• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ڈاکٹر اجمل نیازی اور ہماری اجتماعی بے حسی۔۔نازؔبٹ

ڈاکٹر اجمل نیازی اور ہماری اجتماعی بے حسی۔۔نازؔبٹ

زندگی عروج و زوال، بے بسی و بے حسی کی ایسی داستان ہے کہ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں تو ہمیں ہمارا اپنا وجود بے معنی لگنے لگے، یہ المیہ ہے ہمارے اس معاشرے کا کہ اک عمر اس ملک کے نام کردینے کے باوجود بے شمار اہل ِ قلم، اور فنون ِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے نامور احباب کو معاشرے کی بے حسی کی بھینٹ چڑھتے، بے بسی کی حالت میں دیکھا گیا، بے شمار مثالیں ہمارے سامنے ہیں
چژھتے سورج کے پجاری کا سا چلن رکھنے والے اس بے حس معاشرے میں ایک بیمار اور لاغز شخص کی حیثیت محض ایک فالتو پرزے کی سی ہو کر رہ جاتی ہے جوکہ اب ان کے کسی کام کا نہ ہو۔۔اور اس کی خدمات یکسر نظر انداز کردی جاتی ہیں۔

ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ ڈاکٹر اجمل نیازی محافل کی جان ہوا کرتے تھے اُن کے قلم کا طُوطی ہر جگہ بولتا تھا، ان کی آواز سارا زمانہ سنتا تھا اور آج ان کی اپنی آواز اپنے ہی کانوں تک رسائی نہیں دیتی، انہیں فون کریں، کان لگا کر بھی انکی بات سمجھنے کی کوشش کریں،تو سرگوشیوں کے سوا کچھ نہیں۔۔ وہ جو اپنی بزلہ سنجی برجستگی اور بات سے بات نکالنے کی عادت محافل کو کشت ِ زعفران بنا دیا کرتے تھے آج اپنی بات کی ترسیل نہیں کرپاتے۔اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے زندگی کی خوشیوں سے دور جاتے دیکھنا بہت بڑی اذیت ہے

یہ ضعیفی کیوں آتی ہے میرے مالک؟ اپنی والدہ کی شدید علالت پر یہ سوال میں  نے اپنے اللہ سے کیا۔۔”یہ ضعیفی کیوں آتی ہے آخر؟ اگر آتی بھی ہے تو ضعیفی اورعلالت کا یہ ظالم سنگم کیوں میرے مالک؟ ضعیفی تو پہلے ہی بڑی کڑی آزمائش ہے! آخر بچتا ہی کیا ہے بیماری سے مقابلہ کرنے کو؟ نہ ہمت نہ طاقت نہ قوت ِ مدافعت! اللہ جی ضعیفی دیتے ہیں تو طاقت اور صحت بھی تو دیجیے نا! یہی التجا آج ڈاکٹر اجمل نیازی کے لئے بھی ہے۔

نہایت وضع داراور مہمان نواز،بیگم رفعت نیازی سے بھی بہت محبت کا رشتہ ہے،ان کی آنکھوں سے چھلکتے آنسو دل چیرجاتے، انہوں نے نیازی صاحب کے علاج کی خاطربڑے سے بڑے  ہسپتال کا رُخ کیا،لاکھوں روپے ان کے علاج پر لگا دئیے کیونکہ ان کے لئے ڈاکٹر اجمل نیازی کی صحت اور زندگی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہونا تو یہ چاہیے  تھا کہ حکومت انکی مالی معاونت کرتی، ان کے علاج معالجے کی ہر بہترین سہولت خود مہیا کرتی کہ حکومتِ وقت پر قرض بھی تھااور فرض بھی، لیکن ایسا ہوا نہیں، یہاں سیاستدان تو علاج کی غرض سے ملک سے باہر بھجوادئے جاتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ اپنی ساری زندگی ملک و قوم کے لئے وقف کرنے والوں کے لئے یہاں کچھ نہیں۔

نفیس اور وضع دارڈاکٹر اجمل نیازی ایک بے باک نڈرر اور جری قلمکار ہیں،غیر جانبدار کالم نویس، نفع و نقصان کی پروا کیے بغیر حق سچ کی بات کرنے والے، کئی مواقع آئے قلم فروشی اور ضمیر فروشی کے لیکن نیازی صاحب نے اپنے قلم کی حُرمت پر کبھی آنچ نہیں آنے دی، وہ ایک یونیورسٹی ایک درسگاہ کی حیثیت رکھتے ہیں، ایک بہترین استاد، دوست نواز،محبتی شخصیت، بے شمار کالمز میں میری شاعری غزلیں نظمیں شامل کیں اپنے لفظوں کے سچے اور پنی بات پر قائم رہنے والی شخصیت یعنی قول کے پکے انسان، رکھ رکھاؤ، تہذیب، ایک انتہائی خودرار شخصیت کے مالک ہیں،میرے بیٹے سلمان طارق کے ایکسیڈنٹ کے بعد سی ایم ایچ اور بعد میں جناح اسپتال کی تین منزلہ سیڑھیاں چڑھ کر سلمان کی عیادت کوآیا کرتے تھے اور گھنٹوں دلجوئی کرتے ان کی والدہ کافی عرصہ علیل رہیں اور خالق ِ حقیقی سے جاملیں، تعزیت کے لئے گئے توزیادہ رنجیدہ نہ تھے،کہنے لگے کہ پچانوے سال انکی عمر تھی جانا ہی تھا، اس کے برعکس ان کے بھائی کی دائمی جدائی پر میں نے انہیں آنسوؤں سے روتے دیکھا، بھائی سے محبت کا یہ حال تھا اُن کی جدائی کے غم میں کہ خود بستر سے لگ گئے، کہتے تھے میرا بھائی نہیں میرا باپ چلا گیا انکی بیگم رفعت نیازی کے آنسو بھی نہیں تھمتے تھے۔

میں اور سلمان طارق عیادت کو گئے تو نیازی صاحب نے اشارے سے اپنی بیگم سے اپنا سیل فون مانگا، میں نے رفعت آپا سے سیل فون لے کر نیازی صاحب کو دیا، انہوں نے سیل فون سلمان طارق کے ہاتھ میں تھمایا اورسرگوشی کی کہ نمبر ملاؤ، سلمان کے پوچھنے پر کہ کس کا نمبرملاؤں کہنے لگے ”کسی کو بھی ملا دو”، سلمان نے کونٹیکٹ لسٹ میں سے نام پڑھ کر سنانے شروع کردئیے، جو بھی نام آتا وہ یہی کہتے” ہاں کسی کو بھی ملادو ”
”کسی کو بھی ملادو” بظاہر ایک چھوٹی سی بات لیکن ان کے الفاظ سے نفسیاتی کیفیت پر غور کریں تو دل تڑپ جاتا ہے۔۔معاشرے کی بے حسی اور دوستوں کی بے اعتنائی کے شکار، آنکھوں میں دوستوں کے لئے انتظار، تڑپ اور گہری اداسی لئے ڈاکٹر اجمل نیازی جیسے تنہائی اور بے بسی کی مجسم تصویر ! انہیں دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ زندگی انتظار، تنہائی، اداسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں۔۔محبت سے لبریز انسان کو اس حال میں دیکھ کردل کٹتا ہے۔

آج بھی فون پر نیازی صاحب کی سرگوشیاں ہی سنائی دیں، رفعت آپا انہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر جارہی تھیں،معاشرے کی بے اعتنائی پر رنجیدہ۔۔ “حیرت ہوتی ہے نازکہ اللہ جانے ہمارے ماں باپ کس طرح گھر بھی دیکھتے تھے، تمام معاملات بھی، رشتہ داریاں بھی، ان کے پاس پھر بھی وقت بچ جاتا تھا،اب وقت ہی نہیں ہوتا کسی کے پاس ”
ان کی اس بات پر مجھے ڈاکٹر اجمل نیازی ہی کے دو اشعار یاد آگئے
سب کھیلتے ہیں آنکھ مچولی مگر یہاں
میں چھُپ گیا ہوں کوئی مجھے ڈھونڈتا نہیں
اجمل ہوں وسطِ شہر میں اُجڑا ہوا مکان
پاس آکے لمحہ بھر بھی کوئی بیٹھتا نہیں

اس تکلیف دہ وقت کو گزر ہی جانا ہے، ڈاکٹر اجمل نیازی اک زندہ دل،بہادراور جی دارشخصیت ہیں، اللہ کی رحمت سے وہ جلد صحتیاب ہو کر ہم سب کے درمیان جلوہ افروز ہوں گے، وہ خود ہی تو ” پچھلے پہر کی خاموشی ” میں کہتے ہیں

عہد ِ غفلت میں مجھے مِثل ِ سحر بھیجا گیا
دیر تک سوئے ہوئے لوگوں گے گھر بھیجا گیا

سو ہمیں انتظار ہے ڈاکٹر اجمل نیازی کی مکمل صحتیابی کا ،ہم منتظر ہیں کہ وہ اک بار پھر اپنے نوک ِ خامہ سے بہتے روشن بُراق لفظوں سے چاروں طرف اجالا کردیں، سحر  کردیں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *