• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کورونا وائرس سے ڈرنا بھی ہے اور اس کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔۔غیور شاہ ترمذی

کورونا وائرس سے ڈرنا بھی ہے اور اس کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔۔غیور شاہ ترمذی

کورونا وائرس ہرگز کوئی نیا وائرس نہیں ہے۔ سنہ 1980ء کی دہائی میں آسٹریلیا کی ایک لیبارٹری میں موسمی فلو پر کام کرتے ہوئے اس وائرس کا پتہ چلا تھا مگر یہ وائرس جانوروں تک ہی محدود تھا۔ سارس سویئر ایکویٹ ریسپائٹریٹری سینڈروم اور میرس مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم نامی بیماریاں بھی کورونا وائرس کی فیملی سے ہی ہیں- ۔ یہ بیماری چمگادڑوں سے شروع ہوئی اور بلیوں سے ہوتی ہوئی انسانوں تک پہنچی تھی۔ سارس کی وباء نے چین میں سال 2002ء کے دوران 774 افراد کو ہلاک کیا تھا جبکہ 8 ہزار سے زائد لوگ اس بیماری سے متاثر ہوئے تھے۔ حالیہ کورونا وائرس بھی اُسی پرانے اور ابتدائی کورونا وائرس کی 7 ویں قسم ہے اور اب تک اس میں سائنسدانوں نے کوئی تبدیلی نہیں دیکھی۔ کورونا وائرس کی شروعات میں کئی کیسوں میں ایسے لوگ شکار ہوئے جو چین کے صوبہ ووہان میں ایسے بازاروں سے منسلک تھے جہاں جانوروں کا گوشت ملتا تھا۔ چین میں کئی لوگ جانوروں سے بہت قریب ہوتے ہیں یا انہیں رغبت سے کھاتے ہیں جن سے یہ وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔ چین کے گنجان آباد شہروں کا مطلب ہے کہ یہ بیماریاں آسانی سے پھیل سکتی ہیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ غیر متوقع طور پر نہایت کم رہا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے پہلے سے ہی ریڈ الرٹ جاری کیے ہوئے ہیں اور تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر کورونا وائرس سے شدید متاثرہ ممالک سے آنے اور جانے کی پابندی، ملک کے تمام بڑے شہروں کے منتخب ہسپتالوں میں آئیسولیشن وارڈز کا قیام، طبی عملے کی تربیت اور عامۃ الناس میں کورونا کے بارے میں جانکاری مہیا کرنا۔ خوشی اور اطمینان کی بات ہے کہ کورونا وائرس کے معاملہ میں کوئی بھی جماعت سیاست نہیں کر رہی کیونکہ شاید سب کو معلوم ہے کہ اگر پاکستان میں یہ وبا پھیلی تو ہم کبھی بھی اس سے ہونے والی ہلاکتوں پر قابو نہیں پا سکیں گے۔ جب امریکہ، چین، جاپان، اٹلی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی اس پر قابو پانے میں ابھی تک ناکام ہیں تو ہمیں بھی زیادہ خوش فہمیاں نہیں پالنی چاہئیں۔ دوسری طرف ہمارے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کورونا وائرس کی تشخیص کیسے کی جا سکتی ہے۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں شروع میں ہمارا گلہ خراب ہو گاجو 3/4 دنوں تک چلے گا۔ اس کے بعد ہمارے ناک میں ایک مادہ بنے گا جو سانس کی نالی میں داخل ہو جائے گا جہاں سے وہ پھیپھڑوں میں پہنچ جائے گا۔ اس مرض کو نمونیہ کہتے ہیں جس میں مریض 5/6 دنوں تک شکار رہے گا۔ جیسے ہی نمونیہ زیادہ ہوتا جائے گا ویسے ہی بخار بھی بڑھتا جائے گا اور سانس لینے میں مشکل ہوتی جائے گی۔ اس مرض میں ناک ویسے بند نہیں ہوگی جیسی عام نزلہ زکام میں ہوا کرتی ہے بلکہ مریض کو ایسا محسوس ہو گا کہ وہ ڈوب رہا ہے۔ بہت ضروری ہے کہ ایسی علامات ظاہر ہوتے ہی ہمیں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور روایتی ٹوٹکوں سے یکسر گریز کرنا چاہیے۔

ہمارے سادہ دیہاتی اور سائنس سے دور ہم وطنوں کی خدمت میں عرض ہے کہ خدارا سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ چین سے شروع ہونے کے بعد کورونا وائرس تیزی سے دنیا بھر میں پھیلا اور آج پوری دنیا اس کے بارے میں خوف کا شکار ہے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق کورونا وائرس سے جو ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، اُن میں چین میں 80,956، اٹلی میں 10,149، ایران میں 9,000، جنوبی کوریا میں 7,755، فرانس میں 1,784، سپین میں 1,695، جرمنی میں 1,565، امریکہ میں 1,025، جاپان میں 581 اور سوئٹزرلینڈ میں 491 افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ دنیا بھر کے حکمران کورونا وائرس کی ہولناکیوں سے گبھرائے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر جرمن چانسلر آنجیلامیرکل نے خبردار کیا ہے کہ ماہرین کو خدشہ ہے کہ جرمنی کی 60 سے 70 فیصد آبادی کورونا وائرس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں جبکہ اس کا کوئی علاج موجود نہیں حکومتوں کو اس کا پھیلاؤ روکنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب وائرس موجود ہو اور عوام کے پاس اس کا علاج نہ ہو تو 60 سے 70 فیصد آبادی متاثر ہو جائے گی‘۔ انھوں نے کہا کہ ’اس سلسلے میں وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار کم کر کے نظامِ صحت پر پڑنے والے دباؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ وقت سے جیتنے والی بات ہے‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر سنجیدہ ٹویٹس کے باوجود امریکی ریاست نیویارک کے گورنر نے اعلان کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو رکنے کے لئے شہر کے شمالی قصبے میں فوج بھیج رہے ہیں۔نیشنل گارڈ نیو روچیل کے علاقے میں قرنطینہ میں رہنے والوں کے لئے خوارک مہیا کریں گے۔ یہاں کا ایک میل کا علاقہ ’کنٹینمنٹ زون‘ (containment zone) قرار دیا گیا ہے۔ امریکہ میں اب تک کورونا کے 1000 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ صرف نیویارک میں ہی 173 کیسز ہیں، جن میں سے 108 ویسٹچیسٹر کاؤنٹی میں ہیں جہاں نیو روچیل واقع ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد مشہور سیاحتی مقامات سنسان نظر آنے لگے ہیں۔ اٹلی، جہاں یورپ کے کئی نایاب تاریخی مقامات واقع ہیں، اس وقت پورا ہی لاک ڈاؤن میں ہے۔

دنیا بھر میں آج صبح تک کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں 119,564 افراد اس مہلک وائرس کا شکار ہوئے جس میں سے 70,968 مریضوں کا کیس مکمل ہو چکا ہے جن میں سے 4,302 مریض یعنی 6% مریض جان کی بازی ہار گئے جبکہ 94% یعنی 66,666 متاثرہ مریض صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں۔ جن مریضوں کا ابھی بھی علاج چل رہا ہے، اُن کی تعداد 48,596 ہے جن میں سے 12% یعنی5,747 مریضوں کی حالت انتہائی سیریس بیان کی جا رہی ہے جبکہ 42,849 مریض یعنی 88% مریضوں کی حالت بہتر بیان کی گئی ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے 19 افراد متاثر ہوئے جن میں سے 17 مریضوں کا علاج ابھی جاری ہے جبکہ 2 مریض صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں۔ ہم ابھی تک خوش قسمت ہیں کہ ہمارے ہمسایہ ممالک میں کورونا وائرس سے چین میں 3,180 اموات ہوئیں جبکہ ایران میں 417 اموات ریکارڈ ہو چکی ہیں مگر یہ بہت بڑی خوش قسمتی ہی ہے کہ ہم ابھی تک کورونا کی ہولناکیوں سے کافی حد تک محفوظ ہیں۔ اگر قارئین کورونا وائرس کی ہولناکیوں اور نقصانات کے بارے میں تازہ ترین معلومات لینا چاہیں تو وہ مندرجہ ذیل ویب سائیٹ سے یہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

https://www.worldometers.info/coronavirus/

وزیر اعظم عمران خاں کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کہتے ہیں کہ پچھلے 2 دنوں کے دوران ملک بھر میں نوبل کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد دگنی ہو چکی ہے اور یہ کچھ حیرت انگیز اس لئے نہیں ہے کہ یہ خطرناک وائرس اس وقت دنیا بھر کے 106 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے جس میں ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ، جاپان، اٹلی، برطانیہ اور یورپ کے کئی ممالک بھی شامل ہیں۔ چین کے بعد جس ملک میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں وہ مغربی یورپ کا ملک اٹلی ہے۔ کورونا وائرس کی ہولناکی کے بارے جاننے کے لئے یہی کافی ہے کہ امریکہ، برطانیہ، جاپان، اٹلی وغیرہ میں بھی اس سے ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اس وائرس کے علاج کے لئے ویکسین یا مؤثر دوا ایجاد نہیں ہو سکی۔ تاہم اس کے لئے ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے اور امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اس کی دوا انسانوں پر آزمانی شروع کر دی جائے گی۔ فی الحال اس کا علاج بنیادی طریقوں سے کیا جا رہا ہے جس میں مریض کے جسم کو فعال رکھ کر، سانس میں مدد فراہم کی جاتی ہے، تاوقتیکہ ان کا مدافعتی نظام اس وائرس سے لڑنے کے قابل ہو جائے۔ دنیا بھر کے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے خلاف پہلے سے موجود اُن دواؤں کا استعمال شروع ہے جو کسی بھی وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں دی جاتی تھٰ تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ دوائیں کورونا پر بھی کوئی اثر رکھتی ہیں۔

کورونا وائرس کا مقابلہ کیسے کیا جائے:۔

کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے اسے سمجھنا بہت ضروری ہے اور یاد رکھیں کہ اس تیزی سے بدلتے موسم میں ہونے والے ہر نزلہ، زکام، بخار وغیرہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کورونا وائرس کا نتیجہ ہے۔

1۔ اگر آپ کی ناک بہہ رہی ہے اور تھوک آ رہا ہے تو یہ موسمی مسئلہ ہے۔ ایسے لوگوں کے قریب مت جائیں جو کھانس رہے ہوں، چھینک رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو۔ ان کے منہ سے وائرس والے پانی کے قطرے نکل سکتے ہیں جو کہ فضا میں ہو سکتے ہیں۔ ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر یعنی تین فٹ کا فاصلہ رکھیں۔

2۔ کورونا وائرس نمونیہ جیسا مرض ہے جس میں خشک کھانسی تو ہوتی ہے لیکن ناک نہیں بہتی۔ اگر طبیعت خراب محسوس ہو تو گھر میں رہیں۔ اگر بخار ہو، کھانسی یا سانس لینے ں می دشواری تو فوری طبی مدد حاصل کریں اور طبی حکام کی ہدایت پر عمل کریں۔

3۔ کورونا وائرس کو سورج سے شدید نفرت ہے اور یہ گرمی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لئے جیسے ہی درجہ حرارت 26/27 ڈگری سینٹی گریڈز یا 80 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچا، یہ وائرس اپنی موت آپ مر جائے گا۔

4۔ کورونا وائرس کا شکار مریض جب چھینکتا ہے تو اس چھینک کے ذریعہ باہر نکلنے والا وائرس 10 فٹ تک ہوا میں تیر سکتا ہے۔ اس کے بعد یہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ احتیاط یہ ہے کہ کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ڈھانپیں۔ منہ ڈھانپنے کے لئے بہتر ہوگا کہ کپڑے کے رومال کی بجائے ٹشو کا استعمال کیا جائے۔ کھانسنے یا چھنکنے کے فوری بعد اپنے ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس پھیل نہ سکے۔

5۔ ہوا میں تیرتا ہوا یہ وائرس اگر کسی دھات پر گر جائے تو یہ اُس کی سطح پر زیادہ سے زیادہ 12 گھنٹوں تک زندہ رہ سکتا ہے، اس کے بعد یہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔ اس لئے کورونا وائرس کے شکار ممالک سے آنے والے اشیاء کے کور اور پیکنگ پر کورونا وائرس کے اثرات نہیں ہوں گے۔ زیادہ سے زیادہ جراثیم کا خاتمہ کرنے والی صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھو لیں۔

6۔ کپڑوں پر کورونا وائرس کے اثرات زیادہ سے زیادہ 6 گھنٹوں سے 12 گھنٹوں تک رہ سکتے ہیں۔ ایسے کپڑے کو عام کپڑے دھونے والے پاؤڈر یعنی ڈیٹرجنٹ سے دھو لیں تو کورونا وائرس کے اثرات ختم ہو جائیں گے۔

7۔ نیم گرم پانی پینے سے جسم میں موجود تمام وائرس ختم ہونے کے امکانات ہوتے ہیں اس لئے برف والا پانی پینے کی بجائے نیم گرم پانی پینے کی عادت کو مستقل طور پر اپنائیے۔ زیادہ سے زیادہ پانی پینے کی عادت آپ کی عمومی صحت کے لئے بھی مفید ہے۔

8۔ کسی بھی سطح کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے یہ آپ کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ اپنے ہاتھوں کو اکثر دھوتے رہیے کیونکہ کوئی بھی وائرس زیادہ سے زیادہ 5 سے 10 منٹوں تک آپ کے ہاتھ پر زندہ رہ سکتا ہے مگر اس دوران آپ غیر ارادی طور پر اپنی آنکھوں یا ناک کو کھجا سکتے ہیں اس لئے بار بار صابن سے ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنائیے۔

9۔ احتیاطی طور پر غرارے کرنے کی عادت اپنائیے۔ نیم گرم پانی میں تھوڑا سا نمک ملاکر غرارے کرنے سے تسلی بخش نتائج مل سکتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

یہ درست ہے کہ کورونا وائرس موسم سرما میں سردی اور فلو کی وجہ سے زیادہ تیزی سے پھیلا۔ یہ بھی امکان ہے کہ موسم میں تبدیلی اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دے گی۔تاہم یہ بھی یاد رہے کہ سارس کی طرح کورونا وائرس کی فیملی میں موجود (7) طرح کے وائرسز میں سے ایک وائرس ’مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم‘ گرمیوں میں سعودی عرب میں  پھیلتا ہے۔ اس لئے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ گرمیاں اس وباء کو مکمل روک دیں گی۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم کورونا وائرس کی ہولناکیوں سے مکمل ظور پر آگاہ رہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام احتیاطی تدابیر کی پیروی کریں۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply