باصلاحیت انسان بے صلاحیت کیوں ہیں؟۔۔شجاعت بشیر عباسی

صلاحیت نعمت خداوندی ہوتی ہے آج تک جس انسان نے بھی نام کمایا وہ اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کا ادراک حاصل کرنے کے بعد ہی اس بھری پڑی دنیا میں لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا
قدرت کے دربار سے عدم مساوات کی توقع ایک بے معنی سی بات ہو گی لہذا صلاحیتوں کو ہم اگر نعمت خداوندی کہتے مانتے ہیں تو پھر یہ ہر انسان میں ہونی چاہیے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہر انسان میں قدرت کی عطا کردہ صلاحتیں موجود ہیں تو پھر ہر انسان اپنے پروفیشن سے مطمئن اور اس میں کامیاب کیوں نہیں؟
ہمیں کسی بھی دوسرے کامیاب انسان کو دیکھ کر محرومیت اور یاسیت کادورہ کیوں پڑنے لگتا ہے؟
ہمارے دلوں میں بار بار مختلف پروفیشنلز کو دیکھتے ہی ان جیسا بننے کی خواہش فوراً کیوں زور پکڑنے لگتی ہے؟
میں اپنی بات سمجھانے کے لیے ایک مثال دینے کی کوشش کرتا ہوں۔۔
مثال کے طور پر ایک شخص جس کا نام فیروز ہے،فیروز ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور اپنے معمولات زندگی میں ہر روز مختلف لوگوں سے ملتا ہے ایک دن اس کی ملاقات ایک مشہور سیاستدان  سے ہوئی ،جو اپنے مداحوں میں گھرا ہوا تھا، زندہ باد کے نعروں کی گونج سے متاثر ہوتے ہوئے فیروز کے دل میں فوراً پالیٹیشن بننے کی خواہش زور پکڑنے لگی لیکن ایسا ہونا ناممکن تھا کہ وہ اس سیاستدان کی طرح راتوں رات شہرت حاصل کر سکے،کچھ دن اسی کفیت میں مبتلاء رہنے کے بعد اس کی ملاقات ایک دن اچانک ایک تقریب میں مشہور کرکٹر سے ہو گئی جسے تقریب میں موجود ہر فرد کی بھرپور توجہ حاصل تھی اس کرکٹر سے ہوئی اس ملاقات کے بعد فیروز کے ذہن سے سیاستدان بننے کی سوچ تو محو ہو گئی لیکن اب فیروز کرکٹر بننے کے خواب دیکھنے لگا حتی کہ  وہ ایک دو بار گراؤنڈ سے بھی ہو آیا،اسی دوران ایک سینما ہاؤس میں اپنے دوستوں کے ساتھ اس کا جانا ہوا،
فلم اچھی تھی ،شارخ خان کی اداکاری کمال کی تھی اس اداکاری نے اسے اس قدر متاثر کیا کہ بجائے شارخ کو داد دینے کے وہ خود اداکار بننے کی سوچنے لگا اگلے کئی دن میں اس نے درجنوں فلمیں دیکھ ڈالیں دن رات خود کو ہیرو کے روپ میں سوچتے گزرنے لگے، گراؤنڈ میں جا کر کرکٹر بننے کے بجائے بستر میں گھس کر اپنی خیالی دنیا میں ہیرو کے تصور میں وقت صَرف ہونے لگا۔
وقت ابھی ایسا ہی گزر رہا تھا کہ ایک دن سرِ  راه اسکی ملاقات اپنے کالج فیلو سے ہو گئی، دعا سلام کے بعد وہ اسے ایک ریستوران لے گیا اور چائے آرڈر کرنے کے بعد اس نے اپنے دوست سے اسکے پروفیشن کے بارے میں سوال کیا تو اسکے دوست نے اسے بتایا کہ وہ ایک فیشن ڈیزائنر ہے یہ سنتے ہی پھر سے وہی سلسلہ چل نکلا
اپنی انہی عادات کیساتھ فیروز نے بیس سال گزار دیے وہ اپنے ان قیمتی بیس سالوں میں چاہنے کے باوجود نہ  توسیاستدان بن سکا نہ ہی کرکٹر، ایکٹر اور فیشن ڈیزائنر کے خواب تعبیر پا سکے کیونکہ ان میں ہر پروفیشن کے بارے میں فیروز نے بہت سوچا لیکن اس نے ایکبار بھی اپنے اندر جھانکنے کی کوشش نہیں کی کہ کیا وہ اس پروفیشن کے لیے پرفیکٹ ہے کہ نہیں اس نے ہمیشہ دوسروں کے بارے میں سوچا لیکن کبھی تنہائی میں بیٹھ کے اپنی شخصیت کو نہیں سمجھا، نتیجتاً فیروز آج بھی وہیں کھڑا ہے۔

اس مثال سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہر شخص کو اپنے گول اپنے ٹارگٹ خود سیٹ کرنا ہوں گے اور ہر فیلڈ میں گھسنے سے اجتناب برتنا ہو گا اور جوصلاحتیں دوسروں میں موجود ہیں انہیں تسلیم کرنا ہو گا نا کہ ان کی فضول چاہ میں اپنا وقت برباد کیا جائے ورنہ پوری زندگی لاحاصل سعی میں گزر جائے گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *