کو گلے لگائے بیٹھے ہیں۔ ایسا کیا گیا اور یقین دہانیاں کروائی گئیں کہ وہ خدمت کی  خاطر ہمارے پاس پہنچ رہے ہیں۔

دیر ہونے لگی تھی۔ بہت دیر ہوگئی۔۔۔! اصغر صاحب نے کہا کہ وہ کوئی اور ‘جگاڑ’ لگانے والے ہیں۔ ایسے میں ایک سوزوکی والا آیا اور مان گیا کہ چند روپوں کے بدلے وہ ہمیں ایسی جگہ پہنچا سکتا ہے جہاں مزید روپوں کے بدلے ان کے پہیوں میں قوت پیدا ہو جائے گی۔ اصغر صاحب مان گئے لیکن میں نہیں مانا۔ اصغر صاحب نے منایا ،تب بھی نہیں مانا۔ بات روپوں کی نہیں تھی ،دیانت داری کی تھی ،موٹروے والے بھائی کو آواز دے رکھی تھی ،اگر وہ چکوٹری پل تلے پہنچ کر ہمیں آواز دیتا اور ہم نہ ہوتے تو الله کی آواز کتنی غصیلی ہو جاتی نا؟ لہذا میں ڈٹا رہا۔۔۔! ویسے میری یہ سوچ بھی وزنی تھی کہ بھائی صاحب ناجائز مانگنے پہ تلے ہوئے تھے ،نوٹ کوئی درختوں کے پتے تھوڑے ہی ہیں!!

اصغر صاحب کو کہا کہ وہ دائیں رہیں اور میں بائیں جانب چلا جاتا ہوں۔ کیونکہ مدد کسی بھی طرف سے متوقع تھی۔ اکیلے پن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ پینے لگا۔ پینے کے بعد بھوک لگنے لگی۔ دوبارہ جیب میں ہاتھ ڈالا۔ اب کی بار بیگ کی جیب میں ہاتھ تھا۔ ہاتھ میں ایک ڈبہ تھا اور ڈبے میں مٹھائی تھی۔ مٹھائی کوئی عام نہیں تھی بلکہ ایک خاص بندے یعنی اصغر صاحب کی طرف سے دیا گیا خاص تحفہ تھا جسے عرف عام میں ‘ڈھوڈا’ کہتے ہیں۔ وہ خوشاب سے میرے لیے لائے تھے لیکن طے یہ پایا تھا کہ وہ کسی ہوٹل میں چائے کے ساتھ کھایا جائے گا۔ اس لیے ان کو پیشکش کیے بغیر چھپ کر پیٹ میں ناچتے چوہوں کو آرام دیا۔ ابھی منہ ہلنا بندھ ہی نہیں ہوا تھا کہ رنگین روشنیوں والی گاڑی ‘پیپنی’ بجاتے اصغر صاحب کے پاس رکی۔ میں بھاگتے ہوئے پہنچا تو ‘مسیر’ جی پہاڑی میں فرمانے لگے کہ “ہاں وے جاکتو ،اے کڑا ٹیم ہے ،آپوں وی زندگی نی گزارنے تے اساں نی زندگی وی عذاب ایچ بائی وی ہے ،چلو موٹر سیکل کی گڈی وچ سٹو تے پچھے بئی جلو۔’ میں نے کہا تعارف کراتا چلوں اور کہنے لگا کہ میں اوسیاہ سے ہوں۔ کہنے لگے ‘اوے راجیا ،اوسیاہ تے نہیں چھوڑی سکنا نا میں ،اے نال ای گچھی لواساں ای یاں جتھیں مکینکاں نی دکاناں ای یاں۔’ میں نے کہا کہ راجہ جی  گڈی چھکی جولو ،تے پچھے مڑی تے وی نہ دکھیا۔ ہم شدید سردی میں دانتوں پہ دانت مار رہے تھے۔ کافی دیر بعد ہم ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ،جہاں مکینک اور ہوٹل دونوں سہولیات میسر تھیں۔ مجھے ڈرائیور بھائی نے بلایا اور میں سوچنے لگا کہ بھائی کا بھاؤ کیا ہوگا! اللّٰہ خیر ہی کرے! بہرحال وہ رخصت ہو گئے۔ سر نے پوچھا کہ خدمت تھی یا کچھ وصول کر رخصت ہوئے؟ کہا کہ ‘عین خدمت تھی۔’ سر کو یہاں اندازہ ہوا کہ محصولات کی ادائیگی کیوں ضروری ہے۔

ٹائر کو راجہ جی قوت بخشنے لگے۔ اسی اثناء میں ہم چائے پینے لگے۔ سر نے کہا کہ ‘مٹھ-یائی’ تو نکالیں۔ میں نے پیش کردی اور پہاڑوں کے بیچ ،ٹھنڈی ہواؤں میں ،گرم چائے کے ساتھ مٹھائی (ڈھوڈا) کھانے لگے۔ ٹھوڑی سی مٹھائی چھوڑ دی۔ یہ کسی اور کا رزق تھا غالبًا۔ ہم باہر نکلے تو دیکھا کہ مسیر جی نے ابھی تک موٹر سائیکل کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔ بڑی تپ چڑھنے لگی لیکن پھر سوچا کہ راجہ جی اپنے ہی گرائیں ہیں تو ‘یہ تو ہو گا۔’ بہرحال آدھ گھنٹہ مزید منتظر رہے اور پھر سر نے اردو میں پوچھا کہ کتنی اجرت ہے۔ ناجائز بات کر ہی رہے تھے کہ  میں آ دھمکا اور پہاڑی وچ آخیا کہ مزدور نی مزدوری پسینہ خشک ہون توں پہلے دینی چائی نی لیکن افسوس نے نال اس یخ ٹھنڈ وچ تساں نا پسینہ ای نہیں نظر آریا اے ،لہذا چونیاں تے دور ہیک چونی وی نہیں دینی چائینی ،آخنا کہ جڑے جائز بننے او دئی شوڑو ،تساں ویسے وی اپنے گرائیں یو۔ جائز دو سو بننے ایسے جڑے او پنج سو منگنا سا۔

ہمیں بہت دیر ہونے لگی تھی اور ڈر تھا کہ کہیں سویر ہی نہ ہو جائے۔ ہم بڑھنے لگے۔ سر نے کہا میں شرافت سے پیچھے آجاؤں۔ میں نے سر کو آگے جگہ دی اور بائیک چلانے کا نادر موقع عنایت کیا۔ پہاڑیوں میں غالباً پہلی دفعہ بائیک چلا رہے تھے۔ میکی ڈر ایسا کہ استاد جی ‘اٹ’ وچ نہ دئی مارن۔ بہرحال چلائی کھڑیا نے۔ ہم چلتے رہے۔ اک موڑ آیا۔ سامنے لکھا تھا “پی می این ٹو گرل’ اور ساتھ ایک ‘سبز مرچ’ جھلملا رہی تھی۔ سر کو کہا کہ کھانا یہاں ہی کھائیں گے اور پھر آگے نکلیں گے۔ ولید بھائی نے استقبال کیا ،سلام دعا ہوئی ،سر کا تعارف کروایا ،انھوں نے اپنا بتایا ،کاروبار کی چمک دمک سنائی اور کہنے لگے کہ یہ ہماری بھابی کی برکت کا نتیجہ ہے۔ ٹیرس پہ لے گئے ،کش نکالا ،دھند میں دھواں اڑانے لگے۔ آواز آئی کھانا تیار ہے ،خوب خاطر تواضع کی ،پیٹ بھرنے لگے ،چھت  پہ لے گئے ،تصاویر بنوائیں ،آواز آئی ،چائے منتظر ہے ،چائے پی ،ولید بھائی کو ڈھوڈا پیش کیا ،دعا فرمائی ،جماعت اور ن کے حوالے سے بات ہونے لگی ،جماعت کی اچھائیوں اور برائیوں پہ روشنی ڈالی ،اعتراف کیا کہ نواز شریف صاحب نے قاضی صاحب کو دھوکا دیا تھا ،شاہد خاقان عباسی کے لیے میں نے تعریفی کلمات ادا کیے (اپنا عباسی جو ہے) ،کہنے لگے کہ احسن اقبال بھی ٹھیک جارہا ہے ،کہا کہ جمعیت نے خوب تربیت کی ہے ،کراچی جماعت کا ذکر ہوا ،حماد المحمود عباسی صاحب کا ذکر ہوا اور ہم نے اجازت مانگی۔

اگلے آدھے گھنٹے میں ہم نے گھر کے گرم کمرے میں ہونا تھا۔ آدھا گھنٹہ گزرا تو ابھی ہم ‘کشمیری بازار’ تھے۔ اڑھائی بج رہے تھے۔ سر کی ہمت کو داد دینے ہی لگا تھا کہ ان کے صبر کا پیمانہ ہی لبریز ہو گیا۔ کہا کہ ان شاء اللہ اگلے موڑ پہ اپنا گھر ہے۔ کئی موڑ آئے لیکن جب گھر نہ آیا تو اصغر صاحب گرم ہونے لگے ،غصہ کیا ،اسی کشمکش میں بائیک کا بایاں انڈیکیٹر آن ہوا یعنی ہم ‘پڑاؤ’  پر پہنچ چکے تھے۔ جامع مسجد اوسیاہ دیکھ کر سر کا غصہ خوشی میں بدل گیا۔ پہنچتے ہی مبشر ماموں نے استقبال کیا۔ خاطر تواضع کے بعد میں انگیٹھی میں آگ سلگائے بیٹھا رہا۔ مبشر ماموں کے ساتھ گپ شپ ہوئی۔ بعد ازاں سر کے پاس آیا۔ سر نے کہا کہ نماز با جماعت ہو گی۔ ٹھنڈے پانی سے وضو فرمانے کے بعد ‘مغربین’ ادا کی۔ سونے لگے۔ صبح آذان کے وقت سر نے اٹھایا ،جماعت کروائی۔ قرآن کی تلاوت فرمانے لگے۔ میں تلاوت سنتے سنتے ہی سو گیا۔ آواز ہی اتنی پیاری تھی اوپر سے شیطان نے بھی حملہ کر دیا تھا۔ کچھ دیر بعد ناشتہ کیا۔ ظہر کے بعد سر نے بچوں کو ارد گرد پا کر تعارفی نشست کا اہتمام کیا۔ دریں اثنا میں اپنے کام نپٹانے نکل پڑا۔ واپس آیا اور شعر سنانے لگا :

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

سر سمجھ گئے کہ دبے الفاظ میں پنڈی واپسی کی بات ہو رہی ہے۔ مسلسل بارش ،پہلے سے کہیں تیز بارش ،ٹھنڈ اور گرم کمبل اس چیز کی اجازت نہیں دے رہے تھے کہ نکلا جائے۔ سر کہنے لگے کہ وہ ‘عقابی روح’ رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی منزل آسمانوں پہ ہے۔ جب ذکر کیا ‘موٹر سائیکل’ پہ واپسی ہے تو یہ بھی اقرار کر بیٹھے کہ وہ ‘جوان’ بھی نہیں ہیں۔ لہذا عصر کے بعد ہم ‘کیری’ میں روانہ ہو گئے۔ دراصل ذیشان بھائی کی شادی میں سر مدعو تھے۔ راستے میں ‘مری ضلع کوہسار’ کے امیر عتیق احمد عباسی صاحب کی عیادت کی اور جانب منزل رواں دواں ہونے لگے۔ سر سے ڈرائیور گپ شپ لگاتا رہا۔ ڈرائیور مری نا رہائشی ہوئی وی تے مری آلے لوکاں نی غیبتاں کرنا ریا ،سر وی دلچسپی کننے رہے۔۔۔! راستے میں چائے پی اور چل دیے۔ میں راول روڈ اتر گیا اور محترم شادی میں شرکت فرما کر اگلے روز ہی پشاور پہنچ گئے۔ شاید ‘چرسی تکہ’ میں آپ کے تلمیذ کی طرف سے دعوت ہونا تھی۔ پشاور سے ہوتے ہوئے جوہر آباد پہنچ گئے کیونکہ وہاں آپ نے بچوں ،جوانوں اور بزرگوں کو قرآن پڑھانا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *