• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • نئی نو آبادیات کا تازہ ترین فکری تناظراور متوقع مباحث۔۔(دوسرا ،آخری حصّہ )احمد سہیل

نئی نو آبادیات کا تازہ ترین فکری تناظراور متوقع مباحث۔۔(دوسرا ،آخری حصّہ )احمد سہیل

اردو غزل میں ‘سیاست اور غزل کے مابین اشارے کی صفتِ مشترک (۱۴) مزاحمتی بیانیے کے اظہار میں بہت ممدو  ثابت ہوئی ہے ۔ لہذا نو آبادیاتی دور میں عتاب شاہی سے بچتے ہوئے شعرا نے بالخصوص غزلیہ کرداروں کی معنویاتی قلب ماہیت کرتے ہوئے اپنے سماجی فرائض نبھائے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور کی غزل اپنے عمومی بیانیے کے لحاظ سے مغرب کو مرکوز ہے ۔ یہاں ہمیں حسن و عشق کی غیر روایتی وارداتیں ، بعض  سے گریز اور عاشق و معشوق کی غیر معمولی باتیں اور گھاتیں سننے دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مثلاً نو آبادیاتی معشوق سے متعلق یہ اشعار دیکھیے :

کفار فرنگ کو دیا ہے

tripako tours pakistan

تجھ زلف نے درس کافری کا

(کلیاتِ ولی ، ص ۹۴)

سانو رخسار اوپر کھول کر زلفوں کے تئیں

ہند میں کافر نے عالم کو کیا قیدِ فرنگ

(دیوان زادہ، ص ۸)

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں

(مہتاب ِ داغ، ص ۱۸۳)

تونے ایسے بگاڑ ڈالے ہیں

ایک کی ایک سے نہیں بنتی

(یادگار ِ داغ، ص ۲۰۱)

تیار رہتی ہیں صفِ مژگاں کی پلٹنیں

رخسار یار ہے کہ جزیرہ فرنگ کا

(کلیاتِ آتش، ص ۲۲۰)

یہ نہ سمجھے اور ہی شاطر نے شہ دی تھی انھیں

زعم میں اپنے سلاطین آپ کو شَہ کر گئے

(دیوان درد، ص ۷۵۔۔۔۔ { محمد روف، “اردو غزل کے روایتی کردار، نو آبادیاتی تناظر میں”، شمارہ ۵, تحقیق وتنقید, غزل تنقید ۱۵ اپریل،اردو ریسرچ جرنل}

دوسری جنگ عظیم کے بعد نو آبادیات کے نام سے ایک نئی سامراجی اصطلاح وجود میں آئی۔ نو آبادیات ایک ایسا سفاک اور استبدادی رویہ ہوتا ہے جس کے تحت طاقتور ممالک چھوٹے اور کمزور علاقوں کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیتے ہیں۔ ان کا سیاسی، معاشی و ثقافتی، ہر طرح سے استحصال کیا جاتا ہے۔ نو آبادیاتی تنقید اور فکر کو عام انسان تک پہنچانے میں مؤرخین اور خاص طور پر ادیبوں کا بہت بڑا اور اہم کردار ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہی کی وجہ سے نو آبادیاتی نظریات، ان کی باقیات اور ان کے ثقافتی اور سازشی ہتھکنڈوں سے عام قاری کو شناسائی ہوئی۔

نو آبادیاتی قوتوں اور مقامی لوگوں کے تصادم سے جو نظریہ پیدا ہوا اسے آئیڈیالوجی کا نام دیا گیا۔ اور اسی تصادم کے نتیجے میں تقریباً 50 کی دہائی میں ’’تیسری دنیا‘‘ کی ایک نئی اصطلاح وجود میں آئی۔

نو آبادیات اور استعماریت لازم و ملزوم ہیں، کیونکہ استعماریت وہ تصور ہے جسے نو آبادیاتی نظام کے ذریعے روبہ عمل لایا جاتا ہے۔ نو آبادیاتی نظام کی ابتدا مصر اور یونان سے ہوئی۔ پھر ایک وقت میں روس، برطانیہ، فرانس اور ڈچ نو آبادیاتی قوتیں تھیں۔ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی آڑ میں انگریزوں نے اس کا آغاز کیا۔

جب انگریز اس خطے میں آئے تو اپنے مفادات کےلیے انہوں نے تین چیزوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا: روپیہ، مذہب اور جنس۔۔۔۔۔۔۔۔

غلام قادر ڈاکٹر حسن منظر کے افسانوں کا نو آبادیاتی تجزیہ” کرتے ہوئے لکھتے ہیں “تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمان نے جب بھی مار کھائی ہے، ان ہی تینوں کی وجہ سے کھائی ہے۔ یہ سوچ نسل در نسل سفر کرتی رہی۔ تقسیم کے بعد ایک نوزائیدہ ملک جو مذہب کی بنیاد ہی پر وجود میں آیا تھا، وہاں یہ سوچ ختم ہوجانی چاہیے تھی، لیکن بالادست طبقے میں یہ ختم نہیں ہوئی۔ ہم اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ ہم آزاد ہوگئے ہیں لیکن انگریز یا نو آبادیاتی قوتیں یہاں سے بظاہر جانے کے باوجود یہیں موجود اور ہم پر قابض ہیں۔

یہ چیز ڈاکٹر حسن منظر کے افسانوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ {ڈاکٹر حسن منظر کے افسانوں کا نو آبادیاتی تجزیہ”از غلام قادر جمعـء 28 جون 2019، ایکپرس نیوز ، لاہور}

۔۔۔ برصغیر کی تقسیم کے واقعات کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے اس پُرآشوب دور میں انسان سے روا رکھی جانے والی ناانصافی اور اسی کی مجبوری کا بہت گہری نظر سے مشاہدہ کیا ہے”۔ { ایکپریس نیوز، جمعہ ۲۸ جون ،۲۰۱۹}۔ ہندوستان کی تاریخ کے مطالعے سے آ شکار ہوتا ہے کہ نو آ بادیاتی نظام اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی اقتدارکے خلاف مزا حمت کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا لیکن انگریز نے ہندو مسلم تضادات اور سماجی و سیاسی استحصال سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور ہر مز احمت کو سختی سے کچلنے میں کامیاب ہوا۔ ابتدائی مزاحمتوں کا سلسلہ اٹھارہویں صدی کے اختتام سے لے کر انیسویں صدی کے وسط تک پھیلا ہوا ہے۔ اس حوالے سے تلنگانہ کی مزاحمتی تحریک ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے جو انگریز کی کالونیل جاگیر داری کے خلاف سخت ردِ عمل تھا۔ بنگال میں حاجی شریعت اللہ اور تیتو میر کا کاشتکاروں کی مدد سے ’’ فرائضی تحریک ‘‘کا آ غاز، سید احمد شہید کی جدو جہد، ۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی، ریشمی رومال کی تحریک اور عبید اللہ سندھی کی جدوجہد، تحریک ِ خلافت، عدم تعاون کی تحریک، غدر پارٹی کا قیام، بھگت سنگھ کی جدو جہد، خان عبدالغفار خان کی ’’ سرخ پوش ‘‘ یا ’’خدائی خدمت گار‘‘تحریک، راشٹریہ سیوک سنگ، کیمونسٹ پارٹی کی تحریک اور خاکسار تحریک اس امر کی واضح مثالیں ہیں۔ اگر غور کریں تو سیاسی سطح پر ابھرنے والی ان تحریکوں کے علاوہ یہاں کے تخلیق کاروں نے بھی اپنی تحریروں کے توسط سے نو آ بادیاتی نظام کے خلاف اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آ غاز میں ادب اور ادبی روایات نے شعوری اور لاشعوری طور پر مزاحمتی رویہ اختیار کیا۔ پریم چند، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، احمد ندیم قاسمی، جوش ملیح آ بادی، علی سردار جعفری، فیض احمد فیض اور سا حر لدھیانوی ایسے ادیب ہیں جنھوں نے سامراجی رویوں اور نو آبادیاتی نظام کی کج رویوں اور بے اعتدالیوں کو اپنی تخلیقات کا مو ضوع بنایا۔{ساحرلدھیانوی کی نظم ’’پرچھائیاں‘‘ کا نو آبادیاتی مطالعہ —- عبدالعزیز ملک،”انش، ۲۶ اپریل ۲۰۱۹۔ بلاگر}

“صفدر زیدی کا ناول ” چینی جو میٹھی نہ تھی“ نو آبادیاتی جبر کے تاریخی تناظر میں لکھا گیا ہے۔ یہ ناول پس کربیہ یا ناسٹلجیائی کیفیت اورنقل مکانی کے المیات کو فنکارانہ سیاق و انداز میں پیش کرتا ہے ۔اس ناول میں ثقافتی اور تہذیبی معاملات کا بشری اور انسانی تاریخ میں پنڈولم کی طرح ڈولتا ہوا فرد سامراج یا نوآبادیات کے کثیرُالملکی جبر سے دوچار ہے ، جس کل آج پر بھاری ہے۔ اس ناول کے منفرد اور اچھوتے ہونے کا انداز اس کے اصل بیانیے یعنی فرد، اجتماع اورنقل مکانی میں پوشیدہ ہے۔ ان کا افسانوی اسلوب و اظہار اردو میں نئے فکشن کی شعریات کو بڑی ہنر مندی سے خلق کرتا ہے۔

یہ ناول ولندیزی نوآبادیات سرینام، ولندیز اور ہندوستان کے مثلث سے ترتیب پاتاہے۔ ناول کے مرکزی کردار، راج اور لکشمی ہیں اور دیگر کردار رمضان، رام لال، دین محمد، بدھو سنگھ، دہنی بخش، حسن لالہ، پرمود، جمیلہ او ر چمپا کے ہیں ۔ یہ کردار ناول کی داستان کو دلچسپ ہی نہیں بلکہ مختلف ذہن سے انسانی ہیّت اور مزاج کے تحت اس کی کہانی کو مختلف رنگوں سے سنوارتے ہیں۔ ناول میں ہندوستان کے علاقے بہار اور مشرقی یوپی سے بھرتی ہونے والے محنت کشوں کی کہانیاں بکھری ہیں جن کو سرینام میں غلاموں کی جگہ کاشت کاری کرنے کے لئے لایا گیا تھا ۔ غلاموں کو آزادی کے اعلان کے بعد اب مزید دس سال سرینام کے کافی اور گنّے کے کھیتوں میں کام کرنے کے بعد آزادی کا پروانہ حاصل کرنا تھا ۔ صدیوں کی غلامی کے بعد ان غلاموں کا دل بیگاری سے اکتا گیا تھا۔ کھیتی باڑی میں ان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے سرینام کی کافی اور شکر کی پیداوار میں مسلسل کمی ہورہی تھی۔ چنانچہ ولندیزی نو آبادیات کے انگریز نو آبادیاتی دوستوں نے ان کو ہندوستانی محنت کش مہیا کرکے اس بحران سے نکالا۔ 1873 سے 1916 تک ہندوستانی مزدور جنوبی امریکہ کی اس ولندیزی نو آبادیات کو بھیجے گئے۔ ان مزدوروں کی اکثریت کا تعلق بہار اور مشرقی یوپی سے تھا۔ کچھ برسوں بعد ان مزدورں کو زمین خریدنے اور سرینام میں کاروبار کرنے کے حقوق حاصل ہو گئے تھے، اور کچھ نسلوں بعد ان کو ولندیزی شہریت کے حقوق بھی حاصل ہو گئے۔ دسمبر 1982 کے فوجی انقلاب میں بہت سے ہندوستانی نژاد سیاست دانوں کو قتل کردیا گیا تو ہندوستان کے لوگوں کی ہالینڈ کی جانب ہجرت میں اضافہ ہو گیا۔ اس وقت بھی ہندوستانی نژاد سرینامی ، سرینام کی حکومت میں کئی وزارتوں پر فائز ہیں” {“نو آبادیاتی پس منظر میں لکھے ناول کا مطالعہ”،تحریر احمد سہیل منگل 14 / فروری / 2017، ‘ کاروان’ بلاگر}

Advertisements
merkit.pk

ڈاکٹر محمد آصف نے زمرے میں اپنی کتاب ” اقبال اور نیا نوآبادیاتی نظام” { “مابعد نو آبادیاتی سیاق میں افکار اقبال کا مطالعہ” ۔۔۔ فکشن ہاوس ۲۰۱۹} میں پر مغز تحقیقی کام کیا ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply